کرکٹ

انٹرویو: ’آئی سی سی نے خودمختاری کو مالی مفادات پر قربان کر دیا‘، ہارون لورگاٹ کا انکشاف

سابق سی ای او ہارون لورگاٹ نے آئی سی سی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ ایک طاقتور رکن کے زیر اثر آ چکا ہے۔ ہند-پاک میچ پر انحصار اور سیاسی دباؤ عالمی کرکٹ کے مستقبل کے لیے خطرہ بن چکے ہیں

<div class="paragraphs"><p>ہارون لورگاٹ / Getty Images</p></div>

ہارون لورگاٹ / Getty Images

 
INDRANIL MUKHERJEE

بین الاقوامی کرکٹ کی انتظامیہ میں شاید ہی کوئی اہم عہدہ ایسا ہو جو ہارون لورگاٹ نے اپنی طویل اور باوقار پیشہ ورانہ زندگی میں نہ سنبھالا ہو۔ جنوبی افریقہ میں مقیم ہندوستانی نژاد سابق چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ لورگارٹ نے 2008 سے 2012 تک انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اس کے بعد وہ سری لنکا کرکٹ کے خصوصی مشیر مقرر ہوئے اور پھر اگلے ہی برس کرکٹ ساؤتھ افریقہ کے سی ای او بنے۔

لورگاٹ، جو جنوبی افریقہ کی ڈومیسٹک کرکٹ میں ایک کامیاب آل راؤنڈر بھی رہ چکے ہیں، اپنے دور میں کئی اہم فیصلوں کا حصہ رہے، جن میں ڈیسیژن ریویو سسٹم (ڈی آر ایس) کا نفاذ اور انسدادِ بدعنوانی اقدامات کی توسیع شامل ہے۔ بعد ازاں انہوں نے اپنے تجربے کی بنیاد پر جنوبی افریقہ میں ٹی 20 فرنچائز لیگ کے تصور کو عملی شکل دینے میں کردار ادا کیا اور پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی بنیاد رکھنے میں بھی مشاورتی خدمات انجام دیں۔

ٹی 20 ورلڈ کپ سے قبل پیدا ہونے والے حالیہ بحران، جس میں پہلے بنگلہ دیش کو نکالے جانے اور اب پاکستان کی جانب سے 15 فروری کو ہندوستان کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا اعلان شامل ہے، پر لورگاٹ سخت تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ نیشنل ہیرالڈ کو دیے گئے ای میل انٹرویو میں وہ کہتے ہیں کہ یہ ’ایک ناکام عالمی گورننگ باڈی کی وارننگ‘ ہے۔

Published: undefined

سوال: پاکستان کی جانب سے ہند کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کی دھمکی کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟

ہارون لورگاٹ: اگر ایسا واقعی ہوتا ہے تو یہ انتہائی افسوسناک ہوگا۔ محض اس تجویز کا سامنے آنا ہی اس بات کی علامت ہے کہ عالمی سطح کی گورننگ باڈی ساختی طور پر ایک طاقتور رکن کے قبضے میں آ چکی ہے، جبکہ چھوٹے بورڈز کے پاس جبری طاقت کو چیلنج کرنے کا کوئی مؤثر اور جائز راستہ نہیں بچا۔

آئی سی سی نے ایسا ماحول بنا دیا ہے جہاں ایک غالب رکن کی سیاسی سہولت ہی شرکت کے اصول طے کرتی ہے۔ اگر کوئی بورڈ بغیر کسی سزا کے کسی میچ سے الگ ہو سکتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ میں ذمہ داریاں اصولوں کے بجائے طاقت کی بنیاد پر نافذ کی جا رہی ہیں۔ اس تناظر میں پاکستان کی دھمکی ایک بڑے انتظامی بحران کی علامت ہے، جو اس امر کو ظاہر کرتی ہے کہ مسئلہ محض سیاسی نہیں بلکہ نظامی ناانصافی کا نتیجہ ہے۔

بدقسمتی سے یہ صورتحال عالمی رجحان کی عکاسی کرتی ہے جہاں طاقت ہی کو حق سمجھ لیا گیا ہے اور انصاف و برابری قیادت کے ایوانوں سے غائب ہوتے جا رہے ہیں۔

سوال: کیا جغرافیائی سیاست کو کرکٹ پر فوقیت دی جا رہی ہے؟ کیا آئی سی سی اس سے بچ سکتی تھی؟

لورگاٹ: جغرافیائی سیاست کو کرکٹ پر غالب آنے دیا گیا کیونکہ آئی سی سی نے بہت پہلے اپنی خودمختاری کو مالی انحصار کے بدلے قربان کر دیا تھا۔ ایک رکن کی بازار کی طاقت کو اس قدر مضبوط ہونے دیا گیا کہ وہ سیاسی کنٹرول میں تبدیل ہو گئی، جو شیڈولنگ، میزبانی اور پالیسی سازی تک پھیل گیا۔

اگر آئی سی سی وولف رپورٹ میں دی گئی اصلاحات، جیسے بورڈ اور ووٹنگ ڈھانچے میں تبدیلی، ضرورت کی بنیاد پر فنڈنگ اور اخلاقی تحفظات، نافذ کرتی تو یہ بحران کم ہو سکتا تھا۔ مگر اس کے برعکس ایک ایسا مالیاتی اور انتظامی ماڈل اپنایا گیا جس نے چند طاقتور ارکان کو مزید مضبوط کر دیا۔

چیئرمین اور سی ای او جیسے اختیارات کو ایک ہی دائرے میں مرکوز کر کے آئی سی سی نے یہ یقینی بنا دیا کہ کسی بھی غالب رکن سے متعلق تنازعہ جغرافیائی سیاسی تصادم میں بدل جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ آج کئی بورڈ سخت موقف اختیار کر رہے ہیں۔

سوال: کیا ہند-پاکستان میچ پر حد سے زیادہ انحصار نے بھی اس بحران کو جنم دیا؟

لورگاٹ: بالکل، اور اس کا ذمہ دار بھی آئی سی سی ہے۔ ہند-پاکستان مقابلے کو آئی سی سی ایونٹس کا تاج بنا دیا گیا کیونکہ برصغیر کی ٹیلی ویژن مارکیٹ عالمی نشریاتی آمدنی کی بنیاد ہے۔

جب آئی سی سی نے ایسے ماڈل کو قبول کیا جس میں بڑے ایونٹس، میزبانی اور عالمی کیلنڈر کو نشریاتی مفادات کے مطابق ڈھالا گیا تو دراصل ایک میچ کو عالمی کرکٹ کی مالی بنیاد بنا دیا گیا۔ ایسے میں اگر وہی میچ خطرے میں پڑ جائے تو پورا ٹورنامنٹ عدم استحکام کا شکار ہو جاتا ہے۔

ایک ہی مقابلے پر حد سے زیادہ انحصار کھیل کی برابری کے بجائے طاقت کو ترجیح دینے کا نتیجہ ہے۔ جب وہ مقابلہ نہ ہو تو پورا ڈھانچہ ہل جاتا ہے۔

سوال: اس کا بین الاقوامی کرکٹ کی مارکیٹ ویلیو پر کیا اثر پڑے گا؟

لورگاٹ: تجارتی شراکت دار پہلے ہی بین الاقوامی کرکٹ کی قدر میں کمی کے اشارے دے چکے ہیں۔ فرنچائز لیگز کی بڑھتی مقبولیت بھی عالمی کرکٹ کے لیے چیلنج ہے۔ آئی سی سی ٹورنامنٹس کا ڈیزائن اور معاشی ڈھانچہ چند طاقتور ارکان کے گرد گھومتا ہے، مسابقتی توازن ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔

مجوزہ بائیکاٹ سے آئی سی سی ایونٹس پر اعتماد مزید کم ہوگا اور عالمی کرکٹ کی قدر میں تیزی سے گراوٹ آئے گی۔ بیشتر رکن ممالک پہلے ہی کمزور مالی حالت اور محدود مواقع کا شکار ہیں۔ یہ عالمی کھیل کے لیے مناسب نہیں کہ ایک رکن کو 38.5 فیصد حصہ ملے جبکہ باقی ممالک بقا کے لیے جدوجہد کریں۔

سوال: کیا اس بحران سے ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کی بنیاد بھی متاثر ہوگی؟

لورگاٹ: یقیناً۔ اے سی سی بھی اسی نظام کا حصہ ہے جہاں طاقت کا توازن یکساں نہیں۔ ہندوستان ایک بڑا بازار ہے جس پر دیگر ایشیائی بورڈوں کا انحصار ہے۔ بنگلہ دیش کو ٹی-20 ورلڈ کپ سے نکالے جانے اور پاکستان کے بائیکاٹ نے اے سی سی کی بنیادوں کو ہلا دیا ہے۔

بنگلہ دیش کی جانب سے اپنے میچز کی منتقلی کی کوشش اس بات کا اشارہ ہے کہ ایشیا میں بھی سلامتی، خودمختاری اور برابری کو تجارتی مفادات کے تابع رکھا جا سکتا ہے۔ یہ صورتحال ایک متوازن اور متحد ایشیائی بلاک کے تصور پر سوالیہ نشان ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined