عالمی خبریں

بنگلہ دیش انتخاب: 50 فیصد سے زائد پولنگ مراکز ’حساس‘ قرار، 90 فیصد کی سی سی ٹی وی سے نگرانی

بنگلہ دیش میں انتخابات کے دوران 43 ہزار میں سے 24 ہزار پولنگ مراکز کو ہائی یا میڈیم حساس قرار دیا گیا۔ آئی جی پی بحر العالم کے مطابق 90 فیصد مراکز پر سی سی ٹی وی نگرانی کا انتظام کیا گیا ہے

بنگلہ دیشی جھنڈا، تصویر آئی اے این ایس
بنگلہ دیشی جھنڈا، تصویر آئی اے این ایس 

بنگلہ دیش میں عام انتخاب کے لیے نصف سے زائد پولنگ مراکز کو ’حساس‘ کے طور پر نشان زد کیا گیا ہے۔ افسران نے کہا کہ ان میں سے 90 فیصد پولنگ مراکز سی سی ٹی وی نگرانی میں ہوں گے اور راجدھانی ڈھاکہ میں ’باڈی کیمرے‘ لگائے کئی پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی افسران نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کا سیکورٹی نظام خطروں کے اندازے پر مبنی ہے۔

Published: undefined

الیکشن کمشنر ابو الفضل محمد ثناء اللہ نے منگل کی دیر رات نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’مقامی سطح پر حساسیت کے جائزے کی بنیاد پر سیکورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔‘‘ الیکشن کمیشن کے افسران نے کہا کہ اس انتخاب میں ملک کی انتخابی تاریخ میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی اب تک کی سب سے بڑی تعیناتی اور ٹیکنالوجی کا سب سے وسیع استعمال دیکھنے کو ملے گا۔

Published: undefined

ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کو امید ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ووٹنگ کے دوران اور انتخاب کے بعد ووٹرس کے لیے پرامن ماحول کو یقینی بنائیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن لا اینڈ آرڈر کی موجودہ صورتحال سے کافی حد تک مطمئن ہے اور پہلے کے مقابلے میں ہم سب بہتر حالت میں ہیں۔

Published: undefined

الیکشن کمشنر کا مذکورہ بیان انسپکٹر جنرل آف پولیس بحر العالم کے اس بیان کے کچھ دیر بعد آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’’پورے ملک میں تقریباً 43000 پولنگ مراکز میں سے 24000 پولنگ مراکز ’ہائی‘ یا ’میڈیم‘ خطرہ والے پولنگ مراکز پائے گئے ہیں۔‘‘ پولیس نے بتایا کہ انہوں نے الیکشن کمیشن کو حساس پولنگ مراکز کی فہرست سونپ دی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈھاکہ کے 2131 پولنگ مراکز میں سے 1614 خطرے والے ہیں۔

Published: undefined

واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں ایک پیچیدہ 84 نکاتی اصلاحاتی پیکج پر ریفنڈم کے ساتھ ساتھ عام انتخابات ہو رہے ہیں۔ اہم مقابلہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور اس کی سابق اتحادی جماعت اسلامی کے درمیان ہے۔ چیف ایڈوائزر محمد یونس کی قیادت والی عبوری حکومت نے معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ کی عوامی لیگ کو گزشتہ سال تحلیل کر دیا تھا اور پارٹی کو انتخاب لڑنے سے روک دیا تھا۔ واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں جمعرات (12 فروری) کو پارلیمانی انتخاب ہوں گے۔ اگست 2024 میں بڑے پیمانے پر ملک گیر احتجاج کے بعد اس وقت کی وزیر اعظم شیخ حسینہ کو اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد پہلا عام انتخاب ہوگا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined