
علامتی تصویر / اے آئی
انسانی تاریخ کے طویل فکری سفر میں ایک سوال ہمیشہ انسان کے سامنے کھڑا رہا ہے: حقیقت کیا ہے؟ یہ کائنات کہاں سے آئی اور اس کے پیچھے کون سی اصل طاقت کارفرما ہے؟ فلسفے کی بحثیں، سائنس کی تحقیقات اور انسانی شعور کا مسلسل غور و فکر ہمیں ایک بنیادی اصول تک پہنچاتا ہے: حقیقت متضاد نہیں ہو سکتی۔ اگر سچائی کئی متضاد شکلوں میں بٹ جائے تو وہ سچائی نہیں رہتی بلکہ مفروضہ بن جاتی ہے۔ اس لیے عقل کا تقاضا یہی ہے کہ سچائی آخرکار ایک ہی ہوتی ہے۔
اسی ایک حقیقت کو سمجھنے کے لیے انسان کو دو بڑے میدان ملتے ہیں: ایک کائنات کا وسیع منظرنامہ اور دوسرا اس کی اپنی داخلی دنیا۔ جب انسان آسمانوں اور زمین کے نظام پر غور کرتا ہے اور ساتھ ہی اپنے دل و دماغ کی گہرائیوں میں جھانکتا ہے تو اسے ہر طرف ایک ہی حقیقت کے آثار نظر آتے ہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے اسلام اپنی بنیادی تعلیم میں پیش کرتا ہے۔ اسلام دراصل کسی مخصوص قوم یا زمانے کا مذہب نہیں بلکہ اسی ایک حقیقت کا نام ہے کہ اس کائنات کا خالق اور حاکم ایک ہے اور انسان اسی کے سامنے جواب دہ ہے۔
Published: undefined
کائنات کی طرف نظر ڈالیں تو سب سے پہلے جو چیز نمایاں ہوتی ہے وہ اس کا حیرت انگیز نظم و ضبط ہے۔ زمین سورج کے گرد ایک خاص رفتار سے گردش کرتی ہے، چاند زمین کے گرد اپنے مقررہ مدار میں حرکت کرتا ہے اور اربوں کہکشائیں ایک منظم نظام کے تحت اپنے راستوں پر رواں ہیں۔ طبیعیات کے قوانین پوری کائنات میں یکساں طور پر کارفرما ہیں۔ کششِ ثقل، توانائی کے اصول اور مادے کی ساخت ہر جگہ ایک ہی قانون کے تابع ہیں۔ اس وحدت کو دیکھ کر عقل یہ سوال کرتی ہے کہ اگر کائنات کے پیچھے متعدد خود مختار قوتیں ہوتیں تو کیا یہ نظم اسی طرح قائم رہ سکتا تھا؟ حقیقت یہ ہے کہ ایسا ممکن نہیں ہوتا۔ نظم ہمیشہ وحدت کی علامت ہوتا ہے۔
جدید سائنس نے اس نظم کی باریکیوں کو جتنا زیادہ دریافت کیا ہے، اتنا ہی انسان کو حیرت میں ڈالا ہے۔ ماہرین طبیعیات بتاتے ہیں کہ کائنات کے بنیادی قوانین نہایت نازک توازن پر قائم ہیں۔ اگر کششِ ثقل کی قوت ذرا سی بھی مختلف ہوتی تو ستارے وجود میں نہ آ سکتے۔ اگر ایٹمی قوتوں کا تناسب بدل جاتا تو مادہ اپنی موجودہ شکل میں باقی نہ رہتا۔ زمین کا سورج سے فاصلہ بھی اس قدر متوازن ہے کہ معمولی سی تبدیلی زندگی کے امکان کو ختم کر سکتی تھی۔ یہ تمام حقائق اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ کائنات محض اتفاقی حادثہ نہیں بلکہ ایک منظم اور بامعنی تخلیق ہے۔
Published: undefined
اسی طرح فلکیات کی جدید تحقیق ہمیں بتاتی ہے کہ کائنات ہمیشہ سے موجود نہیں تھی بلکہ اس کا ایک آغاز ہوا۔ جب انسان اس حقیقت پر غور کرتا ہے تو ایک بنیادی سوال سامنے آتا ہے: جو چیز وجود میں آئی اسے وجود میں کس نے لایا؟ فلسفہ اس سوال کا جواب یہ دیتا ہے کہ ہر حادثہ کسی سبب کا محتاج ہوتا ہے۔ اگر ہم سببوں کی زنجیر کو پیچھے لے جائیں تو ہمیں آخرکار ایک ایسے سرچشمے تک پہنچنا پڑتا ہے جو خود کسی سبب کا محتاج نہ ہو بلکہ تمام وجود کا اصل منبع ہو۔
یہاں آ کر انسان کی عقل اس نتیجے تک پہنچتی ہے کہ کائنات کے پیچھے ایک اعلیٰ اور واحد حقیقت موجود ہے۔ یہی وہ بنیادی حقیقت ہے جسے اسلام پوری وضاحت کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ اسلام کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ کائنات کا خالق ایک ہے اور انسان اسی کے سامنے جواب دہ ہے۔ اسی لیے اسلام کا لفظی مفہوم بھی دراصل اس حقیقت کے سامنے سر جھکانے اور اس کے قانون کو قبول کرنے کا نام ہے۔
Published: undefined
اگر انسان اپنی داخلی دنیا کا مطالعہ کرے تو وہاں بھی اسی حقیقت کی جھلک نظر آتی ہے۔ انسان کے اندر ایک فطری اخلاقی شعور موجود ہے۔ دنیا کے مختلف معاشروں اور تہذیبوں میں رہنے والے انسان بنیادی اخلاقی اصولوں پر تقریباً متفق ہیں۔ سچائی کو اچھا اور جھوٹ کو برا سمجھا جاتا ہے۔ انصاف کو پسند کیا جاتا ہے اور ظلم کو ناپسند کیا جاتا ہے۔ کمزور کی مدد کرنا نیکی سمجھا جاتا ہے اور بے گناہ کو نقصان پہنچانا جرم۔
یہ بات اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ انسان کے اندر اچھائی اور برائی کا ایک فطری معیار موجود ہے۔ اگر اخلاق صرف انسانی ایجاد ہوتے تو ہر معاشرے میں ان کی شکل بالکل مختلف ہوتی، مگر انسانی ضمیر میں کچھ اصول ایسے ہیں جو تقریباً عالمگیر ہیں۔ اسلام اسی فطری اخلاقی نظام کو واضح اور منظم صورت میں پیش کرتا ہے اور انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اس کے اعمال کا تعلق ایک اعلیٰ اخلاقی حقیقت سے ہے۔
Published: undefined
انسانی فطرت کا ایک اور پہلو تعظیم اور پرستش کا جذبہ ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ انسان ہر دور میں کسی نہ کسی طاقت کے سامنے جھکتا رہا ہے۔ کسی نے سورج کو مقدس سمجھا، کسی نے ستاروں کو اور کسی نے طاقت یا دولت کو اپنی زندگی کا مرکز بنا لیا۔ یہ حقیقت اس بات کی علامت ہے کہ انسان کے اندر کسی اعلیٰ حقیقت کے سامنے جھکنے کا جذبہ فطری طور پر موجود ہے۔ اسلام اسی فطری جذبے کو اس کے اصل مرکز کی طرف متوجہ کرتا ہے اور انسان کو بتاتا ہے کہ تعظیم اور بندگی کا اصل حق صرف اسی ایک خالق کو حاصل ہے۔
اسلام کی ایک بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ وہ خود کو کسی نئی یا محدود روایت کے طور پر پیش نہیں کرتا بلکہ اسے وہی فطری دین قرار دیتا ہے جو انسانی تاریخ میں مختلف قوموں اور علاقوں میں پہنچایا جاتا رہا۔ انسانیت کے مختلف ادوار میں آنے والی تعلیمات کا بنیادی پیغام یہی تھا کہ کائنات کا خالق ایک ہے، انسان کو اخلاقی زندگی گزارنی چاہیے اور ایک دن اسے اپنے اعمال کے بارے میں جواب دینا ہوگا۔ اس طرح دیکھا جائے تو اسلام دراصل اسی فطری اور آفاقی حقیقت کا تسلسل ہے۔
Published: undefined
جب انسان کائنات کے نظم، فطرت کے حسن، اپنے ضمیر کی آواز اور اپنی عقل کے سوالات کو ایک ساتھ دیکھتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب مختلف راستے نہیں بلکہ ایک ہی حقیقت کی طرف جانے والے راستے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں آفاق اور انفس کی گواہیاں ایک دوسرے سے مل جاتی ہیں اور انسان کے سامنے سچائی کی ایک واضح تصویر ابھر آتی ہے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ کائنات کا ہر منظر اور انسان کا ہر احساس اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ آسمانوں کی وسعت، زمین کا نظام، انسانی ضمیر اور عقل کی روشنی سب ایک ہی پیغام دیتے ہیں کہ سچائی بکھری ہوئی نہیں بلکہ ایک ہے۔ اسلام اسی ایک حقیقت کو انسان کے سامنے واضح کرتا ہے اور اسے یاد دلاتا ہے کہ کائنات کے خالق کے سامنے عاجزی، اخلاق اور ذمہ داری ہی انسان کی اصل کامیابی کا راستہ ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined