فکر و خیالات

اقوام متحدہ: نئے انسانی ہمدردی نظام کی جستجو

عالمی ادارے کا نیا فریم ورک امن، پائیدار ترقی اور انسانی حقوق پر مبنی اصلاحات کے ذریعے ادارہ جاتی ہم آہنگی، سپلائی چین انضمام، ڈیجیٹل جدت اور انسانی ہمدردی کے مؤثر نظام کو یقینی بنانے کی کوشش ہے

<div class="paragraphs"><p>اقوام متحدہ جنرل اسمبلی / فائل تصویر / Getty Images</p></div>

اقوام متحدہ جنرل اسمبلی / فائل تصویر / Getty Images

 
ANGELA WEISS

اقوام متحدہ اس وقت اپنی تاریخ کے ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے جہاں بڑھتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی تنازعات، موسمیاتی آفات کی شدت اور بین الاقوامی انسانی قانون پر منڈلاتے خطرات نے موجودہ عالمی ڈھانچے کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اس منظرنامے میں، سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش کی قیادت میں یو این 80 اقدام (یو این 80 انیشیٹو) کا آغاز محض ایک انتظامی رد و بدل نہیں بلکہ ادارے کی بقا اور اسے ’مستقبل کے لیے موزوں‘ بنانے کی ایک جامع کوشش ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد اقوام متحدہ کو موجودہ منتشر حالت سے نکال کر ایک مربوط اور مستعد تنظیم میں تبدیل کرنا ہے۔

یہ اصلاحاتی فریم ورک تین بنیادی ستونوں پر مرکوز ہے، جنہیں ڈیٹا اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے باہمی طور پر منسلک کیا گیا ہے۔ اول، امن و سلامتی ــ جس میں تنازعات کے حل اور امن سازی کی کارروائیوں کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا شامل ہے۔ دوم، پائیدار ترقیــ جس میں عالمی ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے وسائل کی تقسیم کو موثر بنانا ہے۔ اور تیسرے، انسانی حقوق کے تحت عالمی سطح پر انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی عزم کو تقویت دینا مقصود ہے۔ اسی وسیع تر وژن کے تحت "نیا انسانی ہمدردی کا معاہدہ" پیش کیا گیا ہے، جو عالمی امدادی نظام کی ازسرنو ترتیب کے لیے ایک تزویراتی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

Published: undefined

نیا اصلاحاتی فریم ورک

موجودہ عالمی بحرانوں کی لہر میں انسانی ضروریات دستیاب وسائل سے کہیں زیادہ تجاوز کر چکی ہیں۔ ہنگامی امدادی امور کے رابطہ کار ٹام فلیچر کے مطابق، امدادی سرگرمیوں میں تکرار اور بکھراؤ کے برعکس "نیا انسانی ہمدردی کا معاہدہ" ایک ایسا انقلابی فریم ورک ہے جو "زندگی بچانے والی ترجیحات" کو اولیت دیتے ہوئے امدادی عمل کو تیز تر، کم خرچ اور زیادہ جوابدہ بنانے کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ اس کوشش میں اقوام متحدہ کے ادارے آئی او ایم کی ایمی پوپ، یو این ایچ سی آر کے برہم صالح، اور ورلڈ فوڈ پروگرام کے میتھیو ہولنگ ورتھ "ایک اکائی" کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ اس معاہدے کے کلیدی اقدامات درج ذیل اہداف پر مبنی ہیں:

1. مشترکہ خدمات کا جامع کیٹلاگ: یہ محض ایک فہرست نہیں بلکہ خریداری اور لاجسٹکس کے درمیان رکاوٹوں کو ختم کرنے کا ایک موثر ذریعہ ہے، جو ایک واحد داخلہ پوائنٹ فراہم کرتا ہے۔

2. منصوبہ بندی اور رپورٹنگ کی ہم آہنگی: رپورٹنگ کے عمل کو سادہ بنانا تاکہ انسانی وسائل کو کاغذی کارروائی کے بجائے براہِ راست فیلڈ آپریشنز پر مرکوز کیا جا سکے۔

Published: undefined

3. مربوط امدادی سفارت کاری:ایجنسیوں کو ایک قیادت کے تحت لا کر سفارتی کوششوں میں تکرار کو ختم کرنا اور بین الاقوامی رسائی کو زیادہ موثر بنانا۔

4. عملی ذمہ داریوں کی شفاف تقسیم:خوراک، صحت، اور غذائیت جیسے شعبوں میں ہر ایجنسی کے کردار کو واضح طور پر متعین کرنا تاکہ آپریشنل ابہام دور ہو۔

یہ پالیسی اقدامات براہِ راست سپلائی چین کی کارکردگی اور وسائل کی ترسیل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

سپلائی چین کا انضمام

ایک پالیسی ساز کے نقطہ نظر سے، متوازی گوداموں اور گاڑیوں کا برقرار رہنا انتظامی بوجھ اور وسائل کے ضیاع کا باعث ہے۔ یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل اس حوالے سے "بامعنی ہم آہنگی" پر زور دیتی ہیں۔ سپلائی چین کا انضمام محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں ہے بلکہ اس کا براہِ راست اثر مستحق افراد، بالخصوص بچوں کی زندگیوں پر پڑتا ہے۔ جب لاجسٹکس نیٹ ورک کی اضافی تہیں ختم کر دی جاتی ہیں، تو فراہمی کی رفتار تیز ہو جاتی ہے، جو غذائی قلت کے شکار بچوں کے لیے زندگی اور موت کا فرق ثابت ہو سکتی ہے۔فزیکل لاجسٹکس کی یہ کارکردگی اس وقت تک پائیدار نہیں ہو سکتی جب تک اسے ڈیجیٹل ذہانت اور ڈیٹا کے مربوط نظام کی پشت پناہی حاصل نہ ہو۔

Published: undefined

ڈیجیٹل تبدیلی اور ڈیٹا کا اشتراک

جدید انسانی ہمدردی کے ردعمل میں ڈیٹا محض معلومات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک تزویراتی اثاثہ ہے۔ "ہیومینٹیرین ڈیٹا کولیبریٹو" کا قیام رکن ممالک کی ضروریات کو تحقیقی ترجیحات کے ساتھ جوڑنے کا ایک پل ہے، جس سے امداد کی درست ہدف بندی ممکن ہوتی ہے۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا مجوزہ پلیٹ فارم علمی تحقیق اور عملی تربیت کے درمیان موجود خلیج کو ختم کرنے کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ ڈیجیٹل کارکردگی سے حاصل ہونے والے فوائد عارضی ثابت ہوں گے اگر انہیں مستقل ادارہ جاتی ڈھانچے میں محفوظ نہ کیا جائے۔

تحقیقی، تربیتی شعبوں کی تنظیمِ نو

اقوام متحدہ کے تحقیقی اور تربیتی شعبوں میں تکرارِ عمل اور مالیاتی کمزوریاں دور کرنے کے لیے "یو این 80" کے تحت ایک جامع تنظیمی ڈھانچہ تجویز کیا گیا ہے۔ اس اصلاح کا بنیادی مقصد وسائل کا بہترین استعمال اور ماہرانہ تجربات کی مرکزیت ہے۔ اس تنظیم نو کے اہم خدوخال درج ذیل ہیں:

Published: undefined

1. تربیتی شعبے کا قیام: 'اقوام متحدہ اسٹاف کالج 'کو 'یونیٹار' میں ضم کر کے ایک واحد تربیتی ادارہ بنانا، جس میں دونوں اداروں کے بنیادی مینڈیٹ اور ذمہ داریوں کو مکمل طور پر برقرار رکھا جائے گا۔

2. تحقیقی شعبے کا انضمام:'یو این رِزڈ'کو 'اقوام متحدہ یونیورسٹی' کا حصہ بنا کر تحقیق کے شعبے میں زیادہ ہم آہنگی پیدا کرنا۔

3. مشترکہ رابطہ کاری کا طریقہ کار: 'اقوام متحدہ یونیورسٹی' کے ریکٹر اور 'یونیٹار'کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی مشترکہ قیادت میں ایک ایسا نظام بنانا جو پورے نظام میں وسائل کے ضیاع کو روکے اور کارکردگی کو بڑھائے۔

مستقبل کا لائحہ عمل

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا حتمی مقصد ستمبر میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس تک ایک ایسا نظام تشکیل دینا ہے جو عالمی قیادت کے سامنے اپنی افادیت ثابت کر سکے۔ جیسا کہ پالیسی امور کے انڈر سیکرٹری جنرل گائے ریڈر نے واضح الفاظ میں کہا کہ اصل چیلنج یہ ثابت کرنا ہے کہ کیا اقوام متحدہ کا نظام آج کے سنگین مسائل اور کل کی غیر یقینی صورتحال کا مقابلہ کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔

Published: undefined

اس اصلاحاتی سفر کے دوران مارچ میں سول سوسائٹی کے ساتھ تزویراتی مشاورت کے لیے ٹاؤن ہال اجلاس منعقد ہوگا۔ جولائی میں ہائی لیول پولیٹیکل فورم میں پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔ اور ستمبر میں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اصلاحات کا حتمی نفاذکیا جائے گا۔ اِن دوررس اصلاحات کا نفاذ اس حقیقت کو یقینی بنائے گا کہ اقوام متحدہ محض ایک روایتی ادارہ نہ رہے بلکہ ایک ایسا متحرک اور مستعد عالمی نظام بن کر ابھرے جو کل کی غیر یقینی دنیا میں انسانیت کی بقا اور فلاح کا ضامن ہو۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined