
خامنہ ای / ڈونالڈ ٹرمپ
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری رسہ کشی کے سبب مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے جہاں امریکہ کا جدید طیارہ بردار بحری بیڑہ ابراہم لنکن خطے کی سمندری حدود میں داخل ہوچکا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق اس کیریئراسٹرائیک گروپ میں جنگی طیارے، میزائل کروزر اور جدید ڈسٹرائرز شامل ہیں، جو کسی بھی ممکنہ کارروائی کے لیے مکمل طور پرتیار ہیں۔ اس صورتحال میں یہ قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں کہ امریکہ کسی بھی وقت ایران پر حملہ کرنے والا ہے۔
Published: undefined
امریکی بحریہ کا ابراہم لنکن کیریئراسٹرائیک گروپ پیرکو امریکی سینٹرل کمانڈ کے علاقے میں پہنچا۔ ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان انڈو پیسیفک میں جاری آپریشنز سے ہٹاکر ان جنگی جہازوں کو بھیجا گیا تھا۔ اس سے ان قیاس آرائیوں کو تقویت ملی ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ تہران پر فضائی حملوں کا حکم دے سکتے ہیں۔
Published: undefined
جوہری طاقت سے چلنے والے طیارہ بردار بحری جہاز’یوایس ایس ابراہم لنکن‘ اور ’کیریئر اسٹرائیک گروپ 3‘ نے 19 جنوری کو آبنائے ملاکا کو عبور کیا تھا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ کرکے کہا کہ طیارہ بردار بحری جہاز اور اس کے اسٹرائیک گروپ کو مشرق وسطیٰ میں علاقائی سلامتی اور استحکام کو مضبوط کرنے کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔
Published: undefined
غور طلب ہے کہ ٹرمپ نے ایران میں زبردست مظاہروں اور ان کے خلاف حکومت کے مبینہ سخت کریک ڈاؤن کے بعد تہران کو خبردار کیا تھا۔ ٹرمپ نے اس فوج کشی کو ایران پر دسمبر کے آخر میں شروع ہونے والے ملک گیر مظاہروں سے نمٹنے کے لیے دباؤ سے جوڑا ہے۔ پچھلے ہفتے ٹرمپ نے کہا تھا کہ جہاز صرف احتیاط کے طور پر بھیجے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس ایک بڑا بحری بیڑا اس سمت جا رہا ہے، ہوسکتا ہے ہمیں اس کا استعمال نہ کرنا پڑے۔ اس بیان نے یہ اندازہ لگایا جارہا ہے کہ طاقت کا مظاہرہ اور حملوں کی غیر یقینی دونوں دباؤ کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
Published: undefined
لنکن اسٹرائیک گروپ کی تعیناتی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پینٹاگون اس خطے میں دیگر فوجی وسائل بھیج رہا ہے جن میں جنگی جہاز اور فوجی کارگو پروازیں شامل ہیں۔ اس سے ایران کے ارد گرد امریکی فوجی موجودگی میں اضافہ ہوا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ اگر ٹرمپ تہران پر دباؤ بڑھانے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس طیارہ بردار جہاز کی موجودگی واشنگٹن کو کئی فوجی آپشن دیتی ہے۔ امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہے ہیں تاہم امریکی اتحادی ممالک نے فی الحال فوجی کارروائی مؤخر کرنے پر زور دیا ہے۔ اس کے باوجود امریکی فوج نے خطے میں اپنی طاقت بڑھانے کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔
Published: undefined
عرب میڈیا کے مطابق امریکی فضائیہ مشرق وسطیٰ میں بڑی فوجی مشقیں کرنے جا رہی ہے، جن سے پہلے ہی کشیدہ ماحول میں مزید تناؤ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ یاد رہے کہ امریکی صدر نے جمعرات کے روز بحری بیڑے کو ایران کی سمت روانہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ دوسری جانب ایران نے امریکی دباؤ کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے دو ٹوک مؤقف اختیار کیا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد رکھتا ہے، امریکی جنگی جہازوں کی آمد ایرانی قوم کے دفاع کو متاثر نہیں کر سکتی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined