
سوشل میڈیا
مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھنے کے درمیان ایران نے امریکہ کو یمن پر کسی بھی ممکنہ حملے کے حوالے سے سخت وارننگ دی ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کے فوجی افسر لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے کہا ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے یمن پر حملہ کیا تو باب المندب کا راستہ امریکہ کے لیے بند کر دیا جائے گا۔
ذوالفقاری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ یمن پر حملے کی صورت میں امریکی شہریوں کی جان خطرے میں پڑ سکتی ہے اور مغربی ممالک کو معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یمن پر حملہ ہوتے ہی باب المندب امریکہ کے لیے بند کر دیا جائے گا اور اس کے نتیجے میں مغرب میں غربت بڑھ سکتی ہے۔
باب المندب بحیرۂ احمر اور خلیج عدن کو ملانے والا ایک اہم سمندری راستہ ہے۔ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اس کی اہمیت انتہائی زیادہ ہے۔ اس راستے سے تیل، گیس اور مختلف تجارتی سامان کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس کے بند ہونے کی صورت میں عالمی بحری تجارت اور سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے درمیان اتوار کو خطے کے 10 ممالک میں موجود امریکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کے لیے سکیورٹی الرٹ جاری کیا۔ اسلامی جمہوریہ ایران براڈکاسٹنگ (آئی آر آئی بی) کے مطابق لبنان، بحرین، کویت، اردن، قطر، عراق، اسرائیل، عمان، سعودی عرب اور ترکی میں امریکی سفارتی مشنز نے سکیورٹی سے متعلق ضروری ہدایات جاری کی ہیں۔
عراق میں امریکی سفارت خانے اور قونصل خانے نے بھی موجودہ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر امریکی شہریوں کو زیادہ محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ انہیں ممکنہ پروازوں کی منسوخی، فضائی حدود بند ہونے اور سفر میں رکاوٹ جیسے حالات کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ممکنہ خطرات کے پیش نظر ایران نے بھی سکیورٹی الرٹ کی سطح بڑھا دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق آئی آر جی سی، ایرانی فوج اور دیگر سکیورٹی فورسز کے لیے ’کوڈ 100‘ جاری کیا گیا ہے، جسے ملک کے اعلیٰ ترین الرٹ لیول میں شمار کیا جاتا ہے۔
امریکی سفارتی ہدایات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک ماضی میں سعودی عرب کے خلاف حملوں میں حصہ لے چکی ہے، جن میں شہری ہوائی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔ امریکی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ فوجی کشیدگی تیزی سے وسیع ہو سکتی ہے۔
امریکی شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ خطے میں آمد و رفت کے دوران ہوائی اڈوں اور ایئر لائنز کی جانب سے جاری ہونے والی تازہ معلومات پر مسلسل نظر رکھیں۔ امریکی حکام نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ امریکی سفارتی تنصیبات کے ساتھ ساتھ خطے سے باہر موجود امریکی مفادات، کمپنیوں اور دیگر اداروں کو بھی ممکنہ خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔