
آئی اے این ایس
رانچی میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے معاملے میں ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان مہندر سنگھ دھونی ایک بار پھر خبروں میں آ گئے ہیں۔ اس بار وجہ میدان میں ان کی کارکردگی نہیں بلکہ ٹریفک اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ رانچی کے کانکے علاقے میں اوور اسپیڈنگ کے الزام میں ٹریفک پولیس نے ان کی گاڑی کا چالان جاری کیا ہے۔
Published: undefined
اطلاعات کے مطابق شہر میں ٹریفک کی نگرانی کے لیے نصب کیے گئے کیمروں نے ایک لگژری کار کو مقررہ حد رفتار سے زیادہ تیزی سے چلتے ہوئے ریکارڈ کیا۔ بعد میں جانچ کے دوران معلوم ہوا کہ یہ گاڑی مہندر سنگھ دھونی کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔ اس کے بعد موٹر وہیکل ایکٹ کے تحت کارروائی کرتے ہوئے ای چالان جاری کر دیا گیا۔
حکام کے مطابق حد رفتار سے زیادہ تیزی سے گاڑی چلانے پر ایک ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ای چالان نظام کے تحت کی گئی، جس میں ٹریفک کیمروں کے ذریعے خلاف ورزی ریکارڈ ہونے کے بعد خودکار طریقے سے چالان جاری کیا جاتا ہے۔ جس گاڑی کا چالان کاٹا گیا ہے وہ سیاہ رنگ کی مرسڈیز کار بتائی جا رہی ہے۔
Published: undefined
اس معاملے میں اب تک مہندر سنگھ دھونی یا ان کے نمائندوں کی طرف سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ ٹریفک محکمہ کا کہنا ہے کہ قوانین کے نفاذ کے معاملے میں سب شہری برابر ہیں اور کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی جاتی۔
مہندر سنگھ دھونی اپنے آبائی شہر رانچی میں اکثر مختلف گاڑیاں چلاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان کے پاس لگژری اور طاقتور گاڑیوں کا بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ ان کے مجموعے میں جیپ گرینڈ چیروکی، ٹریک ہاک، مرسڈیز بینز جی 63 اے ایم جی اور نسان جونگا جیسی گاڑیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے پاس کئی مہنگی سپر بائکس بھی موجود ہیں، جنہیں چلانے کا انہیں خاص شوق ہے۔
Published: undefined
ادھر گزشتہ ہفتے جھارکھنڈ اسٹیٹ ہاؤسنگ بورڈ نے رانچی میں واقع ایک رہائشی پلاٹ کے مبینہ تجارتی استعمال کے معاملے میں بھی مہندر سنگھ دھونی کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا تھا۔ بورڈ نے انہیں پندرہ دن کے اندر تحریری وضاحت پیش کرنے کو کہا ہے۔ حکام کے مطابق ہرمُو ہاؤسنگ کالونی میں واقع ایچ آئی جی 10 اے نامی پلاٹ صرف رہائشی مقصد کے لیے الاٹ کیا گیا تھا، جبکہ اطلاعات کے مطابق وہاں سے ایک پیتھالوجی لیب چلائے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined