
Getty Images
ڈھاکہ: ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے عالمی اثرات اب بنگلہ دیش میں بھی نمایاں طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں، جہاں ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ عوام کے لیے شدید پریشانی کا سبب بن گیا ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں پٹرول پمپوں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں دیکھی جا رہی ہیں، جبکہ شہریوں کو ایندھن حاصل کرنے کے لیے گھنٹوں انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔
Published: undefined
حکومت نے 18 اپریل کو پاور، انرجی اور معدنی وسائل ڈویژن کے ذریعے ایک نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا۔ اس کے تحت ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 15 ٹکا، آکٹین میں 20 ٹکا، پٹرول میں 19 ٹکا اور مٹی کے تیل میں 18 ٹکا اضافہ کیا گیا۔ نئی قیمتوں کا اطلاق اتوار کی رات سے کر دیا گیا، جس کے بعد عوام میں بے چینی بڑھ گئی۔
رپورٹس کے مطابق نجی گاڑی مالکان، پبلک ٹرانسپورٹ چلانے والے افراد اور چھوٹے کاروباری طبقے کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ایندھن کے حصول میں تاخیر کے باعث نہ صرف ان کا وقت ضائع ہو رہا ہے بلکہ آمدنی میں بھی نمایاں کمی واقع ہو رہی ہے۔ ڈھاکہ کے علاقے میرپور سے تعلق رکھنے والے ایک رائیڈ شیئرنگ ڈرائیور عبد الکریم نے بتایا کہ پہلے وہ روزانہ 12 سے 14 ٹرپ مکمل کر لیتے تھے، مگر اب دو سے تین گھنٹے صرف قطار میں کھڑے رہنے میں گزر جاتے ہیں، جس سے ان کی آمدنی تقریباً 30 فیصد کم ہو گئی ہے۔
Published: undefined
اسی طرح اترہ کی ایک اسکول ٹیچر شہانہ بیگم نے اپنی پریشانی بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایندھن حاصل کرنے کے لیے ڈیڑھ گھنٹے تک انتظار کرنا پڑا۔ ان کے مطابق روزمرہ کے کاموں کی منصوبہ بندی کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے کیونکہ قطاروں کی طوالت کا اندازہ لگانا ممکن نہیں رہا۔
بنگلہ دیش پٹرولیم کارپوریشن کے ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ملک میں ایندھن کی مجموعی کمی نہیں ہے، تاہم طلب میں اچانک اضافہ اور ترسیل کے نظام میں عارضی رکاوٹوں کے باعث کچھ پٹرول پمپوں پر سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ ان کے مطابق صورتحال کو سنبھالنے کی کوششیں جاری ہیں۔
Published: undefined
دوسری جانب پاور، انرجی اور معدنی وسائل کے وزیر اقبال حسن محمود ٹکو نے اس صورتحال کو جنگی حالات سے تشبیہ دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایندھن کی خریداری غیر ملکی زر مبادلہ سے ہوتی ہے، اس لیے قیمتوں میں اضافہ ناگزیر تھا تاکہ سپلائی کا نظام برقرار رکھا جا سکے۔
ادھر صارفین کی نمائندہ تنظیم کے ایک سینئر مشیر ایم شمس الحق نے حکومت کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مہینے کے درمیان قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کا وعدہ توڑ دیا گیا ہے، جس سے عوام کا اعتماد مجروح ہوا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال نہ صرف انتظامی کمزوریوں کو ظاہر کرتی ہے بلکہ عوامی بے چینی میں بھی اضافہ کر رہی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined