ویڈیو گریب
ڈھاکہ: بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما اے ٹی ایم اظہر الاسلام کو 1971 کی جنگ کے دوران جنگی جرائم کے مقدمے میں سنائی گئی سزائے موت کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے منگل کو سنائے گئے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگر اظہر الاسلام کسی اور مقدمے میں زیر حراست نہیں ہیں تو انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔ یہ فیصلہ موجودہ حکومت کے دور میں عدالتی نظام میں آنے والی بڑی تبدیلیوں کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
Published: undefined
سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ، جس کی سربراہی چیف جسٹس سید رفاعت احمد کر رہے تھے، نے اس فیصلے میں کہا کہ اظہر الاسلام کو سنائی گئی سزائے موت "انصاف کے نام پر ایک ناانصافی" تھی۔ عدالت نے اس سزا کو عالمی تاریخ میں انصاف کے نام پر ہونے والی ناانصافیوں کی ایک مثال قرار دیا۔
Published: undefined
سپریم کورٹ کے وکیل بیرسٹر محمد ولایت حسین نے کہا کہ بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے اپنے ہی فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے، جس میں انسانیت کے خلاف جرائم کے معاملے میں کسی شخص کو بین الاقوامی کرائمز ٹربیونل کی جانب سے سزا دی گئی ہو اور سزائے موت کو برقرار رکھا گیا ہو۔ رواں سال فروری میں اس فیصلہ پر پھر سے غور کرنے کے لیے عرضی داخل کی گئی تھی۔ فیصلہ سنائے جانے کے بعد اظہر الاسلام کے وکیل محمد شِشِر منیر نے میڈیا سے کہا کہ اظہر الاسلام کو انصاف ملا ہے اور سچ کی جیت ہوئی ہے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ بنگلہ دیش میں ایسا پہلی بار ہوا ہے، جب عدالت نے اپنا ہی فیصلہ واپس لیا ہو۔ 27 فروری کو سپریم کورٹ نے اظہر الاسلام کو اس کی سزائے موت کو چیلنج دینے کے لیے عدالت میں نئی عرضی داخل کرنے کی اجازت دے دی تھی۔
سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ، جس کی سربراہی چیف جسٹس سید رفاعت احمد کر رہے تھے، نے اس فیصلے میں کہا کہ اظہر الاسلام کو سنائی گئی سزائے موت "انصاف کے نام پر ایک ناانصافی" تھی۔ عدالت نے اس سزا کو عالمی تاریخ میں انصاف کے نام پر ہونے والی ناانصافیوں کی ایک مثال قرار دیا۔
Published: undefined
اظہر الاسلام کو 2014 میں بین الاقوامی جرائم ٹریبونل نے 1971 کی جنگ کے دوران رنگپور علاقے میں قتل، اغوا، عصمت دری اور دیگر مظالم کے الزامات میں سزائے موت سنائی تھی۔ انہوں نے 2015 میں اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی، جس پر 2025 میں سپریم کورٹ نے سماعت مکمل کی۔
اس فیصلے کو بنگلہ دیش کے عدالتی نظام میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو جنگی جرائم کے مقدمات اور ان کے سیاسی اثرات پر نئی بحثوں کو جنم دے سکتا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined