
راؤز ایونیو کورٹ / آئی اے این ایس
دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ نے ہفتے کے روز ’نیٹ یوجی 2026‘ پیپر لیک معاملے میں سبھی ملزمین کی عدالتی تحویل 24 جولائی تک بڑھا دی ہے۔ آج سبھی 13 ملزمین کی عدالتی تحویل ختم ہونے پر انھیں راؤز ایونیو کورٹ میں پیش کیا گیا۔ ان ملزمین میں یش یادو، مانگی لال بوال، وکاس بوال، دنیش بوال، دھنجے لوکھنڈے، شوبھم کھیرنار، منیشا ہولدار، تیجس شاہ، منوج شیرورے، منیشا باگھمارے، پرہلاد کلکرنی، شیوراج اور منیشا مندھارے شامل ہیں۔ نیٹ پیپر لیک معاملے میں سی بی آئی کی جانچ فی الحال جاری ہے۔ اب تک سی بی آئی نے ماسٹر مائنڈ پی وی کلکرنی اور دیگر کوچنگ آپریٹرز سمیت 13 لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔
عدالت میں سماعت کے دوران سی بی آئی نے بتایا کہ دو تین افراد پر شبہ ہے، جن کی جلد ہی گرفتاری ممکن ہے۔ سی بی آئی کے مطابق کیمسٹری کے سابق ماہر پی وی کلکرنی پیپر لیک معاملے کا اہم ماسٹر مائنڈ ہے۔ کلکرنی کئی سالوں تک نیٹ پیپر کے سوالنامے تیار کرنے والے پینل کا حصہ رہے ہیں۔ انہوں نے این ٹی اے کے عمل کا غلط استعمال کیا اور پونے میں خصوصی کوچنگ کلاسز کے ذریعے طلباء کو پرچہ لیک کیا۔ شیوراج موٹیگونکر لاتور میں آر سی سی کوچنگ کے نگراں تھے۔ جانچ ایجنسیوں کے مطابق امتحان سے تقریباً 10 دنوں قبل ہی ان کے پاس سوالنامے اور ان کے جوابات پہنچ گئے تھے۔
ان پر الزام ہے کہ انہوں نے این ٹی اے کے پینل میں شامل کچھ لوگوں پی وی کلککرنی اور منیشا مندارے کے ذریعہ سے پیپر حاصل کیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے مبینہ طور پر کوچنگ اداروں اور طلباء کو نیٹ- یوجی کا پیپر دے کر اس واقعہ کو انجام دیا۔ واضح رہے کہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے ذریعہ منعقدہ نیٹ یوجی- 2026 کا امتحان 3 مئی کو ملک بھر کے نامزد امتحان مراکز پر منعقد کیا گیا تھا۔ حالانکہ پیپر لیک کے تنازعہ کی وجہ سے این ٹی اے نے اسے رد کر دیا تھا اور دوبارہ 21 جون کو سخت حفاظتی انتظامات اور سخت نگرانی کے ساتھ کرایا تھا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔