
جیت کے بعد خوشی مناتے ہوئے ہندوستانی ٹیم کے کھلاڑی، تصویر بشکریہ @ICC
لندن کے اوول میدان پر کھیلے گئے ’اینڈرسن-تندولکر ٹرافی‘ کے پانچویں مقابلہ میں ہندوستانی ٹیم نے نہ صرف انگلینڈ کو شکست دی بلکہ کئی تاریخی ریکارڈ بھی اپنے نام کر لیے۔ ٹیسٹ کرکٹ کا یہ مقابلہ کرکٹ کے مداحوں کے لیے تفریح کے ساتھ ساتھ ریکارڈس کے اعتبار سے بھی شاندار رہا۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے جب ہندوستان نے غیر ملکی سرزمین پر کسی ٹیسٹ سیریز کا پانچواں میچ جیتا ہے۔ ساتھ ہی انگلینڈ نے ہندوستان کے خلاف 2018 کے بعد کوئی ٹیسٹ سیریز نہیں جیتی، 2018 کے بعد ہندوستان نے 2 ٹیسٹ سیریز میں جیت حاصل کی اور 2 ڈرا ہوئے۔
ہندوستان-انگلینڈ کے درمیان اختتام پذیر 5 ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں مجموعی طور پر 7187 رن بنے، جو کسی بھی دو فریقی سیریز میں دوسرا سب سے زیادہ رنوں کا مجموعہ ہے۔ ٹیم انڈیا کی جانب سے 5 اور انگلینڈ کی جانب سے 4 بلے بازوں نے اس سیریز میں 400 یا اس سے زائد رن اسکور کیے ہیں۔ جبکہ سیریز میں مشترکہ طور پر 50 نصف سنچری اور 21 سنچری لگے ہیں جو کہ ایک مشترکہ ریکارڈ ہے۔ ساتھ ہی 19 بار سنچری پارٹنرشب بھی ہوئیں جو ٹیسٹ کرکٹ میں مشترکہ طور پر سب سے بڑی تعداد ہے۔
بلے بازی کے علاوہ گیند بازی میں بھی ہندوستان نے کمال کا مظاہرہ کیا ہے۔ محمد سراج نے جسپریت بمراہ کے ذریعہ انگلینڈ میں ایک سیریز میں ہندوستان کے لیے سب سے زیادہ وکٹیں (23) لینے کے ریکارڈ کو دہرایا۔ ساتھ ہی محمد سراج نے اوول ٹیسٹ میں 9 وکٹ حاصل کر ہندوستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا، اس بہترین کارکردگی کے لیے انہیں مین آف دی میچ کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔
کسی سیریز میں بنایا گیا دوسرا سب سے زیادہ رن (7187)
ایک سیریز میں مشترکہ سب سے زیادہ 300 سے زائد ٹیم کا مجموعہ (14)
ایک سیریز میں 400 سے زیادہ رنز بنانے والے سب سے زیادہ بلے باز (9)
مشترکہ سب سے زیادہ انفرادی 50 پلس سکور (50)
مشترکہ سب سے زیادہ انفرادی سنچریوں کے اسکور (21)
مشترکہ سب سے زیادہ 100 رن کی شراکتیں (19)
23 - جسپریت بمراہ، 22-2021
23 - محمد سراج، 2025
19 - بھونیشور کمار، 2014
1 بمقابلہ نیوزی لینڈ، ویلنگٹن، 2023
3 بمقابلہ آسٹریلیا، مانچسٹر، 1902
6 بمقابلہ آسٹریلیا، سڈنی، 1885
6 بمقابلہ انڈیا، اوول، 2025
6 بمقابلہ انگلینڈ، اوول، 2025
13 بمقابلہ آسٹریلیا، وانکھیڑے، 2004
28 بمقابلہ انگلینڈ، کولکاتہ، 1972
31 بمقابلہ آسٹریلیا ایڈیلیڈ، 2018
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔