پاکستانی کھلاڑی، تصویر @TheRealPCB
دنیا کی مختلف کرکٹ لیگز میں کھیلنے والے پاکستانی کھلاڑیوں کو زبردست جھٹکا لگا ہے۔ دراصل پاکستانی کھلاڑی اب انگلینڈ اینڈ ویلس کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کے دی ہنڈریڈ لیگ کے اگلے ایڈیشن میں نہیں کھیل سکیں گے۔ رپورٹ کے مطابق اس ٹورنامنٹ میں ہندوستانی سرمایہ کاری والی 4 ٹیمیں پاکستان کے کسی بھی کھلاڑی پر غور نہیں کریں گی۔ واضح رہے کہ پاکستانی کھلاڑی 2009 کے بعد سے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے کسی بھی ایڈیشن میں نہیں کھیلے ہیں۔ یہی نہیں پاکستان کا کوئی بھی کھلاڑی جنوبی افریقہ کے ’ایس اے 20‘ لیگ میں کبھی کوئی میچ نہیں کھیلا ہے، کیونکہ وہاں کی تمام فرنچائزی ٹیموں کے مالک آئی پی ایل والے ہیں۔
Published: undefined
’بی بی سی‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق ای سی بی کے ایک سینئر افسر نے پہلے ہی ایک ایجنٹ کو اشارہ دے دیا ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں میں ان کی دلچسپی ان ٹیموں تک ہی محدود رہے گی جن کا آئی پی ایل مالکان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جبکہ ایک دیگر ایجنٹ نے صورتحال کو تمام لیگز میں ایک غری تحریری اصول قرار دیا جہاں ہندوستانی سرمایہ کاری ہے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ دی ہنڈریڈ کی 8 فرنچائزی میں سے 4 ٹیموں میں اب آئی پی ایل مالکان کا کسی نہ کسی طرح کی سرمایہ کاری ہے۔ ان میں مانچسٹر سپر جائنٹس، ایم آئی لندن، سدرن بریو اور سن رائزرز لیڈز شامل ہیں۔ یہ آنر شپ (ملکیت) یکم اکتوبر 2025 سے نافذ ہو چکی ہے۔ مانچسٹر سپر جائنٹس کے ڈپٹی چیئر جیمس شیریڈن سے جب اس حالیہ پیش رفت پر تبصرے کے لیے کہا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہماری مکمل توجہ سب سے اچھی ٹیم بنانے پر ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہماری بات چیت صرف 2 سب سے اچھی ٹیموں کے انتخاب پر ہوئی ہے، تاکہ ہمیں دونوں مقابلوں میں جیت کا بہترین موقع مل سکے۔
Published: undefined
دوسری جانب ای سی بی کے ترجمان نے کہا کہ دی ہنڈریڈ پوری دنیا کے مرد اور خواتین کھلاڑیوں کا خیر مقدم کرتا ہے اور اہم امید کرتے ہیں کہ 8 ٹیمیں بھی ایسا ہی کریں گی۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ 18 ممالک کے تقریباً ایک ہزار کرکٹروں نے دی ہنڈریڈ آکشن کے لیے رجسٹریشن کیا ہے، جس میں آسٹریلیا، جنوبی افریقہ، نیوزی لینڈ، پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے 50 سے زیادہ کھلاڑی شامل ہیں۔
Published: undefined
واضح رہے کہ پاکستان کے 2 سابق کرکٹر محمد عامر اور عماد وسیم گزشتہ سال کے ’دی ہنڈریڈ‘ میں شامل تھے، جو نئے سرمایہ کاروں کی آمد سے قبل اس ٹورنامنٹ کا آخری ایڈیشن تھا۔ شاہین شاہ آفریدی، شاداب خان اور حارث رؤف مردوں کے مقابلے کے ابتدائی سیزن کا حصہ رہ چکے ہیں۔ حالانکہ خواتین کے ’دی ہنڈریڈ‘ میں اب تک کوئی بھی پاکستانی کھلاڑی نظر نہیں آئی ہے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ ہندوستانی مالکان کے لیے کسی بھی پاکستانی کھلاڑی کو اپنی ٹیم میں شامل نہ کرنا کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے۔ آئی ایل ٹی-20 میں بھی ایم آئی لندن اور سدرن بریو کی فرنچائزی نے 4 سیزن میں کبھی بھی کسی پاکستانی کھلاڑی کو اپنی ٹیم میں شامل نہیں کیا ہے، لیکن 15 دوسرے ممالک کے کرکٹروں کو شامل کیا ہے۔ ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹو ٹام موفٹ نے کہا کہ ہر کھلاڑی کو یکساں اور برابر مواقع کا حق ملنا چاہیے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: پریس ریلیز (ایم ایچ غزالی)