عالمی خبریں

امریکہ جنگ میں لوٹا تو بہت سے ’سرپرائز‘ ملیں گے، عباس عراقچی کا انتباہ

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران پر دوبارہ حملے کے عندیے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کی صورت میں امریکہ کو کئی حیران کن نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

<div class="paragraphs"><p>عباس عراقچی / آئی اے این ایس</p></div>

عباس عراقچی / آئی اے این ایس

 

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کے ممکنہ عندیے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ میدان جنگ میں واپس آیا تو اسے کئی ’سرپرائز‘ ملیں گے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔

Published: undefined

عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے چند ماہ بعد امریکی کانگریس نے اربوں ڈالر مالیت کے درجنوں جنگی طیاروں کی تباہی کا اعتراف کیا تھا۔ ان کے مطابق اب باضابطہ طور پر یہ تصدیق ہو چکی ہے کہ ایران کی مسلح افواج دنیا کی پہلی ایسی طاقت بن گئی جس نے جدید ایف۔35 لڑاکا طیارے کو مار گرایا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران نے ماضی کے تجربات سے بہت کچھ سیکھا ہے اور جو صلاحیتیں اور معلومات حاصل کی گئی ہیں، ان کے بعد اگر دوبارہ جنگ مسلط کی گئی تو اس کے نتائج پہلے سے مختلف اور غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے امریکہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میدان جنگ میں واپسی کی صورت میں مزید حیرتوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Published: undefined

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ ایران کے پاس کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے محدود وقت باقی ہے۔ ان کے مطابق امریکہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا اور اگر سفارتی کوششیں ناکام رہتی ہیں تو فوجی راستہ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کے پاس فیصلے کے لیے دو یا تین دن یا زیادہ سے زیادہ اگلے ہفتے کے آغاز تک کا وقت ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہا ہے۔

Published: undefined

اس سے قبل بھی صدر ٹرمپ ایران کے بارے میں سخت مؤقف اختیار کر چکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے حالیہ دنوں میں کہا تھا کہ ایران کے خلاف کارروائی پر غور کیا گیا تھا، تاہم سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کی قیادت کی درخواست پر فوری قدم اٹھانے کا فیصلہ مؤخر کر دیا گیا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ بیانات نے ایک بار پھر مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور ممکنہ علاقائی اثرات کے بارے میں خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined