
آئی اے این ایس
اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کامیابی اور ٹی ایم سی کی شکست کے بعد مغربی بنگال کی سیاسی و سماجی صورت حال میں قابل ذکر تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ یہ تبدیلی بی جے پی کے سیاسی نقطہ نظر سے تو اہم ہے لیکن معاشرتی نقطہ نظر سے تشویش ناک ہے۔ بی جے پی کسی بھی ریاست میں الیکشن جیتنے کے بعد وہاں کے اپوزیشن کے ساتھ جو سلوک کرتی ہے وہی سلوک وہ بنگال میں ٹی ایم سی کے ساتھ کر رہی ہے۔ ایسے سیاست دانوں کی بہتات ہے جن کی سیاست موقع پرستی کے محور پر گردش کرتی ہے اور جو ہر چڑھتے سورج کی پوجا کو ہی اپنی سیاسی معراج سمجھتے ہیں۔ یہی سب کچھ بنگال میں بھی ہو رہا ہے۔ ٹی ایم سی سپریمو اور بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے انتہائی قریبی سیاست داں بھی ان کا دامن چھوڑ کر بی جے پی کاددامن تھامنے ہی میں اپنی عافیت سمجھ رہے ہیں۔ بعض سیاست داں بی جے پی کا دامن تھامنے کے بعد ممتا بنرجی کو مخاطب کرکے یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ ہم نے سیاسی اعتبار سے صحیح فیصلہ کیا ہے لیکن جذباتی اعتبار سے غلط قدم اٹھایا ہے اور ہم دیدی کو فراموش نہیں کر پائیں گے۔
Published: undefined
ٹی ایم سی ٹوٹ گئی ہے اور رت برت بنرجی کی قیادت میں ایک دوسرا گروپ بن گیا ہے اور رت برت کو ایوان میں قائد حزب اختلاف کا درجہ بھی مل گیا ہے۔ یہاں بھی تقریباً وہی تاریخ دوہرائی گئی ہے جو مہاراشٹر میں شیو سینا کو توڑنے کے بعد دوہرائی گئی تھی۔ اطلاعات کے مطابق رت برت بنرجی کی قیادت میں ٹی ایم سی کے80 ارکان اسمبلی میں سے 60 الگ ہو گئے ہیں۔ اسی طرح اس کے ارکان پارلیمنٹ بھی اس سے الگ ہو رہے ہیں اور جو بچ رہے ہیں ان کی بولیوں میں بھی بے اطمینانی کی کیفیت محسوس ہو رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹی ایم سی کے 28 ممبران پارلیمنٹ میں سے تقریباً 20 نے کاکولی گھوش دستیدار کی قیادت میں این ڈی اے کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ ٹی ایم سی کے تقریباً ایک سو کونسلر بھی یا تو استعفیٰ دے چکے ہیں یا پھر اپنی وفاداری بدلنے کو سوچ رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس سیاسی انخلا یا تبدیلیِ وفاداری کی سب سے بڑی وجہ ممتا بنرجی کی جانب سے اپنے بھتیجے ابھیشیک بنرجی کو آگے بڑھانا اور پارٹی کے سینئر رہنماوں کے مشوروں کو نظرانداز کرنا ہے۔
Published: undefined
جس طرح بی جے پی کے اقتدار والی ریاستوں میں فرقہ واریت کا بول بالا ہو جاتا ہے اور اقلیتیں بالخصوص مسلمان شرپسند عناصر کے نشانے پر آجاتے ہیں اسی طرح بنگال میں بھی فرقہ واریت اپنے پیر پھیلا چکی ہے۔ وہاں بھی بلڈوزور ایکشن ہو رہا ہے اور جے شری رام کے نعرے کے ساتھ مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تازہ واقعہ پرولیا ضلع میں گلی گلی پھیری لگا کر برتن بیچنے والے ایک مسلمان کی ہلاکت کا ہے۔ اس واقعے کے بعد مسلمانوں میں خوف وہراس ہے اور وہ ڈر رہے ہیں کہ اب دوسرے پھیری والوں کو بھی ہدف بنایا جا سکتا ہے۔ ہلاک شدہ کے اہل خانہ کے مطابق مسلمانوں سے زبردستی جے شری رام کے نعرے لگوانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ 47 سالہ اکبر منڈل کون 9 جون کو ایک گھر میں بلا کر ہلاک کیا گیا۔ اس کے بیس سالہ بیٹے ذوالفقار کا کہنا ہے کہ ریاست میں جو ماحول بن گیا ہے اس کی وجہ سے وہ لوگ خوف زدہ ہیں۔
قریبی بانکورا ضلع کے پونیسول گاوں میں اگلے روز جب اکبر منڈل کی لاش آئی تو پورے گاوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ یہ علاقہ جنگل محل کہلاتا ہے اور یہاں ماضی میں کئی اہم سیاسی واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ ذوالفقار نے غریبی کی وجہ سے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ دی اور باپ کی طرح پھیری لگانے لگا۔ اب اس کی بہن نے بھی جو گیارہویں میں تھی تعلیم ادھوری چھوڑ دی ہے۔ ذوالفقار کے مطابق اکبر 9 جون کو برتن بیچنے گیا تھا کہ سپورڈیہی گاوں میں اسے ایک گھر میں گھسیٹ لیا گیا۔ اس پر نامعلوم افراد نے حملہ کیا۔ اس کو لاٹھی ڈنڈوں سے مارا جانے لگا۔ جب اس نے خود کو بچانے کی کوشش کی تو اسے کلہاڑی سے مار دیا گیا۔ پولیس اس معاملے میں کسی سیاسی فرقہ وارانہ وجہ سے انکار کرتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ لگتا ہے تکرار کے بعد لڑائی ہوئی اور پھر اس کا قتل کیا گیا۔ پولیس کے مطابق ملزم بسو ناتھ مہتو کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس علاقے میں بیشتر مسلمان پھیری لگاتے اور گلی گلی سامان بیچتے ہیں۔ لیکن اب وہ سب خوف زدہ ہیں۔ اکبر کے بھائی نور محمد کا، جو کہ چکن بیچ کر روزی روٹی چلاتے ہیں، کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد پھیری لگانے والے دوسرے لوگ اپنے گھروں کو لوٹ آئے ہیں۔ اب مسلمان آسان ہدف بن گئے ہیں۔ مذکورہ گاوں میں تلاش معاش کا اور کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ وہ لوگ اب کیسے اپنا گھر چلائیں۔
Published: undefined
اب جبکہ بی جے پی کی حکومت ہے اور بی جے پی نے انتخابات کے دوران مبینہ بنگلہ دیشیوں کو واپس بنگلہ دیش بھیجنے کا وعدہ کیا تھا تو بنگلہ بولنے والے ہزاروں مسلمان اور روہنگیا مسلمان خوف زدہ ہیں کہ انھیں وہاں سے بنگلہ دیش میں دھکیل دیا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ پانچ ہزار ایسے افراد ہیں جن کے پاس شہریت کا کوئی دستاویز نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری کا کہنا ہے کہ 4800 افراد کو پہلے ہی سرحد پار بھیجا جا چکا ہے باقی 836 افراد حراست میں ہیں۔ یاد رہے کہ مبینہ غیر قانونی تارکین وطن کا معاملہ بی جے پی کی انتخابی سیاست کا ایک اہم حصہ ہے۔ وہ اکثر و بیشتر یہ معاملہ اٹھاتی ہے اور غیر قانونی دراندازوں کو واپس بھیجنے کا وعدہ کرتی ہے۔
بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بنگلہ دیش سے دراندازوں کے آنے کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے آبادی کا تناسب بدلتا جا رہا ہے۔ وزیر داخلہ امت شاہ کا کہنا ہے کہ حکومت ہند ایک بھی درانداز کو آنے نہیں دے گی اورجو آگئے ہیں ان کو ان کے ملک واپس بھیجا جائے گا۔ ان کے خیال میں ایک سازش کے تحت دراندازی ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان چار ہزار کلومیٹر کی سرحد ہے جس میں سے نصف یعنی تقریباً 2500 کلومیٹر سرحد مغربی بنگال سے لگتی ہے۔ بی جے پی کا الزام ہے کہ ٹی ایم سی حکومت نے دراندازی کی طرف سے آنکھیں بند کر لی تھیں۔ جبکہ بہت سے بنگلہ بولنے والے مسلمانوں کا دعویٰ ہے کہ ان کی، ان کے والدین کی اور دادا دادی کی بھی پیدائش ہندوستان میں ہوئی ہے اور وہ بنگلہ دیشی نہیں ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق محض بنگلہ بولنے کی وجہ سے ان لوگوں پر بنگلہ دیشی ہونے کا لیبل چسپاں کر دیا گیا ہے۔
Published: undefined
مبینہ دراندازوں کو واپس بنگلہ دیش بھیجنے کی وجہ سے جہاں بنگلہ بولنے والے مسلمانوں میں خوف و ہراس کا عالم ہے وہیں ہند بنگلہ دیش تعلقات بھی خطرے میں پڑ گئے ہیں۔ دونوں ملکوں کے رشتے پہلے ہی خراب چل رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اس معاملے کی وجہ سے مزید خراب ہو جائیں گے۔ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ نے گزشتہ ماہ حکومت ہند کو ایک مکتوب ارسال کیا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ لوگوں کو ان کے ملک میں دھکیلنے کا عمل قابل قبول نہیں ہے۔ ان کے مطابق صرف ان لوگوں کو اپنے ملک میں قبول کیا جائے گا جن کی ضابطے کے مطابق جانچ ہو اور یہ ثابت ہو جائے کہ وہ بنگلہ دیشی ہیں۔ انسانی حقوق کے گروپوں اور بنگلہ دیش حکومت کا کہنا ہے کہ لوگوں کو ضابطوں کو نظرانداز کرکے سرحد پار دھکیلا جا رہا ہے۔ اس سے دونوں ملکوں کے تعلقات مزید بگڑ جائیں گے۔ اگر ہندوستان چاہتا ہے کہ یہ معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہو تو مناسب طریقے سے اور ضابطوں کے مطابق دراندازوں کی جانچ کرنی ہوگی۔ جب یہ ثابت ہو جائے کہ فلاں شخص بنگلہ دیشی ہے اسی وقت اسے بنگلہ دیش واپس کیا جائے۔
بہرحال موجودہ صورت حال نے ریاست کا ماحول باکل بدل کر رکھ دیا ہے۔ بی جے پی کے عروج کی وجہ سے شرپسندوں کو ابھرنے کا موقع مل گیا اور وہ مسلمانوں اور بنگلہ بولنے والوں کو نشانہ بنانے لگے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جس طرح بی جے پی کے اقتدار والی دیگر ریاستوں میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی زندگی اور ان کے حقوق خطرے میں پڑ گئے ہیں اسی طرح مغربی بنگال میں بھی خطرے میں پڑ گئے ہیں۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined