عالمی خبریں

ایران کو کسی بھی قیمت پر جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے: ٹرمپ

ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے جنگ بندی کی خواہش ظاہر کی گئی ہے، جبکہ امریکہ اپنی فوجی مہم کو جلد مکمل کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر بشکریہ آئی اے این ایس</p></div>

تصویر بشکریہ آئی اے این ایس

 

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری جنگ پر اپنے حالیہ خطاب میں متعدد بڑے دعوے کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نے اس تنازع میں فیصلہ کن برتری حاصل کر لی ہے اور اس کے بیشتر فوجی اہداف مکمل ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق امریکی اور اتحادی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ اس کی میزائل اور ڈرون صلاحیت کو بڑی حد تک کمزور کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسلامی ریولوشنری گارڈس کورپس (IRGC) کے کمانڈ اور کنٹرول نظام کو بری طرح متاثر کیا گیا ہے۔

Published: undefined

اپنے خطاب میں ٹرمپ نے زور دے کر کہا کہ ایران کو کسی بھی صورت میں جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیا جائے گا اور امریکہ اس مقصد کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے جنگ بندی کی خواہش ظاہر کی گئی ہے، جبکہ امریکہ اپنی فوجی مہم کو جلد مکمل کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

Published: undefined

ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ آئندہ دو سے تین ہفتوں میں امریکہ ایران کے خلاف مزید سخت اور تیز فوجی کارروائیاں کر سکتا ہے۔ ان کے الفاظ میں، “ہم انہیں انتہائی سخت جواب دیں گے۔” انہوں نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ ضرورت پڑنے پر ایران کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم، اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پسِ پردہ سفارتی بات چیت جاری ہے اور مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔ ان کے مطابق امریکہ ایک طرف عسکری دباؤ بڑھا رہا ہے تو دوسری جانب حالات کے مطابق آئندہ حکمتِ عملی طے کرنے کے لیے سفارتی راستے بھی کھلے رکھے ہوئے ہے۔

Published: undefined

اپنے خطاب کے دوران ٹرمپ نے خلیج کے اہم بحری راستے آبنائے ہرمزکی اہمیت کو کم کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اب اس پر انحصار نہیں کرتا۔ انہوں نے ان ممالک کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جو امریکہ کے خلاف کھڑے ہیں اور انہیں “غدار” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے ممالک کو امریکہ سے تیل خریدنا چاہیے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ جیسے ہی ایران کے ساتھ تنازع ختم ہوگا، یہ آبی گزرگاہ خود بخود کھل جائے گی اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی معمول پر آ جائے گی۔

Published: undefined

ٹرمپ نے اپنی تقریر کا آغاز امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائیوں کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار ہفتوں کے دوران امریکی افواج نے میدانِ جنگ میں تیز، فیصلہ کن اور غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان کے مطابق، “ایسی کامیابی تاریخ میں کم ہی دیکھنے کو ملی ہے۔” انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ تقریباً ختم ہو چکی ہے، فضائیہ تباہ ہو چکی ہے اور اس کے کئی اہم رہنما مارے جا چکے ہیں، جبکہ آئی آر جی سی کی کمانڈ مسلسل نشانہ بن رہی ہے۔

Published: undefined

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اپنے تمام اہم فوجی اہداف کے قریب پہنچ چکا ہے اور یہ آپریشن اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق، امریکہ کا مقصد ایران کی میزائل صلاحیت کو ختم کرنا، اس کے دفاعی اور عسکری ڈھانچے کو کمزور کرنا اور اسے جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا ہے۔ انہوں نے خلیجی اتحادی ممالک کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کا اعادہ بھی کیا۔

Published: undefined

توانائی کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اب مشرقِ وسطیٰ کے تیل پر پہلے کی طرح انحصار نہیں کرتا۔ انہوں نے دیگر خطوں میں امریکی فوجی کارروائیوں کو بھی تیز، مؤثر اور فیصلہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے دنیا بھر میں امریکہ کی طاقت کا واضح پیغام گیا ہے۔

Published: undefined

اپنے خطاب میں ٹرمپ نے بارہا یہ دعویٰ دہرایا کہ ایران کی فوجی طاقت کو شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے، اس کی میزائل لانچ کرنے کی صلاحیت کمزور ہو چکی ہے اور اس کی عسکری قیادت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ ایران میں اقتدار کی صورتحال تبدیل ہو چکی ہے اور امریکہ نے اپنے مشن کے بیشتر مقاصد حاصل کر لیے ہیں۔

Published: undefined

تاہم، زمینی حقائق کے حوالے سے ماہرین کا ماننا ہے کہ صورتحال اب بھی پیچیدہ ہے اور اس جنگ کے حتمی نتائج کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ ٹرمپ کے بیانات ایک طرف امریکی پالیسی کا اظہار ہیں تو دوسری جانب یہ ایک سیاسی بیانیہ بھی پیش کرتے ہیں، جس کا مقصد عالمی سطح پر اپنی برتری کو اجاگر کرنا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined