عالمی خبریں

امریکہ میں تلسی گبارڈ نے نیشنل انٹیلی جنس ایجنسی کی ڈائریکٹر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا

گبارڈ نے اپنے استعفیٰ کے خط میں لکھا کہ ان کے شوہر ہڈیوں کے کینسر سے لڑ رہے ہیں۔ وہ ان کی خدمت کے لیے ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس کے عہدے سے استعفی دے رہی ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر بشکریہ آئی اے این ایس</p></div>

تصویر بشکریہ آئی اے این ایس

 

امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ تلسی گبارڈ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ وہ کابینہ کا حصہ تھیں اور نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر مقرر تھیں۔ تلسی گبارڈ نے یہ فیصلہ اپنے شوہر کی صحت کی وجہ سے کیا۔

Published: undefined

فاکس نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ گیارڈ نے اپنے استعفیٰ خط میں لکھا ہے کہ ان کے شوہر ہڈیوں کے کینسر کی نادر شکل سے لڑ رہے ہیں۔ وہ ان کی خدمت کے لیے ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس کے عہدے سے استعفی دے رہی ہیں۔ گبارڈ نے جمعہ کو اوول آفس میں ایک ملاقات کے دوران صدر کو اس کی اطلاع دی۔ ان کا آخری دن تیس جون کو متوقع ہے۔

Published: undefined

فاکس نیوز کے مطابق گبارڈ نے اپنے استعفیٰ خط میں لکھا کہ ’’آپ نے مجھ پر اعتماد کیا‘‘۔ میں گزشتہ ڈیڑھ سال سے ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس کے دفتر کی قیادت کرنے کے لیے جو موقع ملا ہے اس کے لیے میں تہہ دل سے مشکور ہوں۔ تلسی نے اپنے استعفیٰ خط میں کہا کہ وہ بدقسمتی سے 30 جون 2026 سے مستعفی ہونے پر مجبور ہیں۔ ان کے شوہر ابراہیم کو حال ہی میں ہڈیوں کے کینسر کی ایک نادر شکل کی تشخیص ہوئی ہے۔ تلسی نے کہا کہ اس کے شوہر کو آنے والے ہفتوں میں اہم چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس دوران ان کے ساتھ رہنے کے لیے عوامی خدمت سے کنارہ کشی اختیار کریں گی اور اس لڑائی میں ان کا ساتھ دیں گی۔

Published: undefined

تلسی نے مزید کہا کہ’’ہماری شادی کو گیارہ سال ہو گئے ہیں۔ ابراہیم میرے لیے طاقت کا ستون رہے ہیں۔ وہ مشرقی افریقہ میں مشترکہ اسپیشل آپریشنز مشن میں میری تعیناتی کے دوران اور متعدد سیاسی مہمات میں میرے کردار کے دوران میرے ساتھ کھڑے رہے۔ ان کی طاقت اور محبت نے ہر چیلنج میں مجھےسہارا دیا۔ ‘‘

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined