
ایران و امریکہ
تصویر آئی اے این ایس
ایران نے امریکہ کو آبنائے ہرمز کھولنے اور جنگ ختم کرنے کا ایک نیا آفر دیا ہے۔ حالانکہ اس نئے آفر میں جوہری پروگرام کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اس مسئلے کو بات چیت کے آئندہ مرحلے کے لیے ٹال دیا گیا ہے۔ تازہ رپورٹ میں ایک امریکی افسر اور معاملے سے وابستہ 2 ذرائع کا حوالہ دیا گیا ہے۔ امریکی میڈیا آؤٹ لیٹ ’ایکسیوس‘ کے مطابق اس آفر کا مقصد بات چیت میں موجودہ تعطل کو ختم کرنا اور ایرانی قیادت کے اندر جوہری مراعات کے دائرۂ کار کے بارے میں جاری مبینہ عدم اتفاق کو نظر انداز کرنا ہے۔
Published: undefined
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’اگر ناکہ بندی ہٹائی جاتی ہے اور پوری طرح حملے ختم ہوجاتے ہیں تو یورینیم افزودگی کے اسٹاک کو ہٹانے اور مستقبل میں افزودگی روکنے کے حوالے سے ایران کے ساتھ کسی بھی بات چیت میں صدر ٹرمپ کا اثر ختم ہوجائے گا۔ ٹرمپ کا ایران پر حملہ کرنے کا یہی مقصد رہا ہے۔ اس دوران 3 امریکی افسران کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر آج اپنی اعلیٰ قومی اور خارجہ پالیسی ٹیم کے ساتھ لڑائی پر ’سچویشن روم‘ میٹنگ کرسکتے ہیں۔ ذرائع نے ’ایکسیوس‘ کو بتایا کہ ٹرمپ کی ٹیم بات چیت میں رکاوٹ اور اگلے ممکنہ اقدامات پر بات کرے گی۔
Published: undefined
ایک روز قبل (اتوار کو) ’فاکس نیوز‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا تھا کہ وہ ایران کے تیل ایکسپبورٹ کو روکنے کے لیے بحری ناکہ بندی جاری رکھنا چاہتے ہیں جس کا مقصد آنے والے وقت میں تہران کو ہار ماننے پر مجبور کرنا ہے۔ ٹرمپ کے ’فاکس نیوز‘ کے ساتھ انٹرویو کے حوالے سے کہا گیا کہ ’’جب آپ کے سسٹم سے بہت زیادہ تیل بہہ رہا ہو اور اگر کسی وجہ سے سپلائی لائن بند ہوجاتی ہے اور تیل کو کنٹینروں یا جہازوں میں نہیں بھرا جاسکتا تو زیادہ دباؤ کی وجہ سے پائپ لائن اندر سے پھٹ سکتی ہے۔ ایسے حالات پیدا ہونے میں صرف 3 دن لگ سکتے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined