
نیپال انتخابات / آئی اے این ایس
نئی دہلی: نیپال میں جمعرات کو منعقد ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے کامیاب انعقاد پر حکومتِ ہندوستان نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے نیپال کی حکومت، وزیر اعظم سوشیلا کارکی اور وہاں کے عوام کو مبارکباد پیش کی ہے۔ ہندوستانی وزارتِ خارجہ نے اس موقع پر کہا کہ نیپالی شہریوں نے جوش و خروش کے ساتھ اپنے جمہوری حق کا استعمال کیا اور انتخابات کا پرامن انعقاد جمہوری عمل کے تسلسل کی علامت ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے میڈیا کے سوالوں کے جواب میں کہا کہ نیپال کے عوام نے اپنے جمہوری حق رائے دہی کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا ہے اور ہندوستان اس کامیاب انتخابی عمل کا خیرمقدم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان وزیر اعظم سوشیلا کارکی، نیپال کی حکومت، عوام اور تمام متعلقہ فریقوں کو انتخابات کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد پیش کرتا ہے، خصوصاً اس لیے کہ یہ عمل گزشتہ برس کے غیر معمولی حالات کے بعد ممکن ہوا ہے۔
Published: undefined
رندھیر جیسوال نے مزید کہا کہ ہندوستان ہمیشہ نیپال میں امن، ترقی اور استحکام کا حامی رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نیپالی حکومت کی درخواست پر ہندوستان نے انتخابات کے انعقاد کے لیے ضروری لاجسٹک سامان بھی فراہم کیا۔ ان کے مطابق ہندوستان کو امید ہے کہ نیپال میں نئی حکومت کے قیام کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط اور کثیر جہتی تعلقات کو مزید فروغ دیا جائے گا تاکہ دونوں ممالک اور ان کے عوام کو باہمی فائدہ پہنچ سکے۔
ادھر نیپال میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات مجموعی طور پر پرامن ماحول میں مکمل ہوئے، اگرچہ ووٹنگ کا تناسب نسبتاً کم رہنے کا اندازہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ قائم مقام چیف الیکشن کمشنر رام پرساد بھنڈاری نے ایک پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ ملک بھر سے موصول ہونے والی ابتدائی اطلاعات کے مطابق ووٹنگ تقریباً ساٹھ فیصد رہی ہے۔
Published: undefined
انہوں نے کہا کہ اگر حتمی اعداد و شمار آنے کے بعد بھی یہ شرح برقرار رہتی ہے تو یہ 1991 کے پارلیمانی انتخابات کے بعد سب سے کم ووٹنگ ہوگی۔ اس سے قبل 2022 کے انتخابات میں ووٹنگ کا تناسب 61.41 فیصد رہا تھا۔ رام پرساد بھنڈاری کے مطابق اس وقت ملک بھر سے تفصیلی اعداد و شمار جمع کیے جا رہے ہیں اور حتمی نتائج جلد جاری کیے جائیں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بیلٹ بکس کو محفوظ طریقے سے جمع کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے اور جیسے ہی یہ عمل مکمل ہوگا، فوری طور پر ووٹوں کی گنتی شروع کر دی جائے گی۔ نیپال کے الیکشن کمیشن کے مطابق پندرہ اضلاع کے دور دراز علاقوں سے بیلٹ بکس کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے مرکزی مقامات تک پہنچایا جائے گا۔
Published: undefined
الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق نیپال میں رجسٹرڈ ووٹروں کی مجموعی تعداد تقریباً ایک کروڑ نواسی لاکھ ہے۔ بعض مقامات پر مقامی لوگوں نے ترقیاتی کاموں میں حکومت کی ناکامی کے خلاف احتجاج کے طور پر ووٹنگ کا بائیکاٹ بھی کیا۔ رام پرساد بھنڈاری نے واضح کیا کہ یہ ناراضگی الیکشن کمیشن کے خلاف نہیں بلکہ حکومت کے خلاف ہے اور حکومت کو اس مسئلے پر توجہ دینی چاہیے۔
یہ انتخابات مقررہ وقت سے تقریباً دو سال پہلے کرائے گئے ہیں۔ گزشتہ برس ستمبر میں ہونے والی جنریشن زی تحریک کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورت حال کے نتیجے میں سابق وزیر اعظم کے پی شرما اولی کی حکومت گر گئی تھی۔ اس کے بعد وزیر اعظم سشیلا کارکی کی قیادت میں عبوری حکومت قائم کی گئی جس نے نئے انتخابات کرانے کی ذمہ داری سنبھالی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined