فکر و خیالات

مشرق وسطیٰ کی جنگ: 2.6 لاکھ مزدور واپس، 3 لاکھ نوکریاں خطرے میں

مشرق وسطیٰ کی جنگ نے لاکھوں ہندوستانی مزدوروں کی واپسی، برآمدات میں کمی اور روزگار کے بحران کو جنم دیا۔ مہنگائی، سپلائی چین اور لیبر قوانین نے حالات مزید پیچیدہ بنا دیے ہیں

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>

علامتی تصویر / اے آئی

 

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ نے ہندوستانی معیشت، خاص طور پر مزدور طبقے اور برآمداتی شعبے کو شدید متاثر کیا ہے۔ حکومت نے جنگ زدہ علاقوں سے ہندوستانی شہریوں کو نکالنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق اب تک تقریباً 2.60 لاکھ ہندوستانی واپس آ چکے ہیں، جن میں اکثریت مزدوروں کی ہے۔ اس تنازعے کے دوران کم از کم دو ہندوستانی مزدور اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جبکہ بھرتی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ تین لاکھ سے زائد افراد کی بیرون ملک ملازمتیں تاخیر کا شکار ہو سکتی ہیں۔

اگرچہ مزدوروں کی واپسی ایک مثبت قدم ہے، لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ ملک میں ان کے لیے روزگار کے مواقع محدود ہیں۔ بیرون ملک کام کرنے والے یہی مزدور اپنے گھروں کو جو رقم بھیجتے تھے، وہ ان کے خاندانوں کی بنیادی ضرورتوں کا سہارا تھی۔ اندازہ ہے کہ مشرق وسطیٰ سے آنے والی ترسیلات زر، جو سالانہ 12 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ ہیں، اب متاثر ہو سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی زیورات، کپڑوں اور دواسازی کی برآمدات پر بھی اس جنگ کا براہ راست اثر پڑ رہا ہے۔

Published: undefined

عالمی سطح پر جاری تنازعات نے ہندوستانی کمپنیوں کے رویے کو بھی بدل دیا ہے۔ تقریباً 63 فیصد کمپنیوں نے نئی بھرتیاں روک دی ہیں یا ملازمین کی تعداد کم کر دی ہے۔ مزید 15 فیصد کمپنیاں اب مستقل ملازمتوں کے بجائے ٹھیکے پر کام کرانے کو ترجیح دے رہی ہیں، جس سے مینوفیکچرنگ، آئی ٹی اور خدمات کے شعبوں میں ملازمت کی حفاظت اور کارکنوں کا حوصلہ متاثر ہوا ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی نے خاص طور پر ہریانہ کی صنعتوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ ٹیکسٹائل اور باسمتی چاول کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں، جس کی بڑی وجہ ایل پی جی کی کمی، خام مال کی بڑھتی قیمتیں اور سپلائی چین میں رکاوٹیں ہیں۔ پانی پت میں ایل پی جی کی فراہمی کم ہونے کے باعث تقریباً 400 رنگائی یونٹس بند ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ 150 یونٹس کو ملنے والی پی این جی سپلائی میں 60 فیصد کمی آئی ہے، جس سے پیداوار کا بڑا حصہ متاثر ہوا ہے۔

Published: undefined

رنگائی کا کام، جو ٹیکسٹائل صنعت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے، تقریباً ٹھپ ہو چکا ہے۔ پانی پت کی 60 ہزار کروڑ روپے مالیت کی صنعت، جس میں 20 ہزار کروڑ روپے کی برآمدات شامل ہیں، شدید بحران کا شکار ہے۔ برہی اور کنڈلی جیسے صنعتی علاقوں میں 125 سے زیادہ یونٹس بند ہو چکے ہیں، جبکہ اندازہ ہے کہ پورے ہریانہ میں 300 سے زائد ٹیکسٹائل فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں۔ اس کے نتیجے میں 35 ہزار سے زیادہ مزدور بے روزگار ہو گئے ہیں اور کئی مہاجر مزدور اپنے آبائی علاقوں کو واپس لوٹنے پر مجبور ہیں۔

صرف صنعتی مزدور ہی نہیں بلکہ زرعی شعبہ بھی اس بحران سے متاثر ہوا ہے۔ جنگ کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی نے بھی فصلوں کو نقصان پہنچایا ہے، جس سے کسانوں اور کھیت مزدوروں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔

حکومت پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ اس نے بڑی کمپنیوں اور صنعتوں کے مفادات کو ترجیح دی ہے، جبکہ عام شہری، خاص طور پر مزدور اور کسان، نظر انداز ہو گئے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت واضح طور پر یہ بتائے کہ نئی ٹیکنالوجیز اور جنگی حالات نے مزدور طبقے کو کس حد تک متاثر کیا ہے، اور ان کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

Published: undefined

یہ مسئلہ صرف ہندوستان تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر مزدور طبقہ جنگوں کے اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔ بڑھتی ہوئی توانائی کی قیمتیں، سپلائی چین میں خلل، مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ اور تجارتی غیر یقینی صورتحال نے معیشتوں کو کمزور کیا ہے۔ مارچ 2026 میں ہندوستان کے نجی شعبے کی ترقی کی رفتار گزشتہ تین سالوں میں سب سے کم رہی، جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ معیشت دباؤ میں ہے۔

مشرق وسطیٰ کے تنازعات نے ماضی میں بھی تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے، جس سے ہندوستان کا درآمدی بل بڑھا، مہنگائی میں اضافہ ہوا اور کئی صنعتوں کے منافع پر دباؤ پڑا۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو بھی بڑھاتا ہے اور روپے کی قدر کو متاثر کرتا ہے، جس کے نتیجے میں درآمدی اشیاء مہنگی ہو جاتی ہیں۔

ان تمام عوامل کا براہ راست اثر روزگار کے بازار پر پڑ رہا ہے۔ ایک طرف نئی بھرتیوں میں کمی آئی ہے، جبکہ دوسری طرف لاکھوں مہاجر مزدوروں کے لیے بیرون ملک کام کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

Published: undefined

اسی دوران، ملک میں مزدوروں کے احتجاج اور ہڑتالوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مائگرینٹ ورکرز سالیڈیرٹی نیٹ ورک کے مطابق 2026 کے پہلے تین مہینوں میں کم از کم 28 بڑے احتجاج اور ہڑتالیں ہوئیں۔ ان مظاہروں کو یکم اپریل 2026 کی ملک گیر ہڑتال کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے، جس میں نئے لیبر قوانین کے خلاف آواز اٹھائی گئی۔

مزدوروں کی بنیادی مانگیں ہمیشہ سے ایک جیسی رہی ہیں: مستقل ملازمت، مناسب اجرت اور ایسے قوانین جو انہیں استحصال سے بچا سکیں۔ دنیا بھر میں مزدوروں نے آٹھ گھنٹے کے کام کے دن جیسے حقوق بڑی جدوجہد کے بعد حاصل کیے تھے، لیکن نئی ٹیکنالوجیز، خاص طور پر روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت، کے باعث کارپوریٹ ادارے اب لچکدار لیبر مارکیٹ چاہتے ہیں جہاں ملازمین کو آسانی سے رکھا اور نکالا جا سکے۔

ہندوستان میں بھی یہی رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے۔ مستقل ملازمتوں میں کمی آ رہی ہے جبکہ عارضی اور ٹھیکے پر کام کرنے والے ملازمین کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ اس میں مہاجر مزدور، کیجول ورکرز اور ٹرینی شامل ہیں، جو کم تنخواہ اور غیر یقینی مستقبل کا سامنا کر رہے ہیں۔

Published: undefined

مثال کے طور پر، ماروتی سوزوکی کے پلانٹس میں کام کرنے والے ملازمین کی تعداد تقریباً 35 سے 36 ہزار ہے، لیکن ان میں سے صرف 17 سے 18 فیصد مستقل ملازمین ہیں۔ باقی بڑی تعداد عارضی یا ٹھیکے پر کام کرنے والوں کی ہے، جن کی آمدنی 12 سے 30 ہزار روپے ماہانہ کے درمیان ہے، جبکہ مستقل ملازمین زیادہ تنخواہ اور بہتر مراعات حاصل کرتے ہیں۔

یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مزدور طبقہ کس طرح عدم تحفظ کا شکار ہے۔ ماضی میں عدالتوں اور حکومت نے بھی اس بات کو تسلیم کیا تھا کہ مستقل نوعیت کے کام کرنے والے مزدوروں کو مستقل ملازمت ملنی چاہیے، لیکن نئے لیبر قوانین نے اس تحفظ کو کمزور کر دیا ہے۔

ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ بڑی تعداد میں ہونے والے یہ احتجاج اور ہڑتالیں عوامی توجہ حاصل نہیں کر پاتیں، کیونکہ میڈیا میں انہیں مناسب جگہ نہیں دی جاتی۔ اس کے باوجود، یہ مظاہرے اس بات کا ثبوت ہیں کہ مزدور طبقہ اپنے حقوق کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہا ہے۔

Published: undefined

آخر میں یہ سوال اہم ہے کہ کیا فیکٹریوں کے بند ہونے کے لیے مزدور ذمہ دار ہیں؟ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2020-21 سے 2024-25 کے درمیان دو لاکھ سے زیادہ نجی کمپنیاں بند ہوئیں، لیکن اس کا تعلق زیادہ تر معاشی دباؤ، دیوالیہ پن اور کاروباری فیصلوں سے ہے، نہ کہ مزدوروں کے احتجاج سے۔

موجودہ حالات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ جنگ، ٹیکنالوجی اور پالیسیوں کے امتزاج نے مزدور طبقے کو ایک نازک صورتحال میں لا کھڑا کیا ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف معیشت بلکہ سماجی استحکام پر بھی پڑیں گے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined