ثقافت

طالبان کا افغانستان، میڈیا میں نئی سیلف سینسر شپ کا آغاز

اشتہاروں اور حکومتی ہدایات پر چلنے والے کمرشل میڈیا ادارے حکومتی پالیسیوں کے خلاف نہیں جا سکتے۔ براہ راست احکامات نہ ہوں تو یہ سیلف سینسر شپ کا شکار ہو جاتے ہیں۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس 

افغانستان کے سب سے زیادہ مقبول ٹیلی وژن طلوع نیٹ ورک نے رومانس بھرے ڈرامے، اوپرا اور میوزک پروگرامز کو رضا کارانہ طور پر نشر نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ایسے پروگرامز دیکھانے شروع کر دیے ہیں، جو سخت گیر اسلامی نظریات کے حامل طالبان کی سوچ سے مطابقت رکھتے ہیں۔

Published: undefined

اگرچہ افغانستان میں طالبان کی عمل داری کے بعد ان جنگجوؤں نے بارہا کہا ہے کہ وہ افغان باشندوں بالخصوص خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے لیکن نہ صرف مغربی ممالک بلکہ افغان عوام میں بھی اس حوالے سے شکوک پائے جا رہے ہیں۔ طالبان نے کہا ہے کہ اسلامی قوانین کے مطابق ہر کسی کو اس کا حق حاصل ہو گا لیکن ان قوانین کی تشریح کیسے کی جائے گی یہ معاملہ ابھی تک مبہم ہی ہے۔

Published: undefined

اس صورتحال میں جہاں افغان باشندے ملک سے فرار ہونے کی کوشش میں ہیں، وہیں افغانستان کا کاروباری طبقہ بھی اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر طالبان کی نئی سوچ کے تحت اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کی کوشش میں بھی ہے۔ اس کی ایک مثال افغانستان کا میڈیا ہے۔ افغانستان کے مقبول ترین نجی ٹیلی وژن نیٹ ورک طلوع ٹی وی نے انفو ٹینمنٹ پروگرامز کی نشریات رضاکارانہ طور پر روک دی ہے۔ناقدین نے اسے سیلف سینسر شپ قرار دیا ہے۔

Published: undefined

ٹی وی پروگرامز میں تبدیلیاں

افغانستان کے سرکاری ٹیلی وژن آر ٹی اے نے طالبان کی طرف سے مزید ہدایات ملنے تک تمام خواتین پریزنٹرز کو آف ایئر کرتے ہوئے اپنے پروگراموں میں اسلامی رنگ زیادہ ڈال دیا ہے۔ ZAN ٹیلی وژن نے بھی خواتین کو سکرین سے ہٹاتے ہوئے نئے پروگرامز پیش کرنا بند کر دیے ہیں۔

Published: undefined

تاہم طلوع ٹیلی وژن کی طرح ایک اور نجی نیوز چینل آریانا ٹیلی وژن نے بھی خواتین اینکرز کو ابھی تک آف ایئر نہیں کیا ہے۔ طلوع نیوز ٹی وی کی مالک کمپنی موبی گروپ کے سی ای او سعد محسنی کے مطابق طالبان نئے افغان میڈیا کو برداشت کر رہے ہیں کیونکہ انہیں علم ہے کہ انہیں لوگوں کے دل جیتنے اور ملک میں سیاسی کردار ادا کرنے کی خاطر میڈیا کی ضرورت ہے۔سعد محسنی نے کہا، ’’ان (طالبان) کے لیے میڈیا اہم ہے۔ لیکن آئندہ کچھ ماہ میں وہ ملکی میڈیا کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں، یہ ابھی واضح نہیں ہے۔‘‘

Published: undefined

اس بحث میں طلوع چینل نے سیلف سینسر شپ کے تحت ترک ٹی وی ڈرامے اور میوزک ویڈیو پروگرامز دیکھنا بند کر دیے ہیں۔ سعد محنسی کے بقول، ''میرا خیال ہے کہ یہ نئی حکومت کے لیے قابل قبول نہیں ہوں گے۔‘‘ اس چینل نے ایسے ترک ڈرامے نشر کرنا شروع کر دیے ہیں، جو خلافت عثمانیہ دور کی عکاسی کرتے ہیں اور جن میں بالخصوص خواتین کو با پردہ ہی دیکھایا گیا ہے۔

Published: undefined

کچھ چینلز پر خواتین کی موجودگی ابھی تک برقرار ہے۔ ان ٹیلی وژن چینلز سے وابستہ اہلکاروں کا کہنا ہے کہ وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ طالبان خواتین کی ٹیلی وژن پر موجودگی کے حوالے سے براہ راست کیا احکامات جاری کرتے ہیں۔

Published: undefined

غیر واضح قوانین اور سیلف سنسر شپ

افغانستان کے سینیئر صحافی بلال سروری کے مطابق، ''ہمیں یقینی بنانا ہے کہ افغان صحافی زندہ رہیں کیونکہ لوگوں کو ان کی ضرورت ہے۔‘‘ طالبان کی طرف سے کابل پر کنٹرول کے بعد سروری بھی اپنے اہلخانہ کے ساتھ افغانستان سے فرار ہو گئے تھے۔ انہوں نے کہا، ''اگر ہم واپس نہیں جا سکتے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم نے افغانستان کو ترک کر دیا ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ وہ جہاں بھی ہیں، وہاں سے افغانستان میں بہتری کے لیے کام کرتے رہیں گے۔

Published: undefined

مشرق وسطی اور وسطی ایشیائی ریاستوں میں ایسے ہی مبہم قواعد رائج ہیں، جو مطلق العنان ریاستیں اپنی مفادات کے حصول کی خاطر لاگو کرتی ہیں۔ اس طرح کے غیر واضح قوانین کی وجہ سے میڈیا ادارے رضاکارانہ طور پر بھی سینسر شپ کرنے لگتے ہیں تاکہ انہیں ریاستی سطح پر نشانہ نہ بنایا جائے۔

Published: undefined

دریں اثنا طالبان نے مغربی میڈیا کو ملک سے رپورٹنگ کی مکمل اجازت دے رکھی ہے جبکہ ہمسایہ ملک پاکستان کے درجنوں رپورٹرز بھی افغانستان کے مختلف علاقوں سے رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ طالبان نے صرف اتنا کہا ہے کہ بس اسلامی تعلیمات اور ملکی مفادات کا خیال رکھا جائے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined