عالمی خبریں

روس کے ’امور گیس کیمیکل کمپلیکس‘ میں خوفناک آگ لگنے سے 15 ملازمین کی موت

ایک بیان میں کمپنی نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ آگ ایک معاون پروسیس ایریا میں لگی تھی اور کمپلیکس کے اہم آلات کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر</p></div>

علامتی تصویر

 

روس کے ’امور گیس کیمیکل کمپلیکس‘ میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا ہے، جس میں کم از کم 15 لوگوں کی موت ہو گئی۔ سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیوز میں کمپلیکس میں آگ لگنے کے بعد ملازمین کی بھیڑ کو محفوظ مقام کی طرف بھاگتے ہوئے دیکھا گیا۔ امور گیس کیمیکل کمپلیکس نے ایک بیان میں کہا کہ ہلاک ہونے والے تمام لوگ پلانٹ کے ملازمین تھے۔

قابل ذکر ہے کہ یہ آگ امور گیس کیمیکل کمپلیکس میں رواں ہفتہ کے آغاز میں لگی تھی، جس کے بارے میں پلانٹ کی انتظامیہ نے جمعرات کے روز جانکاری دی۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ مرنے والوں میں ایک روسی شہری اور 14 غیر ملکی شہری شامل تھے، لیکن اس بارے میں مزید کوئی معلومات نہیں دی گئی ہے۔ اس سے قبل بدھ کو کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ اسے ایک روسی اور 6 چینی شہریوں کی لاشیں ملی ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ چین کی سرحد کے قریب روس کے امور علاقے میں (ماسکو سے تقریباً 5,500 کلومیٹر مشرق میں) واقع امور گیس کیمیکل کمپلیکس، چین کی سرکاری تیل اور گیس کمپنی سائنوپیک اور روسی پیٹرو کیمیکل کمپنی سبور کا مشترکہ پروجیکٹ ہے۔ روس کی تفتیشی کمیٹی نے کہا ہے کہ وہ آگ لگنے کی وجوہات اور حفاظتی قوانین کی کسی بھی ممکنہ خلاف ورزی کی تحقیقات کر رہی ہے۔ اس نے تخریب کاری یا کسی گڑبڑی کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔

تبصرے کے لیے رابطہ کرنے پر سبور نے امور گیس کیمیکل کمپلیکس کی انتظامیہ کے بیان کا حوالہ دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ کمپنی نے روس کی وزارت ہنگامی حالات کے ساتھ مل کر ہنگامی بحالی کا کام شروع کر دیا ہے۔ اسی بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ آگ سے متاثر نہ ہونے والی سہولیات پر تعمیر اور تنصیب کا کام معمول کے مطابق جاری رہے گا اور ہوا کے معیار کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔

اس میں یہ بھی کہا گیا کہ نقصاندہ مادوں کا اخراج فی الحال زیادہ سے زیادہ قابل قبول سطح سے زیادہ نہیں ہے۔ سائنوپیک نے تبصرے کی درخواست کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔ چینی اخبار نے خبر دی کہ مقامی چینی قونصل خانہ نے جائے وقوع پر ایک ٹیم بھیجی ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ امور گیس کیمیکل کمپلیکس اب بھی زیر تعمیر ہے اور 2027 کے آغاز میں یہاں کام شروع کرنے کا منصوبہ تھا۔ یہ خود کو پولی ایتھیلین اور پولی پروپیلین کی پیداوار کے لیے دنیا کی سب سے بڑی سہولیات میں سے ایک قرار دیتا ہے، جس میں ہر سال ان دونوں پولیمرز کی مجموعی طور پر 27 لاکھ ٹن پیداوار کرنے کی صلاحیت ہے۔ ایک بیان میں کمپنی نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ آگ ایک معاون پروسیس ایریا میں لگی تھی اور کمپلیکس کے اہم آلات کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔