عالمی خبریں

اسلام مخالف تحریک کے گڑھ جرمن میں ’نازی ایمرجنسی‘ کا اعلان

ڈریسڈن اسلام مخالف تحریک پیگیڈا کا گڑھ رہا ہے۔ اس شہر کی بلدیہ نے ایک ایسی قرار داد منظور کی ہے جس میں دائیں بازو کی انتہا پسندی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے شہر میں ’نازی ایمرجنسی‘ نافذ کر دی گئی ہے

جرمن شہر ڈریسڈن میں ’نازی ایمرجنسی‘ کا اعلان
جرمن شہر ڈریسڈن میں ’نازی ایمرجنسی‘ کا اعلان 

ڈریسڈن کی سٹی کونسل نے ارکان کی منظوری کے بعد ایک پالیسی بیان جاری کیا جس میں کہا گیا، ''ڈریسڈن شہر میں جمہوریت اور تکثیریت مخالف، نفرت اور دائیں بازو کی انتہا پسندی پر مبنی رویے اور تشدد پر مبنی اقدامات بڑھ رہے ہیں۔‘‘

Published: 03 Nov 2019, 2:15 PM IST

یہ قرارداد جرمنی کی طنزیہ سیاسی جماعت 'ڈی پارٹائی‘ کے کونسلر ماکس آشن باخ نے پیش کی تھی۔ ان کا کہنا تھا، ''ڈریسڈن میں نازی ایک حقیقی مسئلہ ہیں اور ہمیں اس کے تدارک کے لیے کچھ کرنا چاہیے۔ سیاست دانوں کو آخرکار کھل کر کہنا ہو گا، نہیں، یہ ہمیں قابل برداشت نہیں۔‘‘

Published: 03 Nov 2019, 2:15 PM IST

پیگیڈا تحریک کا مرکز

Published: 03 Nov 2019, 2:15 PM IST

سن 2014 میں اسی شہر میں اسلام مخالف تحریک پیگیڈا کا آغاز ہوا تھا۔ PEGIDA کا جرمن زبان میں مطلب 'مغربی دنیا کی اسلامائزیشن کے خلاف بین الیورپی اتحاد‘ بنتا ہے اور اس تنظیم کا صدر دفتر بھی ڈریسڈن میں قائم ہے۔

Published: 03 Nov 2019, 2:15 PM IST

ڈریسڈن وفاقی جرمن ریاست سیکسنی کا شہر ہے اور اسے انتہائی دائیں بازو کی عوامیت پسند سیاسی جماعت اے ایف ڈی کا مرکز بھی قرار دیا جاتا ہے۔ رواں برس ستمبر میں ہونے والے سیکسنی کے صوبائی انتخابات میں اے ایف ڈی دوسری بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھری تھی۔

Published: 03 Nov 2019, 2:15 PM IST

دائیں بازو کی انتہا پسندی کا تدارک

Published: 03 Nov 2019, 2:15 PM IST

اس قرار داد میں دیگر باتوں کے علاوہ شہری انتظامیہ اور سول سوسائٹی کی تنظیموں سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ وہ شہر میں جمہوری اقدار کی مضبوطی، اقلیتوں کے تحفظ، انسانی حقوق یقینی بنانے اور دائیں بازو کی شدت پسندی کا نشانہ بننے والوں کی مدد کے لیے اقدامات کریں۔

Published: 03 Nov 2019, 2:15 PM IST

'نازی ایمرجنسی‘ قرارداد کے متن میں 'جمہوری اداروں پر عوامی اعتماد کی بحالی، متنوع اور پر امن بقائے باہمی‘ یقینی بنانے کے لیے 'سامیت دشمنی، نسل پرستی اور انتہائی دائیں بازو کے نظریات کے محرکات اور نتائج‘ پر توجہ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔

Published: 03 Nov 2019, 2:15 PM IST

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: 03 Nov 2019, 2:15 PM IST