
Getty Images
بوگوٹا: کولمبیا میں پیر کی صبح آنے والے 7.4 شدت کے شدید زلزلے کے بعد بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور اموات کی تعداد بڑھ کر کم از کم 220 تک پہنچ گئی ہے۔ سیکڑوں افراد زخمی ہیں، جبکہ تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے مزید لوگوں کے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ حکام نے ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
زلزلے کے بعد امدادی کارکن منگل کو بھی ملبے میں زندگی کی تلاش میں مصروف ہیں۔ پھنسے ہوئے افراد کا سراغ لگانے کے لیے تربیت یافتہ کتوں اور ڈرونز کی مدد لی جا رہی ہے۔ مختلف متاثرہ علاقوں میں امدادی ٹیمیں منہدم عمارتوں کے ملبے کو احتیاط سے ہٹا کر لوگوں کو تلاش کر رہی ہیں۔
کولمبیا کے مغربی حصے میں واقع شہر کالی زلزلے سے شدید متاثر ہوا ہے۔ میئر الیخاندرو ایڈر کے مطابق، شہر میں کم از کم 95 افراد ہلاک اور 949 زخمی ہوئے ہیں، جبکہ 239 افراد اب بھی منہدم عمارتوں کے ملبے تلے پھنسے ہوئے ہیں۔ ایسے میں شہر میں امدادی کارروائیوں کو تیز کر دیا گیا ہے۔
کولمبیا کی جانب سے جاری ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے کا مرکز چوکó صوبے میں زمین کے تقریباً 103 کلومیٹر نیچے تھا۔ زلزلے کے جھٹکے مغربی کولمبیا کے سیکڑوں کلومیٹر پر پھیلے وسیع علاقے میں محسوس کیے گئے۔ پڑوسی ممالک وینزویلا، ایکواڈور اور پاناما میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔
زلزلے سے کافی کی پیداوار کے لیے مشہور شہر پیریرا اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں بھی بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔ ابتدائی اطلاعات میں پیریرا اور قریبی علاقوں میں متعدد ہلاکتوں اور عمارتوں کے منہدم ہونے کی اطلاع دی گئی تھی۔ ویلے ڈیل کاؤکا خطے میں بھی زلزلے کے نتیجے میں کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔
کالی میں ایک اسپتال کی عمارت کو بھی زلزلے سے نقصان پہنچا ہے، جس کے بعد متاثرہ علاقوں میں طبی اور امدادی سرگرمیوں پر اضافی دباؤ پڑا ہے۔ کئی مقامات پر عمارتوں کے ملبے کے نیچے لوگوں کے پھنسے ہونے کی اطلاعات کے باعث امدادی کارکن مسلسل سرچ آپریشن کر رہے ہیں۔
حکام نے ملک میں ہنگامی صورت حال کا اعلان کر دیا ہے۔ امدادی اداروں کو خدشہ ہے کہ منہدم عمارتوں کے ملبے میں اب بھی بڑی تعداد میں لوگ پھنسے ہو سکتے ہیں۔ امدادی کارروائی جاری رہنے کے ساتھ ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
کولمبیا میں آنے والے اس زلزلے کو گزشتہ ایک دہائی کے دوران ملک میں آنے والا سب سے طاقتور زلزلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام اور امدادی ٹیموں کی ترجیح اس وقت ملبے تلے دبے افراد کو جلد از جلد تلاش کرکے زندہ نکالنا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔