
امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن / Getty Images
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے چوتھے روز بھی ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے مسلسل چوتھے روز ایرانی دارالحکومت تہران، ملک کے جنوبی علاقوں اور مشرقی تہران و اصفہان کے مختلف مقامات پر فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے جواب میں ایران نے بھی امریکی اور اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی جوابی کارروائی کے دوران امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ’ابراہم لنکن‘ کو چار کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی خبر رساں ادارے اِرنا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل علی محمد نائینی نے بتایا کہ یہ جہاز ایران کے جنوب مشرقی ساحلی شہر چابہار سے تقریباً 250 سے 300 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود تھا۔ ان کے مطابق میزائل حملے کے بعد امریکی طیارہ بردار جہاز کو بحر ہند کے جنوب مشرقی حصے کی طرف پیچھے ہٹنا پڑا۔
Published: undefined
ایرانی فوجی ترجمان نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کی جوابی کارروائی جسے ’آپریشن ٹرو پرامس فور‘ کا نام دیا گیا ہے، کے ابتدائی دو دنوں میں امریکی فوج کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ ان کے مطابق مختلف حملوں کے نتیجے میں 650 سے زیادہ امریکی فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکہ ان ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم ایرانی انٹیلی جنس اور میدانِ جنگ کی اطلاعات اس کی تصدیق کرتی ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے خلیج کے خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ بحرین میں قائم امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے ہیڈ کوارٹر پر متعدد حملے کیے گئے جس میں تقریباً 160 امریکی اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے۔ اسی دوران امریکی بحریہ کے ایک جنگی معاون جہاز کو بھی ایرانی میزائل حملوں میں شدید نقصان پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
Published: undefined
ادھر ایرانی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں اصفہان میں دفاعی صنعتوں کے ایک ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی میڈیا نے باخبر ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ موساد کے اہلکاروں اور خصوصی دستوں نے گزشتہ رات ایران کے اندر زمینی کارروائی بھی کی۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے حالیہ بیانات میں کہا ہے کہ ایران کے خلاف کارروائی کے سلسلے میں کسی بھی آپشن کو مسترد نہیں کیا جا سکتا، تاہم فی الحال جنگ میں زمینی افواج شامل نہیں ہیں۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی یہ اشارہ دے چکے ہیں کہ تمام ممکنہ آپشنز زیر غور ہیں، اگرچہ بعد میں انہوں نے زمینی افواج بھیجنے کے امکان کو کم قرار دیا۔
Published: undefined
دریں اثنا امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جاری کارروائیوں کے دوران ایرانی میزائل اور ڈرون تنصیبات، فضائی دفاعی نظام اور پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈ سینٹرز کو نشانہ بنایا ہے۔ اس کے علاوہ 11 ایرانی بحری جہاز تباہ کرنے اور کئی فوجی ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ خطے میں جاری یہ جنگ 28 فروری کو اس وقت شروع ہوئی تھی جب اسرائیل نے امریکہ کے ساتھ مل کر ایران کے مختلف مقامات پر اچانک حملے کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد سے دونوں جانب سے میزائل، ڈرون اور فضائی حملوں کا تبادلہ جاری ہے، جس کے باعث پورے مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے اور عالمی سلامتی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined