عالمی خبریں

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے ایران کا نیا کنٹرول نظام نافذ، امریکہ کو سخت انتباہ

ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام جہازوں کے لیے نیا نظام نافذ کر دیا۔ امریکہ کی بحری سرگرمیوں اور پابندیوں کے درمیان تہران نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ملکی فوجی مداخلت کا جواب دیا جائے گا

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>

آئی اے این ایس

 

تہران: ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی نقل و حرکت کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک نیا نظام نافذ کر دیا ہے، جس کے تحت اس اہم سمندری راستے سے گزرنے والے تمام جہازوں کو ایرانی حکام سے پیشگی اجازت لینا ہوگی۔ سرکاری میڈیا کے مطابق یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور سمندری راستوں پر فوجی دباؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

Published: undefined

ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق نئے ضابطوں کے تحت تمام جہازوں کو ای میل کے ذریعے ایرانی حکام سے اجازت حاصل کرنا ہوگی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جہاز رانی سے وابستہ کمپنیوں کو اپنی عملی کارروائیوں اور سفری طریقہ کار میں فوری تبدیلیاں کرنا ہوں گی تاکہ نئی ایرانی پالیسی پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ ایران نے اس اقدام کو ’خود مختار حکمرانی کا نظام‘ قرار دیا ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں ملکی نگرانی اور کنٹرول کو مزید مضبوط بنانا بتایا جا رہا ہے۔

Published: undefined

ایران نے فروری کے آخر سے اس حساس سمندری راستے پر اپنی پالیسی سخت کر دی تھی۔ تہران نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ اسرائیل اور امریکہ سے وابستہ جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم نہیں کیا جائے گا۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ فیصلہ ایرانی سرزمین پر مشترکہ حملوں کے بعد کیا گیا تھا۔ اب ایرانی پارلیمنٹ بھی ایسے قانون پر غور کر رہی ہے جس کے تحت اسرائیل اور امریکہ سے تعلق رکھنے والے جہازوں پر باضابطہ پابندیاں عائد کی جائیں گی، جبکہ دیگر غیر دشمن ممالک کے جہازوں پر ٹول یا فیس نافذ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

Published: undefined

دوسری جانب امریکہ نے بھی ایرانی بندرگاہوں کی طرف آنے اور جانے والے جہازوں پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں۔ یہ اقدامات تہران کے ساتھ جنگ بندی سے متعلق ناکام مذاکرات کے بعد سامنے آئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو فوجی نگرانی اور تحفظ فراہم کرے گا۔ امریکی انتظامیہ نے اس کارروائی کو ’آپریشن فریڈم‘ کا نام دیتے ہوئے اسے انسانی اور حفاظتی مشن قرار دیا ہے۔

Published: undefined

امریکی اعلان کے بعد ایران نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ایرانی مشترکہ فوجی ہیڈکوارٹر ’خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر‘ نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی غیر ملکی مسلح فورس، خاص طور پر امریکی فوج، آبنائے ہرمز کے قریب آنے یا داخل ہونے کی کوشش کرے گی تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined