
آئی اے این ایس
تہران: ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جاری کشیدگی کے درمیان خلیجی ممالک، خصوصاً بحرین اور متحدہ عرب امارات کے ہوٹل مالکان کو سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انہوں نے امریکی فوجی اہلکاروں کو قیام کی سہولت فراہم کی تو ایسی عمارتوں کو جائز فوجی ہدف تصور کیا جا سکتا ہے۔
Published: undefined
ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق، حالیہ ایرانی حملوں اور اس کے اتحادی گروہوں کی کارروائیوں کے بعد امریکی فوج نے خطے کے مختلف ہوٹلوں اور شہری عمارتوں میں عارضی پناہ لینا شروع کر دی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے بعد اہلکار محفوظ مقامات کی تلاش میں شہری علاقوں کا رخ کر رہے ہیں، جس پر ایران نے شدید اعتراض کیا ہے۔
دوسری جانب، خبر رساں ایجنسی شنہوا کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایران کی یہ وارننگ صرف مخصوص ہوٹلوں تک محدود نہیں بلکہ ان تمام مقامات پر لاگو ہوتی ہے جہاں غیر ملکی فوجی اہلکاروں کو رہائش یا سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ اگر یہ عمل جاری رہا تو اس کے نتائج فوری اور سنگین ہو سکتے ہیں۔
Published: undefined
رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ امریکی فوجی اہلکار مختلف شہری مقامات، جن میں بیروت کے پرانے ہوائی اڈے کے قریب ایک لاجسٹک مرکز اور دمشق کے ریپبلک پیلس سمیت چند بڑے ہوٹل شامل ہیں، میں سرگرم ہیں۔ ایران کے مطابق یہ طرز عمل نہ صرف بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ مقامی آبادی کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے۔
اس سے قبل ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے بھی اسی نوعیت کا بیان دیتے ہوئے خلیجی ممالک کے ہوٹل مالکان سے اپیل کی تھی کہ وہ امریکی فوجیوں کو ٹھہرانے سے گریز کریں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکی اہلکار اپنے فوجی اڈوں کو چھوڑ کر شہری علاقوں میں منتقل ہو رہے ہیں اور مقامی لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
Published: undefined
عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے امریکی فوجیوں کی یہ حکمت عملی مسلسل جاری ہے، جو خطے میں مزید عدم استحکام کا باعث بن رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جیسے امریکہ میں خطرناک افراد کو ہوٹلوں میں ٹھہرنے کی اجازت نہیں دی جاتی، ویسے ہی خلیجی ممالک کو بھی محتاط رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
واضح رہے کہ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی 28 فروری سے شدت اختیار کیے ہوئے ہے۔ دونوں جانب سے حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے، جس میں فوجی شخصیات کے ساتھ بڑی تعداد میں عام شہری بھی متاثر ہوئے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں ایران کا یہ تازہ انتباہ خطے میں جاری تنازع کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined