عالمی خبریں

آبنائے ہرمز پر کشیدگی: ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف کی امریکہ کو سخت تنبیہ، کہا- ’ہم نے تو ابھی شروعات بھی نہیں کی‘

ایران اور امریکہ کے درمیان آبنائے ہرمز پر کشیدگی لگاتار جاری ہے۔ ایران نے امریکی جہازوں کو خبردار کیا جبکہ دونوں ممالک ایک دوسرے پر حملوں کے الزامات عائد کیے، حالات سنگین رخ اختیار کر رہے ہیں

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>

آئی اے این ایس

 

تہران: ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جہاں ایرانی بحریہ کی سرگرم نگرانی اور امریکی بحری نقل و حرکت کے باعث حالات مزید نازک ہو گئے ہیں۔ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی جنگی جہازوں نے جب آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کی کوشش کی تو ایرانی بحریہ نے انہیں خبردار کرنے کے لیے فائرنگ کی۔ اس کے ساتھ ہی ایران نے الزام عائد کیا کہ امریکہ نے اس کی شہری کشتیوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں پانچ شہری ہلاک ہو گئے۔

Published: undefined

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات میں شامل اہم شخصیت محمد باقر قالیباف نے سخت لہجے میں کہا کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود ایران نے ابھی تک اپنی مکمل طاقت کا استعمال نہیں کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی کارروائیاں خطے میں جہازرانی کے لیے خطرہ بن رہی ہیں لیکن ایران اس صورتحال سے بخوبی واقف ہے اور مناسب وقت پر مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

Published: undefined

دوسری جانب امریکہ نے ایرانی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا وہ ایران کی پاسداران انقلاب سے وابستہ تھیں۔ امریکی حکام کے مطابق ان کشتیوں کی سرگرمیاں مشتبہ تھیں اور وہ خطے میں امریکی مفادات کے لیے خطرہ بن سکتی تھیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ بریڈ کوپر نے بتایا کہ ایرانی فورسز نے امریکی نگرانی میں موجود جہازوں پر کروز میزائل، ڈرون اور چھوٹی کشتیوں کے ذریعے حملے کی کوشش کی، جسے بروقت ناکام بنایا گیا۔

Published: undefined

کوپر کے مطابق امریکی افواج نے چھ ایرانی کشتیوں کو تباہ کیا اور متعدد میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں ہی روک دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی بحری جہازوں کو محفوظ رکھنے کے لیے اپاچی اور ایم ایچ ساٹھ سی ہاک ہیلی کاپٹروں کا استعمال کیا گیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق یو ایس ایس ٹرکسٹن اور یو ایس ایس میسن نامی جنگی جہازوں نے شدید خطرات کے باوجود آبنائے ہرمز عبور کر کے خلیجی پانیوں میں داخل ہونے میں کامیابی حاصل کی۔

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے امریکی دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے اس دوران کوئی تجارتی جہاز یا تیل بردار ٹینکر نہیں گزرا۔ ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ خطے میں کشیدگی کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے تاکہ اپنی عسکری موجودگی کو جواز فراہم کر سکے۔

Published: undefined

یہ کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی تھی جب 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے دارالحکومت تہران سمیت کئی شہروں پر مشترکہ حملے کیے تھے۔ اس کے بعد ایران نے امریکہ اور اسرائیل سے منسلک سمندری راستوں پر پابندیاں عائد کر دی تھیں، جس کے اثرات اب بھی جاری ہیں۔

ادھر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران کی حالیہ کارروائیاں بڑے پیمانے کی نہیں تھیں اور انہیں جنگ بندی کی خلاف ورزی نہیں کہا جا سکتا۔ تاہم ماہرین کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیاں کسی بڑے تصادم کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined