عالمی خبریں

آیت اللہ مجتبیٰ حسینی خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر مقرر، مجلس خبرگان رہبری کا اعلان

آیت اللہ مجتبیٰ کو ملک کی اعلیٰ اختیارات حاصل مجلس خبرگان رہبری نے سب سے بہتر مانا تھا۔ مجلس 88 علماء پر مشتمل ایک عظیم ادارہ ہے جسے آیت اللہ خامنہ ای کے جانشین کا انتخاب کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای / آئی اے این ایس</p></div>

آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای / آئی اے این ایس

 

تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ملک کو نیا لیڈر مل گیا ہے۔ ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے اعلان کیا ہے کہ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر مقرر کیا گیا ہے۔ ایرانی صدر نے کہا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری ’وقار اور طاقت کے نئے دور‘ کا آغاز ہے۔ ایرانی صدر نے کہا کہ مجلس خبرگان رہبری نے آئین کی شق 108 کی مطابق اپنے شرعی فریضے اور اللہ کے حضور ایمان کی روشنی میں آج کے خصوصی اجلاس میں آیت‌ اللہ مجتبی حسینی خامنہ ‌ای کو قاطع رائے سے ایران کے مقدس جمہوری اسلامی نظام کے تیسرے رہنما کے طور پر مقرر اور متعارف کرایا۔

Published: undefined

فارس نیوز ایجنسی کے مطابق پیزشکیان نے ایک بیان میں کہا کہ یہ اہم انتخاب اسلامی ملک کی قومی اتحاد کو مضبوط کرنے کی خواہش کا ثبوت ہے؛ ایک ایسا اتحاد جس نے ایک مضبوط رکاوٹ کی طرح ایران کو دشمنوں کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے قابل بنایا ہے۔ آیت اللہ مجتبیٰ ایران کی سیکورٹی فورسز میں بااثر شخصیت ہیں۔ انہیں اتوار کو ہونے والے ووٹ سے پہلے ملک کی اعلیٰ اختیارات حاصل مجلس خبرگان رہبری نے سب سے بہتر مانا تھا۔ مجلس 88 علماء پر مشتمل ایک ادارہ ہے جسے آیت اللہ خامنہ ای کے جانشین کا انتخاب کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔

Published: undefined

مجلس کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ماہرین کی اسمبلی نے ایک اہم ووٹ کے ذریعے آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کو اسلامی جمہوریہ ایران کا تیسرا رہنما مقرر کیا ہے۔ بیان کے مطابق آیت‌ الله امام خامنہ ای کی شہادت اور دیگر معزز شہداء خصوصاً میناب کے شجرہ طیبہ اسکول کے بہادر طلبہ اور مسلح افواج کے بلند پایہ کمانڈروں کی قربانیوں پر تعزیت پیش کرتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کی وحشیانہ جارحیت کی مذمت کرتی ہے۔

Published: undefined

بیان کے مطابق اس مجلس نے رہبر معظم کی شہادت کی خبر کے فوراً بعد شدید جنگی حالات اور دشمنوں کے براہِ راست خطرات اور مجلس کے دفاتر پر بمباری کے باوجود جس میں کئی عملہ اور حفاظتی ٹیم کے ارکان شہید ہوئے، نظام اسلامی کے رہنما کے انتخاب اور تعین میں کوئی تاخیر نہیں کی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ آئین اور داخلی قواعد کے مطابق اجلاس کے انعقاد کے تمام انتظامات مکمل کیے گئے تاکہ ملک میں رہبری کا خلا پیدا نہ ہو حتیٰ کہ شق نمبر 111 کے تحت رہبری عارضی کونسل کے قیام کے امکانات کے باوجود مجلس خبرگان رهبری نے ولی فقیہ کی اعلیٰ حیثیت اور جمہوری اسلامی نظام میں رہبری کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے گزشتہ 47 سالہ حکمت اور عزت، آزادی اور اقتدار پر مبنی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔

Published: undefined

اس عہدے سے آیت اللہ مجتبیٰ کو اسلامی جمہوریہ میں ریاستی امور کے تمام معاملات پر حتمی فیصلہ لینے کا اخؒیار حاصل ہوگیا ہے۔ 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای کو طویل عرصے سے ملک کی سیاسی اور مذہبی ادارے میں ایک طاقتور شخصیت مانا جاتا ہے۔ تاہم انہوں نے کبھی منتخب عہدہ نہیں رکھا اور نہ ہی عوامی سطح پر قیادت کے لیے مہم چلائی۔ واضح رہے کہ ایران کے اگلے سپریم لیڈر کی دوڑ میں کئی نام سامنے آئے ہیں۔ مجتبیٰ کے علاوہ آیت اللہ سید محمد مہدی میر باقری، حسن خمینی، غلام حسین محسنی ایجی اور آیت اللہ علی رضا عرفی کے نام بھی دوڑ میں شامل تھے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined