عالمی خبریں

ایران-امریکہ امن معاہدہ: حتمی مذاکرات جمعہ سے شروع ہوں گے، ایرانی وزیر خارجہ

سید عباس عراقچی نے اعلان کیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان حتمی امن معاہدے پر مذاکرات کا نیا دور جمعہ سے شروع ہوگا۔ جنگ بندی، پابندیوں اور جوہری پروگرام سمیت اہم امور پر بات چیت جاری رہے گی

<div class="paragraphs"><p>ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی / آئی اے این ایس</p></div>

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی / آئی اے این ایس

 
Sha Dati

تہران: ایران اور امریکہ کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی کے خاتمے اور امن کے قیام کی کوششوں میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اعلان کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان حتمی امن معاہدے پر مذاکرات کا نیا مرحلہ جمعہ سے شروع ہوگا، جس سے خطے میں پائیدار استحکام کی امیدیں مزید مضبوط ہو گئی ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے تہران میں غیر ملکی سفارت کاروں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ایران اور امریکہ جنگ کے خاتمے سے متعلق ایک مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دے چکے ہیں۔ توقع ہے کہ اس دستاویز پر جمعہ کے روز باضابطہ دستخط کیے جائیں گے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان حتمی معاہدے کی راہ مزید ہموار ہوگی۔

Published: undefined

سید عباس عراقچی کے مطابق مذاکرات کو دو مرحلوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے بعد پیدا ہونے والی پیچیدہ صورتحال کے باعث متعدد حساس معاملات کو مرحلہ وار انداز میں نمٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ان کے مطابق پہلے مرحلے میں جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز میں صورتحال، ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی، ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی اور جنگ سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو جیسے اہم موضوعات پر اتفاق رائے حاصل کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں تیار کی گئی مفاہمتی یادداشت دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کی جانب ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔

Published: undefined

ایرانی وزیر خارجہ نے بتایا کہ دوسرے مرحلے میں آئندہ ساٹھ دنوں کے دوران ایران کے جوہری پروگرام اور ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے جیسے بنیادی اور حساس امور پر تفصیلی مذاکرات کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان معاملات کا حل دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کے لیے ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس پورے عمل کا سب سے اہم پہلو جنگ کے خاتمے کا اعلان ہے۔ ان کے مطابق معاہدے کو حتمی شکل دیے جانے کے بعد پیر کی صبح جنگ بندی کا اعلان کر دیا گیا تھا، تاہم مفاہمتی یادداشت باضابطہ طور پر جمعہ سے نافذ العمل ہوگی۔

Published: undefined

سید عباس عراقچی نے مزید کہا کہ لبنان کی صورتحال کو بھی اس امن عمل کا حصہ بنایا گیا ہے۔ ان کے مطابق لبنان میں جنگ کا خاتمہ اور وہاں سے اسرائیلی فوج کے انخلا کو امن معاہدے کا لازمی جزو تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک لبنانی علاقوں سے اسرائیلی افواج مکمل طور پر واپس نہیں جاتیں، امن عمل کو مکمل تصور نہیں کیا جا سکتا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ آئندہ لبنان پر اسرائیل کی کسی بھی فوجی کارروائی یا قبضے کو امن معاہدے کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔ یاد رہے کہ امریکہ، پاکستان اور ایران نے کئی ہفتوں کے مذاکرات کے بعد جنگ کے خاتمے سے متعلق مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دینے کا اعلان کیا تھا، جس پر جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں رسمی دستخط متوقع ہیں۔

Published: undefined