صفحہ اول

عوامی بے چینی: مقامی احتجاج سے عالمی بحران تک

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ عالمی جنگیں، مہنگائی اور عدم مساوات عوامی بے چینی بڑھا رہی ہیں۔ پرامن احتجاج، انسانی امداد اور مؤثر سفارت کاری ناگزیر ہیں

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>

تصویر اے آئی

 

بین الاقوامی سطح پر جاری مظاہروں اور عالمی بحرانوں کے پس منظر میں اقوام متحدہ کے رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ عوام کی پریشانیوں اور دنیا بھر میں جاری تنازعات کے درمیان گہرے تعلق کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے خبردار کیا ہے کہ جنگیں اور بڑھتی ہوئی مہنگائی معاشرتی عدم مساوات کو ہوا دے رہی ہیں جس سے غریب ترین افراد سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب، انسانی حقوق کے ہائی کمشنر وولکر ترک نے یورپ کے کئی ممالک میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران ہونے والے تشدد اور طاقت کے بے جا استعمال کی سخت مذمت کی ہے۔

معاشی دباؤ بے چینی کا باعث

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ یورپ کی دلکش گلیوں اور تاریخی چوراہوں پر نکلنے والے احتجاجی مظاہروں کا ہزاروں میل دور جاری جنگوں سے کیا تعلق ہو سکتا ہے؟ آج دنیا بھر میں معاشی دباؤ کی زیریں لہریں شدید بے چینی کو جنم دے رہی ہیں، اور عام شہری—بالخصوص نوجوان—سڑکوں پر نکل کر اپنے شدید غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ خوراک، ایندھن اور دیگر بنیادی اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عام آدمی کا جینا دوبھر کر دیا ہے، شرح سود میں اضافہ ہو چکا ہے اور نوجوان نسل کے لیے ایک بہتر اور محفوظ مستقبل کی امیدیں مسلسل مدہم ہو رہی ہیں۔

فرانس، اٹلی، بیلجیئم، پرتگال اور البانیہ جیسے یورپی ممالک میں بڑے پیمانے پر ہونے والے یہ مظاہرے بظاہر مقامی معاشی پالیسیوں کے خلاف نظر آتے ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گلی محلوں میں مہنگائی کے خلاف اٹھنے والی یہ آوازیں دور دراز بین الاقوامی تنازعات سے کیسے جڑی ہوئی ہیں؟

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش اور اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے اس ابھرتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دنیا کی توجہ ان پوشیدہ روابط کی طرف مبذول کروائی ہے۔ اقوام متحدہ کے اس اہم انتباہ کی روشنی میں، ذیل میں ان اسباق کا تجزیہ کیا گیا ہے جو عالمی تنازعات اور ہماری روزمرہ معاشی حقیقتوں کا گہرا تعلق ظاہر کرتے ہیں۔

مقامی احتجاج اور عالمی تنازعات کا گہرا تعلق

اقوام متحدہ کے سربراہ گوتیرش نے عالمی تنازعات کے پھیلاؤ اور ان کے دور رس اثرات کی وضاحت کے لیے ایک استعارہ پیش کیا ہے، جسے انہوں نے "جنگ کا ایل نینو" قرار دیا ہے۔ جس طرح 'ایل نینو' کا موسمیاتی مظہر کسی ایک خطے میں جنم لیتا ہے لیکن ہزاروں کلومیٹر دور کے موسموں اور انساني زندگیوں کو درہم برہم کر دیتا ہے، بالکل اسی طرح آج کے مسلح تنازعات بھی اپنی جغرافیائی حدود سے نکل کر عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔

یوکرین، سوڈان اور مغربی ایشیا میں جاری جنگیں صرف جنگی محاذوں تک محدود نہیں رہیں۔ یہ تنازعات عالمی سطح پر توانائی کی مارکیٹوں، بحری جہاز رانی، سپلائی چینز اور مالیاتی نظام کو درہم برہم کر رہے ہیں، جس کا براہ راست اثر دنیا بھر کے مارکیٹوں میں خوراک اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی صورت میں نکل رہا ہے۔ لہٰذا، یورپ کی سڑکوں پر ایندھن، خوراک اور بڑھتی ہوئی شرح سود کے خلاف جو پرامن احتجاج ہو رہے ہیں، انہیں عالمی ابتری سے الگ تھلگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ بقول گوتیرش " ہم جنگ کے 'ایل نینو' کے اثرات دیکھ رہے ہیں جہاں تنازعات مزید تنازعات کو جنم دے رہے ہیں اور ان کے نتائج دور دور تک اور تیزی سے پھیل رہے ہیں۔"

غیر منصفانہ معاشی نظام

عالمی معاشی جھٹکے سب سے زیادہ پسماندہ طبقات کو متاثر کرتے ہیں۔ موجودہ معاشی نظام کی ناانصافی اس وقت مزید نمایاں ہو جاتی ہے جب عالمی تنازعات کی وجہ سے افراطِ زر اور مہنگائی کا طوفان آتا ہے۔خوشحال معاشرے اور صاحبِ ثروت افراد تو قیمتوں کے اس اضافی بوجھ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن پسماندہ طبقات اور حاشئے پر دھکیلے گئے لوگ اس قدر پس جاتے ہیں کہ انہیں "خوراک یا حرارت میں سے کسی ایک کا انتخاب"کرنے جیسے سنگین معاشی فیصلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر ریاستوں کے درمیان بھی یہی عدم مساوات واضح ہے۔ ایک طرف جہاں ترقی یافتہ ممالک کم شرح سود پر مالیاتی وسائل حاصل کر کے اپنے شہریوں کو معاشی پریشانیوں سے بچانے کے لیے حفاظتی اقدام کر سکتے ہیں، وہیں ترقی پذیر ممالک اُس ظالمانہ معاشی موڑ پر کھڑے ہیں جہاں انہیں اپنے قومی قرضوں کی ادائیگی یا پھر صحت، تعلیم اور اپنے بچوں کے مستقبل پر سرمایہ کاری میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ گوتیرش کے مطابق، جنگیں اگرچہ عدم مساوات کو خود جنم نہیں دیتیں، لیکن یہ اس سے فائدہ اٹھاتی ہیں اور اس معاشی نظام میں موجود ناانصافی کو بے نقاب کرتی ہیں جو سب سے کمزور لوگوں کو سب سے بڑے معاشی جھٹکے سہنے پر مجبور کرتا ہے۔

نوجوانوں کا غصہ، خستہ حال تعلیمی نظام

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے یورپی ممالک بشمول فرانس، اٹلی، پرتگال، بیلجیئم اور البانیہ، میں ہونے والے مظاہروں کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے۔ فرانس میں ملک گیر مظاہروں کی قیادت بنیادی طور پر طلباء کر رہے ہیں، جن کے اشتعال کی بنیادی وجہ تعلیمی اداروں کی خستہ حالی اور اساتذہ کی شدید کمی ہے۔ انہوں نے مظاہروں کے دوران ہونے والے تشدد، توڑ پھوڑ اور املاک کے نقصان کی مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ تاہم، انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے مظاہرین—بالخصوص بچوں—کے خلاف غیر ضروری اور حد سے زیادہ طاقت کے استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

پولیس کا غیر متناسب تشدد

حکام نے اس بات پر زور دیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہمیشہ احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور پرامن احتجاج کے حق کا احترام کرنا چاہیے۔ پائیدار امن کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ حکومتیں اپنے شہریوں، بالخصوص نوجوانوں کے بنیادی مسائل پر توجہ دیں اور ان کے جائز مطالبات کو حل کرنے کے لیے بامعنی مذاکرات کا راستہ اپنائیں۔ ترک کے مطابق، "ریاستوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ مظاہرین، بالخصوص نوجوانوں کے ساتھ بامعنی، مشمولہ اور تعمیری بات چیت کا آغاز کریں تاکہ تعلیم، عوامی خدمات، رہائش، روزمرہ زندگی کے بڑھتے اخراجات اور عدم مساوات جیسے بنيادی مسائل کو حل کیا جا سکے۔"

فوری اقدامات کی اشد ضرورت

عالمی تنازعات کا سب سے دردناک رخ انسانی بحران کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ سیکرٹری جنرل گوتیرش نے مغربی ایشیا اور دیگر خطوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر روشنی ڈالتے ہوئے فوری انسانی امداد اور سفارتی پیش رفت پر زور دیا۔

یمن اور بحیرہ احمر کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تعز شہر کے ارد گرد کشیدگی میں اضافہ اور سعودی عرب میں شہری اراضی اور غیر نظامی اہداف پر حوثی حملوں کے نتیجے میں عام شہری شدید متاثر ہو رہے ہیں اور انسانی ضروریات کا حجم مسلسل بڑھ رہا ہے۔

اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ فلسطینی علاقہ جات بالخصوص غزہ میں سردیوں سے قبل ضروری امداد کی فراہمی پر شدید پابندیاں برقرار ہیں، جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی حمایت یافتہ "جامع منصوبہ برائے خاتمہِ غزہ تنازع" پر عملدرآمد میں شدید سفارتی مشکلات اور روکاوٹیں پیش آ رہی ہیں۔ دوسری جانب، مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو اسرائیلی آبادکاروں کے روزانہ حملوں کا سامنا ہے، جہاں صحافیوں اور سفارتکاروں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اس صورتحال میں شہری بنیادی ڈھانچے جیسے گھروں، ہسپتالوں، اسکولوں، ایئرپورٹس، پاور اسٹیشنوں اور توانائی کے مراکز کو جنگی اقدامات سے محفوظ رکھنا بین الاقوامی قانون کا بنیادی تقاضا ہے۔ اس انسانی تباہی کو روکنے اور فوری امداد کی فراہمی کے لیے، اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کو اگلے چھ ماہ کے لیے غزہ اور مغربی کنارے میں اپنے امدادی عملیات جاری رکھنے کی خاطر 45 کروڑ ڈالر کی فوری امداد کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، سیکرٹری جنرل گوتیرش نے پائیدار امن کے لیے "دو ریاستی حل" کی طرف فوری پیش رفت کو ناگزیر قرار دیا۔

امن اور معاشی استحکام لازم و ملزوم

اقوام متحدہ کا پیغام بالکل واضح ہے کہ امن اور معاشی استحکام کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ حقیقی سلامتی اور معاشی بحالی تب ہی ممکن ہے جب عالمی برادری اپنے ممالک کے اندرونی معاشی و سماجی فرق کو ختم کرے اور بیرون ملک پھیلتی ہوئی جنگوں کو روکنے کے لیے موثر سفارت کاری کا استعمال کرے۔ جب تک عالمی سطح پر تنازعات کے پھیلاؤ کو روکنے اور معاشی عدم مساوات کو دور کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کیے جاتے، تب تک دنیا کے کسی بھی خطے میں معاشی استحکام کا قیام ممکن نہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔