
خام تیل / Getty Images
عالمی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے اور قیمتیں ایران جنگ سے پہلے کی سطح پر پہنچ گئی ہیں، جس سے عالمی توانائی منڈی کو بڑی راحت ملی ہے۔ جمعرات کو عالمی معیار کے برینٹ خام تیل کی قیمت ایک وقت میں کم ہو کر 72 اعشاریہ 24 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں سے قبل کی سطح کے برابر ہے۔ بعد ازاں معمولی بہتری کے ساتھ برینٹ خام تیل 72 اعشاریہ 63 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرنے لگا۔
Published: undefined
رواں ماہ خام تیل کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 20 فیصد سے زیادہ کمی آ چکی ہے، جسے عالمی توانائی منڈی کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مختصر مدت میں خام تیل کی فراہمی بہتر ہونے اور سپلائی کے خدشات کم ہونے سے قیمتوں پر دباؤ میں نمایاں کمی آئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ ہفتے طے پانے والی مفاہمتی دستاویز نے بھی منڈی کے اعتماد کو مضبوط کیا ہے۔ دونوں ممالک نے جوہری پروگرام اور جنگ کے خاتمے سے متعلق مستقل معاہدے کے لیے ساٹھ روز تک مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے، جس سے سرمایہ کاروں میں یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ خطے میں کشیدگی مزید کم ہو سکتی ہے۔
Published: undefined
ادھر خلیج فارس سے خام تیل کی ترسیل بھی بتدریج معمول پر آ رہی ہے۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کی تعداد میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں سپلائی کے حوالے سے خدشات کم ہوئے ہیں اور قیمتوں میں کمی کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حکمت عملی کے تحت تیل کے ذخائر کے استعمال، چین میں طلب میں کمی اور تیل پیدا کرنے والے ممالک کی جانب سے پیداوار میں اضافے نے بھی خام تیل کی قیمتوں کو نیچے لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال پہلے کے مقابلے میں نسبتاً بہتر ہوئی ہے، تاہم خطے میں کسی بھی نئی کشیدگی کی صورت میں قیمتوں میں دوبارہ تیزی آ سکتی ہے۔
Published: undefined
مالیاتی تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ آئندہ چند ہفتوں کے دوران خام تیل کی قیمتیں 60 سے 80 ڈالر فی بیرل کے درمیان رہ سکتی ہیں۔ ان کے مطابق عالمی معیشت کی سست رفتار، توانائی کی بچت کے بڑھتے رجحان اور سپلائی میں بہتری کے باعث فی الحال خام تیل کی منڈی نسبتاً متوازن دکھائی دے رہی ہے، تاہم مشرق وسطیٰ کی سیاسی صورتحال اب بھی عالمی توانائی منڈی کے لیے سب سے بڑا غیر یقینی عنصر بنی ہوئی ہے۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined