
سوریہ کمار یادو، تصویر ’ایکس‘ @BCCI
انڈیا اور پاکستان کے درمیان ٹی 20 عالمی کپ کے بڑے مقابلے سے قبل سب سے زیادہ گفتگو پاکستان کے مسٹری اسپنر عثمان طارق کے گرد گھوم رہی ہے۔ کولمبو کی اسپن مددگار پچ پر انہیں پاکستان کا اہم ہتھیار تصور کیا جا رہا ہے اور انڈیا پہلی بار ان کا سامنا کرے گا۔ کم بین الاقوامی تجربے کے باوجود ان کی کارکردگی اور منفرد اندازِ گیند بازی نے ماہرین اور شائقین کو متوجہ کر رکھا ہے۔
Published: undefined
عثمان طارق نے اب تک محدود ٹی 20 بین الاقوامی میچ کھیلے ہیں، لیکن مختلف فرنچائز لیگز میں ان کے اعداد و شمار متاثر کن رہے ہیں۔ 42 ٹی 20 مقابلوں میں 70 وکٹیں، 15 اعشاریہ 94 کی اوسط اور 6 اعشاریہ 79 کی اکنامی ریٹ اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ میچ کا پانسہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کا گیند پھینکنے سے پہلے کریز پر لمحہ بھر رکنا بلے بازوں کے لیے الجھن پیدا کرتا ہے۔
Published: undefined
کولمبو میں پریس کانفرنس کے دوران کپتان سوریا کمار یادو نے اس چیلنج کو پراعتماد انداز میں لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امتحان میں نصاب سے ہٹ کر سوال آ جائے تو اسے چھوڑا نہیں جاتا بلکہ حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، ٹیم بھی اسی ذہنیت کے ساتھ میدان میں اترے گی۔ ان کے مطابق کھلاڑیوں نے ہر ممکن صورتحال کے لیے تیاری کر رکھی ہے۔
Published: undefined
دوسری جانب تجربہ کار آف اسپنر روی چندرن اشون نے اپنے یوٹیوب پروگرام میں دلچسپ حکمتِ عملی پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر گیند باز اپنے ایکشن میں توقف کرتا ہے تو بلے باز کو بھی کریز چھوڑنے کا حق حاصل ہے۔ قوانین کے مطابق اگر بلے باز کو گیند کی ٹائمنگ سمجھ نہ آئے تو وہ دوبارہ تیار ہو سکتا ہے۔ اشون کی یہ رائے اس بڑے مقابلے میں حکمتِ عملی کا نیا رخ متعارف کرا رہی ہے۔
مجموعی طور پر ماحول پہلے ہی گرم ہے اور عثمان طارق کی مسٹری اس مقابلے کو مزید دلچسپ بنا رہی ہے، تاہم انڈین ٹیم کے اعتماد سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ہر امتحان کے لیے تیار ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined