
بی اماں کے نام سے مشہور عبادی بانو بیگم کی پیدائش 1852 میں ہوئی تھی اور مولانا شوکت علی و مولانا محمد علی جوہر ان کے بیٹے تھے۔ بی اماں کی شادی عبدالعلی خان سے ہوئی تھی جن کا انتقال اس وقت ہو گیا تھا جب محمد علی محض 5 سال کے تھے۔ ایسے ناگہانی حالات میں بھی بی اماں نے بلند حوصلے کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے بیٹوں کو دینی و دنیاوی دونوں ہی تعلیم سے آراستہ کیا اور ساتھ ہی ہندوستان کی آزادی کے لیے نہ صرف اپنے بچوں کو آگے بڑھاتی رہیں بلکہ خود بھی خواتین کے درمیان تحریک آزادی کی مہم میں بڑھ چڑھ کا حصہ لیتی رہیں۔ کئی بار پولس کے ذریعہ ان پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج بھی کیا گیا لیکن اس سے بی اماں کے عزم پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ مسلم خواتین کے طبقہ میں انھیں بہت احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا اور وہ ایک قائد کی حیثیت رکھتی تھیں۔ بی اماں چاہتی تھیں کہ ہندوستان کو آزادی تو ملے ہی، مسلمانوں کو بھی ان کا مناسب حق دیا جائے۔ یہی سبب ہے کہ انھوں نے اپنے بیٹوں کو ملک کی آزادی اور حقوق مسلم کی خاطر اپنی زندگیاں قربان کرنے کی نصیحت دے رکھی تھی۔ اس بات کا اندازہ ان کے اس پیغام سے بھی لگایا جا سکتا ہے جو انھوں نے اپنے دو بیٹوں کو قید کے دوران بھجوایا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ "میرے بیٹو، بہادر بنو اور لڑائی کو ترک مت کرو، معافی بھی مت مانگو۔" حب الوطنی سے سرشار دل رکھنے والی بی اماں کا انتقال 1924 میں ہوا۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined