امریکہ-ایران جنگ، قومی آواز گرافکس
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات میں اب ایران کے منجمد کئے گئے پیسوں کا معاملہ سب سے اہم مسئلہ بن گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے صاف کر دیا ہے کہ قطر میں جمع اس کے 12 ارب ڈالر (تقریباً 11.45 لاکھ کروڑ روپئے) اسے ملنے چاہئیں، اس کے بغیر وہ امریکہ کے ساتھ کسی معاہدے پر آگے نہیں بڑھے گا۔ ایران انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق ایک ذریعے نے بتایا کہ قطر میں رکھے گئے یہ 12 ارب ڈالر ایران کی پہلی اور سخت شرط ہے۔ اس سے پہلے مانا جا رہا تھا کہ آبنائے ہرمز اور یورینیم کے معاملے پر ایران کے سخت رُخ کی وجہ سے معاہدہ نہیں ہو پارہا ہے۔
Published: undefined
دراصل ایران چاہتا ہے کہ امریکہ کے ساتھ شروعاتی سمجھوتے یعنی میمورنڈم آف انڈر اسٹینڈنگ (ایم اویو) کے پہلے مرحلے میں ہی اسے اس پیسے تک پوری رسائی حاصل ہو۔ تبھی آگے کی بات چیت جاری رہے گی۔ ذرائع نے یہ بھی کہا کہ یہ 12 ارب ڈالر صرف شروعاتی رقم ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں اس کے جتنے بھی اثاثے اور فنڈز منجمد کئے گئے ہیں، انہیں کسی حتمی سمجھوتے کے تحت پوری طرح جاری کیا جانا چاہئے۔
Published: undefined
ایران کے اسلامک ریوولیوشنری گارڈ کارپس (آئی آر جی سی) سے متعلق ’تسنیم نیوز‘ نے بتایا کہ امریکہ اور ایران کے در میان ہونے والے ممکنہ سمجھوتے کی کچھ شرائط پر ابھی بھی تنازع برقرار ہے۔ ’تسنیم نیوز‘ کے مطابق ایران چاہتا ہے کہ شروعاتی سمجھوتے کے پہلے قدم میں ہی اس کی منجمد شدہ رقم کا کم سے کم ایک حصہ جاری کیا جائے۔ ایران نے یہ بھی کہا ہے کہ صرف پیسہ ریلیز کرنے کا اعلان کافی نہیں ہوگا بلکہ اسے اس رقم کا استعمال کرنے کا مکمل اختیار بھی ملنا چاہئے۔
Published: undefined
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ ان پیسوں کے اجرا کو حتمی جوہری سمجھوتے سے جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن ایران کا اصرار ہے کہ ایم او یو شروع ہوتے ہی کچھ رقم جاری کردی جائے اور باقی رقم کو بات چیت کے دوران آہستہ آہستہ جاری کرنے کا طریقہ طے کیا جائے۔ ’تسنیم نیوز‘ نے بعد میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ کچھ شرائط کو لے کر امریکہ ابھی ابھی رکاوٹ ڈال رہا ہے۔ ان میں ایران کے ضبط کئے گئے پیسے بھی شامل ہیں۔ اسی وجہ سے یہ بھی امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ پورا سمجھوتہ ٹوٹ سکتا ہے۔
Published: undefined
اس سے پہلے اپریل میں رائٹرس نے رپورٹ دی تھی کہ امریکہ، ققطر اور دیگر بینکوں میں پھنسے ایران کی 6 ارب ڈالر کی رقم جاری کرنے پر متفق ہوگیا تھا۔ یہ پیسہ جنوبی کوریا کو تیل بیچنے سے ملا تھا۔ 2023 میں قیدیوں کے تبادلے کے سمجھوتے کے بعد یہ رقم قطر کے کھاتون میں ٹرانسفر کی گئی تھی لیکن امریکی نگرانی میں اس کا استعمال صرف انسانی ضروریات کے لئے ہی کیا جاسکتا تھا۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر قومی آواز / وپن