راجستھان رائلس، تصویر آئی اے این ایس
آئی پی ایل کے 19ویں سیزن کے آغاز میں چند دن باقی رہ گئے ہیں، لیکن اس سے پہلے ایک انتہائی اہم خبر سامنے آئی ہے۔ آئی پی ایل فرنچائز راجستھان رائلس کی ملکیت کو لے کر جاری دوڑ اب ختم ہو گئی ہے۔ امریکی کاروباری شخصیت کال سومانی نے راجستھان رائلس کو خرید لیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق کال سومانی نے اس آئی پی ایل فرنچائز کو 100 فیصد شراکت داری کے ساتھ تقریباً 1.63 بلین ڈالر (تقریباً 13,600 کروڑ روپے) کی بھاری قیمت پر خریدا ہے۔ اس معاہدہ کے ساتھ راجستھان رائلس دنیا کی سب سے مہنگی فرنچائز بن گئی ہے۔ یعنی فرنچائز کرکٹ میں ایک نئی تاریخ رقم ہو گئی ہے۔
Published: undefined
بتایا جاتا ہے کہ کال سومانی انٹرا ایج، اکیڈمین اور ٹرویو ڈاٹ اے آئی کے بانی ہیں۔ اس کنسورٹیم کو امریکی بزنس مین راب والٹن کا بھی تعاون حاصل ہے، جو والمارٹ فیملی سے وابستہ ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں ہیمپ فیملی بھی شامل ہے، جو ڈیٹروئٹ لائنس کی مالک ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس نئی ملکیت کا اثر آئی پی ایل 2026 کے بعد نظر آئے گا۔
Published: undefined
اس نئے معاہدہ سے پہلے راجستھان رائلس میں برطانوی-ہندوستانی کاروباری شخصیت منوج بدالے کے پاس 65 فیصد شراکت داری تھی، لیکن اب پوری 100 فیصد شراکت داری کال سومانی کے پاس ہوں گی۔ تاہم، یہ معاہدہ بی سی سی آئی کی منظوری پر منحصر ہے اور جلد ہی اس پر دستخط ہونے کی امید ہے۔ ذرائع کے مطابق اس معاہدہ سے متعلق 4-5 دنوں میں اعلان کیا جا سکتا ہے۔ اس دوران خبریں گشت کر رہی ہیں کہ ایک اور بڑی آئی پی ایل ٹیم رائل چیلنجرس بنگلورو (دفاعی چمپئن) بھی فروخت کے لیے تیار ہے۔
Published: undefined
آئی پی ایل میں راجستھان رائلز کے سفر کی بات کریں تو اس فرنچائز نے لیگ کے پہلے سیزن یعنی 2008 میں شین وارن کی کپتانی میں پہلا ہی خطاب اپنے نام کیا تھا۔ لیکن اس کے بعد ٹیم کو مسلسل جدوجہد کا سامنا کرنا پڑا۔ سال 2022 میں ٹیم نے فائنل تک رسائی حاصل کی تھی، لیکن اس وقت گجرات ٹائٹنس نے ٹائٹل جیت لیا تھا۔
Published: undefined
تاہم ملکیت میں تبدیلی آئی پی ایل 2026 سیزن کے بعد ہی مؤثر ہوگی۔ فی الحال راجستھان رائلس اپنی تیاریوں میں مصروف ہے۔ ٹیم 30 مارچ کو گوہاٹی میں چنئی سپرکنگز کے خلاف سیزن کا پہلا میچ کھیلے گی۔ نئے کپتان ریان پراگ اور ہیڈ کوچ کمار سنگکارا کی قیادت میں ٹیم کی پوری توجہ میدان میں کارکردگی پر مرکوز ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined