
ویبھو سوریہ ونشی ایوارڈز کے ساتھ، تصویر ’ایکس‘ @IPL
15 سالہ ویبھو سوریہ ونشی کو آئرلینڈ کے خلاف 2 میچوں کی ٹی-20 سیریز میں پلیئنگ الیون میں جگہ نہیں ملی، جس پر کئی کرکٹ ماہرین نے سوال اٹھائے ہیں۔ شریئس ایئر کی کپتانی میں ہندوستانی ٹیم یہ سیریز 0-2 سے ہار گئی۔ اس کے بعد سابق ہندوستانی بلے باز محمد کیف نے بھی ٹیم کے انتخاب پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ سلیکشن کے لیے تمام کھلاڑیوں پر ایک ہی معیار نافذ ہونا چاہیے۔ محمد کیف نے کہا کہ جب روہت شرما کو کپتانی سے ہٹایا گیا تھا تو یہ دلیل دی گئی تھی کہ ٹیم مستقبل کی جانب دیکھ رہی ہے اور نوجوان کھلاڑیوں کو تیار کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ ٹی-20 عالمی کپ فاتح کپتان سوریہ کمار یادو کو بھی اسی سوچ کے تحت کپتانی سے ہٹایا گیا تھا۔
Published: undefined
کیف نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ اگر ٹیم مینجمنٹ مستقبل کی بات کر رہی ہے تو 15 سالہ ویبھو سوریہ ونشی سے بڑا مستقبل کسی کھلاڑی میں نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگر آپ بہترین پلیئنگ الیون کا انتخاب کر رہے تھے تو اس میں ویبھو سوریہ ونشی کا نام ضرور ہونا چاہیے تھا۔ دلیل دی گئی کہ یہ عالمی کپ جیتنے والی ٹیم ہے اور ہم اسی الیون کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔ ٹھیک ہے، لیکن پھر یہی اصول ہر کھلاڑی پر یکساں طور پر نافذ ہونا چاہیے۔‘‘ ان کا اشارہ سوریہ کمار یادو کی طرف تھا، جنھیں نہ صرف ٹی-20 کی کپتانی سے ہٹایا گیا بلکہ ٹیم سے بھی ان کی چھٹی کر دی گئی۔
Published: undefined
محمد کیف نے آئی پی ایل 2026 میں ویبھو سوریہ ونشی کی کارکردگی کا بھی ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ ویبھو نے آرینج کیپ جیتی، دنیا کے بہترین گیند بازوں کے خلاف رنز بنائے اور ایک ہی سیزن میں سب سے زیادہ چھکے لگانے کے معاملے میں کرس گیل کا ریکارڈ بھی توڑ دیا۔ پھر وہ ہندوستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر کے فیصلہ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’اگر آپ مستقبل اور نوجوان کھلاڑیوں کی بات کر رہے ہیں تو آپ کے پاس 15 سال کا ایک ایسا کھلاڑی موجود ہے جس نے آئی پی ایل میں آرینج کیپ جیتی، بڑے گیند بازوں کے خلاف رنز بنائے اور کرس گیل کا ریکارڈ بھی توڑ دیا۔‘‘
Published: undefined
اپنے بیان کے آخر میں محمد کیف نے کہا کہ سلیکشن کے عمل میں دوہرے معیار نہیں ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’بہترین پلیئنگ الیون میں ویبھو سوریہ ونشی کو شامل ہونا چاہیے تھا۔ تمام کھلاڑیوں کے لیے انتخاب کا معیار ایک جیسا ہونا چاہیے۔ مختلف کھلاڑیوں کے لیے مختلف اصول نہیں ہو سکتے۔ ویبھو کا پلیئنگ الیون میں نہ ہونا میرے لیے انتہائی حیرت انگیز فیصلہ ہے۔‘‘
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ کئی سابق کھلاڑیوں نے آئرلینڈ کے خلاف ٹی-20 سیریز میں ویبھو سوریہ ونشی کو پلیئنگ الیون کا حصہ نہ بنائے جانے پر حیرانی ظاہر کی ہے۔ اب سبھی کی نظریں یکم جولائی سے انگلینڈ کے خلاف شروع ہونے والی ٹی-20 سیریز پر مرکوز ہیں۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس دورے میں ویبھو سوریہ ونشی کو ہندوستان کی جانب سے بین الاقوامی کرکٹ میں ڈیبیو کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined