
برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا ڈا سلوا، تصویر آئی اے این ایس
برازیل کے صدر لوئس اناسیو لولا ڈا سلوا نے آئندہ صدارتی انتخابات میں ’مداخلت‘ کے حوالے سے اپنے امریکی ہم منصب ڈونالڈ ٹرمپ کو وارننگ دی ہے۔ انہوں نے دو ٹوک کہا کہ برازیل میں اکتوبر میں ہونے والے انتخابات میں ٹرمپ دخل نہ دیں۔ برازیلین صدر نے یہ وارننگ اس وقت دی جب ٹرمپ نے ان کے سیاسی مخالفین کے خلاف عدالتی کارروائی کے بارے میں برازیل کی دوبارہ تنقید کی۔ یہ بیان دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی کشیدگی کو نمایاں کرتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے حال ہی میں جنوبی امریکی ملک پر مزید ٹیرف عائد کرنے کی تجویز دی ہے اور مبینہ 2 ڈرگ اسمگلنگ والی تنظیموں کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم اعلان کیا ہے جس کی لولا مخالفت کرتے ہیں۔
Published: undefined
اناسیو لولا نے کئی بار برازیل کی خود مختاری کا دفاع کیا ہے، خاص طور پر اس وقت جب ٹرمپ نے گزشتہ سال برازیل پر ٹیرف عائد کئے تھے اور اپنے اتحادی سابق صدر جیر بولسونارو کے خلاف ’سیاسی انتقامی کارروائی‘ کا الزام لگایا تھا۔ لولا نے برازیل کی سپریم کورٹ کے جج الیکزینڈرے ڈی میریس پر لگائی گئی امریکی پابندیوں پر بھی اعتراض کیا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے کہا کہ موریس نے سیاست سے متاثر ہو کر بولسونارو کے خلاف کارروائی کی جنہیں 2022 کے انتخابات میں ہارنے کے بعد اقتدار میں رہنے کی کوشش کے لئے قصوروار ٹھہرایا گیا ہے۔
Published: undefined
ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا کہ برازیل ’سیاسی طور سے خطرناک‘ بن گیا ہے۔ حکومت ’بولسونارو جونیئر (بولسونارو کے بڑے بیٹے فلاویو بولسونارو) کو گرفتار کرنا چاہتی ہے جو الیکشن میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ دراصل برازیل کی عدالت عظمیٰ نے منگل کے روز بولسونارو کے بیٹے اور سابق رکن پارلیمنٹ ایڈورڈو بولسونارو کو ان کے والد کے تختہ پلٹ معاملے میں دھمکی دینے کا مجرم پایا اور انہیں 4 سال 2 ماہ کی جیل کی سزا سنائی۔
Published: undefined
حالانکہ ٹرمپ کے بیان ’وہ رائے عامہ کے جائزوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں‘ اشارہ دے رہا ہے کہ وہ ممکنہ طور پر بولسو نارو کے بڑے بیٹے سینیٹر فلاویو بولسونارو کا حوالہ دے رہے تھے، جو صدارتی انتخابات میں لولا کے خلاف انتخاب لڑ رہے ہیں۔ فلاویو بولسونارو کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔
Published: undefined
ایڈورڈو بولسونارو کو عدالت نے اس لئے قصوروار ٹھہرایا کیونکہ انہوں نے اپنے والد کے تختہ پلٹ معاملے میں ناجائز طور سے مداخلت کی اور امریکی حکومت سے برازیل کے افسران پر دباؤ بنانے کی پیروی کی۔ دریں اثنا جی-7 چوٹی کانفرنس کے بعد فرانس کے ایوین لیس بینس میں ہوئی پریس کانفرنس میں ایک صحافی نے ٹرمپ کے بیان پر لولا سے سوال کیا۔ اس پر برازیل کے صدر نے کہا کہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ٹرمپ برازیل کو ٹھیک سے نہیں جانتے۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined