عالمی خبریں

بنگلہ دیش: عید کی خوشیاں ماتم میں تبدیل! ڈھاکہ لوٹ رہی بس ندی میں جاگری، 23 افراد جاں بحق، متعدد لاپتا

بتایا جارہا ہے حادثے کی شکار بس میں تقریباً 40 مسافر سوار تھے جن میں کئی بچے بھی شامل تھے۔ یہ سبھی لوگ عید الفطر کی چھٹیاں منانے کے بعد ڈھاکہ واپس جا رہے تھے۔ حادثے کے بعد جائے وقوعہ پر کہرام مچ گیا۔

<div class="paragraphs"><p>ویڈیو گریب</p></div>

ویڈیو گریب

 

بنگلہ دیش میں ایک مسافر بس ندی میں گرنے سے اب تک 23 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ یہ دردناک حادثہ بدھ کی شام تقریباً 5:15 بجے راجباری ضلع کے دولتدیا ٹرمینل پر پیش آیا۔ جب بس کشتی پر چڑھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس دوران بس اچانک توازن کھو بیٹھی اور سیدھی پدما ندی میں جا گری۔

Published: undefined

اطلاعات کے مطابق بس میں تقریباً 40 مسافر سوار تھے جن میں کئی بچے بھی شامل تھے۔ یہ سبھی لوگ عید کی چھٹیاں منانے کے بعد ڈھاکہ واپس جا رہے تھے۔ حادثے کے بعد فوری طور پر ریسکیو اور ریلیف آپریشن شروع کیا گیا۔ انتہائی مشکل حالات اور خراب موسم میں تقریباً 6 گھنٹے کی مشقت کے بعد بس کو کرین کی مدد سے ندی سے باہر نکالا گیا۔

Published: undefined

جب بس کو باہر نکالا گیا تو اس کے اندر سے 14 لاشیں ملیں جب کہ غوطہ خوروں نے اس سے قبل 2 خواتین کی لاشیں نکالی تھیں۔ اس طرح مجموعی طور پر 16 افراد کی موت کی تصدیق ہو گئی ہے۔ کئی لوگ اب بھی لاپتہ ہیں اور ان کی تلاش جاری ہے۔ فوج، پولیس، فائر سروس اور کوسٹ گارڈ کا مشترکہ تلاشی آپریشن جاری ہے۔

Published: undefined

عینی شاہدین کے مطابق بس فیری کی طرف بڑھ رہی تھی کہ اسی وقت ایک چھوٹی کشتی (یوٹیلیٹی فیری) پونٹون سے ٹکرا گئی۔ جس سے بس ڈرائیور کے کنٹرول سے باہر ہوگئی اور ندی میں جا گری۔ کچھ مسافر تیر کر باہر نکلنے میں کامیاب رہے یا انہیں بچا لیا گیا تاہم زیادہ تر مسافر اندر ہی پھنسے رہ گئے۔

Published: undefined

بتایا جارہا ہے کہ کئی مسافروں کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا۔ جو لوگ بس کے باہر کھڑے تھے وہ بچ گئے لیکن ان کے اپنے رشتہ دار بس کے اندر ہی ڈوب گئے جس سے موقعہ واردات پر ماحول انتہائی المناک ہو گیا۔ واردات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمٰن نے فوری طور پر حکام سے رابطہ کیا، معلومات حاصل کی اور حادثے کی تحقیقات کا حکم دیا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined