فکر و خیالات

مکہ معاہدہ کی طرف کیوں جھک رہا بنگلہ دیش؟... فیصل محمود

پاکستان والے دفاعی اتحاد سے منسلک ہو کر ڈھاکہ دراصل نئی دہلی کو ایک سخت پیغام دینا چاہتا ہے۔ وہ پیغام یہ ہے کہ اس کے پاس دیگر سفارتی متبادل بھی موجود ہیں۔

بنگلہ دیشی جھنڈا، تصویر آئی اے این ایس
بنگلہ دیشی جھنڈا، تصویر آئی اے این ایس 

بنگلہ دیش نے فی الوقت ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ میں شامل ہونے پر فیصلہ نہیں کیا ہے، لیکن وہ اس میں اپنی دلچسپی کی کھل کر تشہیر ضرور کر رہا ہے۔ بنگلہ دیش کے وزیر مملکت برائے خارجی امور ہمایوں کبیر نے کہا کہ ’’اگر مشرق وسطیٰ کے اسلامی ممالک میں کوئی دفاعی معاہدہ بنتا ہے، تو ہمارے لیے اس میں شرکت پر غور کرنا غیر معمولی نہیں۔‘‘ کبیر نے یہ بھی کہا کہ معاہدے کے بانی ممالک بنگلہ دیش کی شمولیت کے لیے انتہائی خواہش مند ہیں۔ اس کے بعد وزارت خارجہ کے ایک ذرائع نے تصدیق کی کہ سعودی عرب نے وزیر اعظم طارق رحمان کو باضابطہ طور پر ریاض مدعو کیا ہے۔

سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کی جانب سے 7 اگست کو مکہ میں دستخط کیے گئے اس معاہدے میں کسی ایک رکن ملک پر ہونے والے مسلح حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا گیا ہے۔ تاہم، کوئی بھی ایسا انتظام جس میں سعودی عرب کا مالی اثر و رسوخ، ترکی کی فوجی صنعتی صلاحیت اور پاکستان کی مسلح و جوہری طاقت ایک ساتھ آتی ہو، مسلم اتحاد کے مظاہرے سے کہیں بڑا اسٹریٹجک قدم ہے۔

ڈھاکہ کا یہ کھلا جوش دراصل 3 باہم جڑے ہوئے عوامل کی وجہ سے ہے... داخلی سیاست، علاقائی سیکورٹی کے ماحول میں کم ہوتا اعتماد اور مسلم دنیا سے زیادہ اقتصادی و اسٹریٹجک فائدہ حاصل کرنے کی خواہش۔ بنگلہ دیش دنیا کے سب سے بڑے مسلم ممالک میں شامل ہے۔ مکہ میں بننے والے اور 3 بااثر مسلم ممالک کی قیادت والے اتحاد سے جڑنا سیاسی طور پر فائدے کا سودا ہے، خاص طور پر ایسی حکومت کے لیے جس کا عوامی حلقہ گزشتہ حکومتوں کے مقابلے میں پاکستان اور خلیجی ممالک سے قریبی تعلقات کے لیے زیادہ مثبت ہے۔

غیر ملکی رہنما کی جانب سے وزیر اعظم کی شرکت کی خواہش پر کبیر کا زور دینا بہت کچھ بیان کرتا ہے۔ اس رکنیت کو صرف ایک سیکورٹی کے آلے کے طور پر نہیں، بلکہ بین الاقوامی شناخت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بنگلہ دیش اب غیر ملکی امداد حاصل کرنے والے یا سستے مزدور بھیجنے والے ملک کے طور پر دروازے پر کھڑے رہنے کے بجائے ایک مضبوط مسلم طاقت کے طور پر عالمی منظرنامے پر قدم رکھے گا۔

اسے صرف نظریے سے متاثر پالیسی سمجھنا درست نہیں۔ بنگلہ دیش بینک کے مطابق مالی سال 26-2025 میں سعودی عرب بنگلہ دیش کے لیے ریمیٹنس کا سب سے بڑا ذریعہ تھا، جہاں سے تقریباً 5.85 ارب ڈالر کی رقم آئی۔ لاکھوں بنگلہ دیشی خلیجی خطے میں کام کرتے ہیں۔ ڈھاکہ کی توانائی سلامتی، غیر ملکی روزگار اور سرمایہ کاری کے منصوبوں کے لیے ریاض اہم ہے۔ ترکی دفاعی ساز و سامان اور سیاسی حمایت کا تیزی سے ابھرتا ہوا اور اہم ذریعہ ہے۔ وہیں پاکستان فوجی روابط کی پیشکش کرتا ہے اور موجودہ حکومت کے تحت ڈھاکہ اس کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔

دوسرا بڑا عامل براہ راست ہندوستان سے جڑا ہے۔ ہندوستان کی جانب سے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو پناہ دینے، ان کی حوالگی پر خاموشی اختیار کرنے اور مبینہ طور پر غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کو زبردستی سرحد پار دھکیلنے کی وجہ سے ڈھاکہ اور نئی دہلی کے تعلقات کشیدہ ہیں۔ ہندوستان کی سرزمین سے حسینہ کے سیاسی بیان نے وزیر اعظم طارق رحمان کے مجوزہ ہندوستان دورے کو کھٹائی میں ڈال دیا ہے۔

پاکستان والے اتحاد سے جڑنا نئی دہلی کو سخت پیغام دے گا کہ بنگلہ دیش کے پاس دیگر اسٹریٹجک متبادل بھی ہیں۔ ہندوستان اس کے بیشتر حصے کو 3 طرف سے گھیرتا ہے، اس کے دریائی نظاموں کو کنٹرول کرتا ہے اور اس کے کئی سب سے سستے نقل و حمل کے راستوں پر قابض ہے۔ ڈھاکہ اس جغرافیائی عدم توازن کو ختم نہیں کر سکتا۔ لیکن وہ دنیا کے دیگر حصوں میں نئے تعلقات ضرور بنا سکتا ہے۔ مکہ معاہدہ اسے حقیقی فوجی سیکورٹی کے مقابلے میں ایک بڑا سفارتی اور علامتی دباؤ بنانے کا ذریعہ فراہم کرتا ہے۔ نہ سعودی عرب اور نہ ہی ترکی کسی بنگلہ دیشی تنازعے کے سلسلے میں ہندوستان سے براہ راست ٹکرانے کا خطرہ مول لیں گے۔ پاکستان کی اس میں شمولیت زیادہ حساس ہے، اس لیے وہ براہ راست زیادہ کارآمد ثابت نہیں ہو سکتا۔ پھر بھی، بیرونی ممالک کی مضبوط حمایت کا یہ احساس ڈھاکہ کو بین الاقوامی سفارت کاری میں کھل کر کھیلنے اور اپنی شرائط پر بات کرنے کی طاقت دیتا ہے۔

ترکی نے جدید ترین ڈرون، میزائل، بحری جنگی جہاز اور الیکٹرانک جنگی صنعتوں کا ایک مسابقتی ڈھانچہ تیار کیا ہے۔ پاکستان فوجی تربیت، حقیقی جنگ کا تجربہ اور چین کے ساتھ مل کر تیار کیے گئے ہتھیاروں کے نظام تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ وہیں، سعودی عرب سرمایہ اور خریداری کی قوت فراہم کرتا ہے۔ بنگلہ دیش اس شراکت داری کا استعمال ٹیکنالوجی کی منتقلی، مشترکہ ہتھیاروں کی پیداوار، خفیہ معلومات کے تعاون، سائبر صلاحیتوں اور خلیج بنگال میں سمندری نگرانی کو مضبوط بنانے میں کر سکتا ہے۔ یہ اس لیے بھی اہمیت رکھتا ہے کہ ڈھاکہ کسی ایک ملک پر انحصار کیے بغیر اپنی فوج کی جدید کاری کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ پہلے ہی چین سے جے-10 سی ای جنگجو طیارے اور اٹیک ہیلی کاپٹر لینے کا ارادہ رکھتا ہے۔

لیکن ہتھیاروں کی فراہمی میں تنوع کے لیے کسی باہمی دفاعی معاہدے کا پابند ہونا ضروری نہیں اور یہی وہ باریک فرق ہے جہاں ڈھاکہ کی حکمت عملی ایک خطرناک موڑ لے لیتی ہے۔ اس معاہدے کی عوامی طور پر دستیاب دفعات ان بنیادی سوالات کو جواب طلب چھوڑ دیتی ہیں جو اس کی حقیقی افادیت کا تعین کریں گے۔ اس اتحاد کے پاس ناٹو جیسا کوئی متحدہ فوجی کمانڈ ڈھانچہ نہیں، کوئی کثیر ملکی فوجی دستہ نہیں اور نہ ہی کسی مشترکہ ہنگامی فوجی منصوبے کا کوئی تجربہ ہے۔

اس کے رکن ممالک کے دشمن اور اسٹریٹجک ترجیحات بالکل مختلف ہیں۔ پاکستان کی تشویش ہندوستان ہے، سعودی عرب کی توجہ خلیجی خطے پر ہے اور ترکی کی ترجیحات شام، اسرائیل سے لے کر روس اور مشرقی بحیرۂ روم تک پھیلی ہوئی ہیں۔ ایسے میں بنگلہ دیش خود کو ایسے تنازعات میں پھنسا سکتا ہے جن کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ کیا یہ معاہدہ کشمیر پر ہونے والی کسی نئی ہندوستان-پاکستان جنگ پر نافذ ہوگا؟ کیا سعودی علاقے پر کسی ایرانی حملے کی صورت میں بنگلہ دیش کو فوج بھیجنی پڑے گی؟ ترکی کا اسرائیل سے تصادم ہوتا ہے تو ڈھاکہ سے کیا توقع ہوگی؟ اور پھر اگر بنگلہ دیش کی میانمار سرحد پر فوجی تصادم ہوتا ہے، تو کیا یہ ممالک مدد کے لیے آئیں گے؟ جب تک ان سوالات کے جواب نہیں ملتے، یہ معاہدہ بنگلہ دیش کو سیکورٹی کا صرف ایک وہم دیتا ہے، جبکہ اسے دوسروں کی جنگ میں گھسیٹے جانے کا حقیقی خطرہ پیدا کرتا ہے۔

اس کے اقتصادی خطرات کہیں زیادہ فوری اور سنگین ہیں۔ بنگلہ دیش نے مالی سال 26-2025 میں اشیا کی برآمد سے 48 ارب ڈالر کی آمدنی حاصل کی۔ اس کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت مغربی ممالک پر منحصر ہے۔ یورپی یونین اس کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، جبکہ 2025 میں امریکہ کی جانب سے بنگلہ دیش سے کیا جانے والا درآمد 9.5 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا۔ ملک کو جاپان اور چین سے بھاری سرمایہ کاری، خلیجی ممالک سے توانائی اور ہندوستان کے ساتھ کام کے تعلقات کی سخت ضرورت ہے۔ اس کا اقتصادی ترقی کا ماڈل مسابقتی سیاسی گروپوں کے ساتھ تجارتی تعلقات برقرار رکھنے پر قائم ہے۔

مکہ معاہدے کی رکنیت لینے سے بنگلہ دیش کے لیے مغربی بازار فوری طور پر بند نہیں ہوں گے۔ سعودی عرب اور ترکی دونوں کے واشنگٹن سے گہرے تعلقات ہیں۔ ترکی خود ناٹو کا رکن ہے۔ چین بھی شاید ایسے کسی ڈھانچے کی مخالفت نہیں کرے گا جس میں پاکستان ہو۔ اصل خطرہ آہستہ آہستہ گہرے ہونے والے سیاسی اثرات کا ہے۔ اگر یہ معاہدہ ایران یا اسرائیل کے ساتھ کسی براہ راست ٹکراؤ میں الجھتا ہے، تو بنگلہ دیش کو مغربی ممالک کے سخت سفارتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگر اس کی نوعیت ہندوستان مخالف بن جاتی ہے، تو نئی دہلی تجارت، ویزا، کنیکٹیویٹی، سرحدی انتظام یا علاقائی سفارت کاری کے ذریعے جوابی کارروائی کر سکتی ہے۔ اگر سعودی عرب اور ترکی الگ الگ سمتوں میں کھنچتے ہیں، تو ڈھاکہ کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کس کا ساتھ دے۔

بنگلہ دیش نے روایتی طور پر اپنے اسٹریٹجک ابہام کو بڑے اقتصادی فائدے میں تبدیل کیا ہے۔ وہ چین سے ہتھیار خریدتا ہے، مغرب کو کپڑے فروخت کرتا ہے، خلیج سے ریمیٹنس حاصل کرتا ہے، جاپان سے بنیادی ڈھانچے کے لیے مالی مدد لیتا ہے اور ہندوستان کے ساتھ عملی تعلقات برقرار رکھتا ہے۔ یہ سفارتی لچک ایسے ملک کے لیے بڑی طاقت ہے، جس کے پاس کسی بڑے جغرافیائی سیاسی تصادم یا پابندیوں کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں۔ اب تک اس معاہدے کے کسی بین الاقوامی بحران میں ’اجتماعی دفاع‘ کے وعدے کا امتحان نہیں ہوا۔ سمجھ داری کا راستہ یہی ہوگا کہ ڈھاکہ بغیر کسی پابند فوجی شرط کے صرف تعاون کا رخ اختیار کرے... جیسے مبصر کا درجہ، مشترکہ فوجی مشقیں، خفیہ معلومات کا تبادلہ، سائبر سیکورٹی، سمندری نگرانی اور مشترکہ دفاعی پیداوار۔ مکمل رکنیت اس وقت تک مؤخر کرنی چاہیے جب تک کہ معاہدہ یہ واضح نہ کر دے کہ حقیقی حملہ کسے تصور کیا جائے گا، کیا فوجی کارروائی لازمی ہوگی، متنازعہ علاقوں کے معاملے میں کیا پالیسی ہوگی اور کیا رکن کے پاس ردعمل طے کرنے کا خود مختار اختیار ہوگا۔

فی الحال یہ معاہدہ صرف بلند حوصلہ پر مبنی ایک وعدہ ہے، جس کی سیاسی قدر کو اس کی حقیقی فوجی صلاحیت سے کہیں زیادہ سمجھا جا رہا ہے۔ بنگلہ دیش کے پاس اس کے ساتھ سفارتی مکالمے کی کئی وجوہات ہیں۔ لیکن اس نے اب تک یہ ثابت نہیں کیا ہے کہ وہ وجوہات اس فوجی معاہدے میں باضابطہ طور پر شامل ہونے کے لیے کافی ہیں۔

(مضمون نگار فیصل محمود ڈھاکہ میں مقیم سینئر صحافی ہیں)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔