
آئی اے این ایس
تہران: ایران نے خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی سے متعلق اقوامِ متحدہ کے حالیہ بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایران پر الزام عائد کرنا اور حملہ آور ممالک کو بین الاقوامی قانون کے تحت جوابدہ نہ ٹھہرانا غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل ہے۔ تہران نے بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں پر اپنے حالیہ حملوں کو جارحیت نہیں بلکہ قانونی حقِ دفاع قرار دیا ہے۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ صورتحال کو محض ’فوجی تصادم‘ قرار دینا درست نہیں، بلکہ یہ سلسلہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کیے گئے کھلے اور بلااشتعال حملوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں میں ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی شہید ہوئے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران کسی ملک پر حملہ نہیں کرتا بلکہ جنوبی خلیجِ فارس میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کے تحت ایران کے حقِ دفاع کا جائز استعمال ہے۔ ان کے مطابق اقوامِ متحدہ کو چاہیے کہ وہ خطے کے ان ممالک سے مطالبہ کرے کہ وہ امریکہ کو ایران کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں۔
ایرانی ترجمان نے مزید کہا کہ ایران کی خودمختاری کے دفاع کو موردِ الزام ٹھہرانا جبکہ حملہ آوروں کو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں پر جوابدہ نہ بنانا کسی بھی طرح مناسب یا منصفانہ رویہ نہیں ہے۔
انہوں نے اقوامِ متحدہ کی 1994 اور 1999 کی ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے زور دیا کہ تمام سرکاری دستاویزات میں ’خلیجِ فارس‘ کی اصطلاح ہی استعمال کی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ کے متعلقہ رہنما اصول اسی اصطلاح کے استعمال کو لازم قرار دیتے ہیں۔
یہ ردعمل ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ان کے بیان میں آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں، ایران پر امریکی کارروائیوں اور پڑوسی ممالک میں ایرانی حملوں کا بھی ذکر کیا گیا۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے اپنے بیان میں تمام فریقوں سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے، مزید کشیدگی بڑھانے والے اقدامات سے گریز کرنے اور فوری طور پر تناؤ کم کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ تمام حملے بند ہونے چاہییں اور ایران و امریکہ فوری طور پر مذاکرات دوبارہ شروع کرکے باقی تنازعات کو سفارتی ذرائع سے حل کریں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔