
فوٹو @araghchi
آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی سیکورٹی کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایران نے واضح الفاظ میں برطانیہ اور فرانس کے اس مشترکہ مشن کی مخالفت کی ہے جس کا مقصد جنگ کے خاتمے کے بعد اس خطے میں میریٹائم سیکورٹی کو مضبوط کرنا ہے۔ خلیج فارس میں تجارتی بحری جہازوں پر حالیہ حملوں نے اس کشیدگی کو مزید ہوا دی ہے۔
Published: undefined
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا کے ذریعے ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں فرانسیسی اور برطانوی جہازوں کی موجودگی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی تصور کی جائے گی۔ غریب آبادی کے مطابق اگر یہ ممالک امریکہ کے کسی بھی غیر قانونی اقدام میں تعاون کرتے ہیں اور ایک قدم بھی آگے بڑھاتے ہیں تو ایرانی مسلح افواج فوری اور فیصلہ کن جواب دیں گی۔
Published: undefined
ایران کے سخت موقف کے درمیان فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے صورتحال کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ میکرون نے کہا کہ یہ کوئی فوجی تعیناتی نہیں ہے۔ انہوں نے اسے ایک بین الاقوامی مشن کے طور پر بیان کیا جس کا مقصد حالات موافق ہونے پر جہاز رانی کے راستوں کو محفوظ بنانا ہے۔ تاہم خطے میں سیکیورٹی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
Published: undefined
خلیج فارس میں بڑھتے ہوئے حملوں کے درمیان امریکہ نے بھی تجارتی بحری جہازوں کی رہنمائی کے لئے اپنے مشن کو فی الحال روک دیا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی تیل کی سپلائی کے لیے سب سے حساس راستہ ہے جہاں اب ایران اور مغربی ممالک کی بحریہ آمنے سامنے کھڑی نظر آرہی ہیں۔ دریں اثنا، جنوبی کوریا نے گزشتہ ہفتے اپنے جہاز پر ہوئے حملے کی تحقیقاتی رپورٹ شیئر کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جب جہاز آبنائے میں لنگر انداز تھا، تبھی 2 نامعلوم اڑنے والی آلات نے ایک منٹ کے فرق پر اس پر حملہ کیا۔ اس حملے سے جہاز میں زبردست دھماکہ ہوا اور آگ لگ گئی تھی۔ فی الحال کسی بھی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined