عالمی خبریں

ٹرمپ کے اعلان کے باوجود ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے، اصفہان اور خرم شہر کو بنایا گیا نشانہ

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پانچ دن تک توانائی مراکز پر حملے روکنے کا اعلان کیا تھا، مگر اس کے باوجود ایران کے اصفہان اور خرم شہر میں گیس اور بجلی سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر / سوشل میڈیا</p></div>

فائل تصویر / سوشل میڈیا

 

مغربی ایشا میں امریکہ۔اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ اپنے 25 دن میں داخل ہو چکی ہے اور دونوں جانب سے کارروائی اور جوابی کارروائی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ منگل کی علی الصبح ایران کی ایک نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اطلاع دی کہ ملک کے دو اہم پاور پلانٹس سے متعلق توانائی ڈھانچے کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

Published: undefined

رپورٹ کے مطابق صوبہ اصفہان میں ایک قدرتی گیس انتظامی عمارت اور گیس کا دباؤ کم کرنے والے اسٹیشن کو نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں قریبی مکانات بھی متاثر ہوئے۔ اسی دوران جنوب مغربی شہر خرم شہر میں ایک بجلی گھر سے منسلک گیس پائپ لائن کو ہدف بنایا گیا۔ مقامی حکام کے مطابق ایک میزائل پائپ لائن اسٹیشن کے بیرونی حصے میں گرا تاہم اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور بجلی کی فراہمی متاثر نہیں ہوئی۔

Published: undefined

دوسری جانب یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلینسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ روس ایران کو جنگ میں خفیہ معلومات فراہم کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے شواہد بڑھتے جا رہے ہیں اور روسی حکومت ایران کی مدد جاری رکھے ہوئے ہے، جو خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھا رہی ہے۔ زیلینسکی کے مطابق یہ تعاون جنگ کو طول دینے کا سبب بن رہا ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو متنبہ کیا تھا کہ اگر 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر تجارتی جہاز رانی کے لیے نہ کھولا گیا تو ایران کے پاور پلانٹس کو مکمل تباہ کر دیا جائے گا۔ تاہم بعد میں یعنی کل انہوں نے ایران کے ساتھ جاری سفارتی بات چیت کو مثبت قرار دیتے ہوئے 5 دن تک حملے روکنے کا اعلان بھی کیا۔

Published: undefined

ایران کے پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی تنصیبات پر کسی بھی حملے کے جواب میں خطے میں موجود امریکی یا اسرائیلی مفادات کو فوری نشانہ بنایا جائے گا، خاص طور پر توانائی نظام اور پانی صاف کرنے والے پلانٹس کو۔

مغربی ایشیا کی یہ کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی تھی جب 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کیے، جس کے جواب میں ایران نے ڈرون اور میزائل حملوں کا سلسلہ شروع کیا، جن کا رخ اسرائیل اور خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کی جانب رہا ہے۔ موجودہ حالات میں جنگ کے پھیلاؤ اور طوالت کے خدشات مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined