فکر و خیالات

وہ نہیں چاہتے کہ آپ ’ستلج‘ فلم دیکھیں... ہرجندر

کسی اسٹریمنگ پلیٹ فارم سے فلم ہٹا کر تاریخ کو بدلا نہیں جا سکتا۔ اسے بہتر طریقے سے سمجھا جا سکتا ہے اگر شہریوں کو دیکھنے، سوال پوچھنے، بحث کرنے اور یاد رکھنے کا موقع دیا جائے۔

<div class="paragraphs"><p>فلم ’ستلج‘ کا پوسٹر، تصویر سوشل میڈیا</p></div>

فلم ’ستلج‘ کا پوسٹر، تصویر سوشل میڈیا

 

جب سنیما گھر میں روشنیاں مدھم ہوتی ہیں تو ناظرین خود کو ایک کہانی کے سپرد کرنے کی تیاری کرتے ہیں۔ اندھیرا ہمیں تخیل، منطق اور حقیقت کی دنیا میں جانے کی دعوت دیتا ہے۔ لیکن جب حکومت ہی کسی فلم پر تاریکی مسلط کر دے تو ہم سے نہ صرف یہ تجربہ چھن جاتا ہے بلکہ اس پر بحث و مباحثے کا موقع بھی ختم ہو جاتا ہے۔

ریلیز کے محض 48 گھنٹے بعد ’زی5‘ او ٹی ٹی پلیٹ فارم سے فلم ’ستلج‘ کو اچانک ہٹا دیا جانا یہی ظاہر کرتا ہے کہ آج کے ہندوستان میں تخلیقی آزادی کس قدر نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ یہ ایک تشویش ناک سوال کھڑا کرتا ہے کہ اجتماعی ماضی کے کن حصوں سے ہم بطور شہری دوبارہ روبرو ہو سکتے ہیں، اس کا فیصلہ آخر کون کرے گا؟

ہنی تریہن کی ہدایت کاری میں بننے والی اور دلجیت دوسانجھ کی اداکاری سے مزین فلم ’ستلج‘ (جس کا پہلے عنوان ’پنجاب 95‘ تھا) انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ خالصہ کی زندگی پر مبنی ہے۔ خالصہ نے پنجاب میں شورش کے دور کے دوران مبینہ غیر قانونی قتل اور خفیہ آخری رسومات کی تحقیقات کی تھیں۔ انہوں نے تقریباً 25 ہزار مبینہ غیر قانونی آخری رسومات کا ذکر کیا تھا۔ اگرچہ یہ تعداد متنازع رہی ہے۔ مختلف سرکاری تحقیقات اور آزاد محققین نے اس سے کہیں کم اعداد و شمار پیش کیے ہیں، اور یہ بحث آج بھی جاری ہے۔ فلم خالصہ کے دعووں کو اپنی کہانی کا مرکزی حصہ بناتی ہے، نہ کہ انہیں عدالتی طور پر ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش کرتی ہے۔

ایک بات غیر متنازع ہے، اور وہ ہے جسونت سنگھ خالصہ کا انجام۔ 1995 میں ان کا اغوا کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔ بعد میں پنجاب پولیس کے کئی اہلکار اس جرم کے قصوروار قرار دیے گئے۔ ان کا قتل پنجاب کے پُرآشوب برسوں میں ہونے والی زیادتیوں کی ایک طاقتور علامت بن گیا۔ فلم سے متعلق قانونی مقدمے کی سماعت کے دوران ایک جج کا یہ تبصرہ خاصا زیر بحث رہا ’’ماضی سے بھاگنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ جب تک آپ اپنے ماضی کا سامنا نہیں کریں گے، آپ کا مستقبل بہتر نہیں ہو سکتا۔‘‘ بدقسمتی سے ’ستلج‘ کو ہٹانے کا فیصلہ بالکل اسی کے برعکس رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔

فلم کا سفر خود سنسرشپ پر ایک تبصرہ ہے۔ 2022 میں اسے مرکزی فلم سرٹیفکیشن بورڈ (سی بی ایف سی) کے پاس پیش کیا گیا تھا۔ تقریباً 30 ماہ تک یہ وہاں تنازعات میں الجھی رہی۔ ہدایت کار ہنی تریہن کے مطابق بورڈ نے مختلف مراحل کی جانچ کے دوران 120 سے زیادہ کٹ لگانے کا مطالبہ کیا۔ ان میں پنجاب کے حوالوں، جسونت سنگھ خالصہ کے نام کے استعمال، پس منظر میں ہندوستانی پرچم دکھانے اور یہاں تک کہ گربانی پر بھی اعتراضات شامل تھے۔ دلیل یہ دی گئی کہ ان سے ’جذبات بھڑک سکتے ہیں‘۔ یہاں مسئلہ فلم ساز کے ہر بیان یا حکام کے ہر اعتراض سے اتفاق یا اختلاف کا نہیں ہے۔ جب کسی فن پارے کو اس کی اتنی زیادہ تاریخی علامتوں سے محروم کر دیا جائے کہ اس کا جغرافیائی پس منظر بھی فرضی محسوس ہونے لگے، تو ایسی سنسرشپ اسے مٹانے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔

فلم کے پروڈیوسرز نے یہ ’کٹ‘ قبول نہیں کیے اور فلم کو براہ راست ایک او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر جاری کر دیا، جہاں سرٹیفکیشن لازمی نہیں ہے۔ حکومت کو ریلیز کی اطلاع ملنے کے بعد ’زی5‘ کو فلم ہٹانے کی ہدایت دی گئی۔ اس کے پیچھے سیکورٹی خدشات وغیرہ کا حوالہ دیا گیا۔ حکام کا کہنا تھا کہ اگر فلم ساز فلم کو سنیما گھروں یا او ٹی ٹی پر بغیر تنازع کے ریلیز کرنا چاہتے تھے تو انہیں سرٹیفکیشن کے عمل پر عمل کرنا چاہیے تھا۔ حکومت کے مؤقف کی حمایت کرنے والوں نے ایک اور دلیل بھی دی ہے۔ پنجاب اب بھی شورش کے زخموں کو اپنے ساتھ لیے ہوئے ہے، اور اسمبلی انتخاب قریب ہونے کی وجہ سے ریاست کی تاریخ کے تاریک ترین دور کو دوبارہ سامنے لانے والی فلم کو علیحدگی پسند پرانے بیانیے کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

سیکورٹی خدشات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اسی پس منظر پر بنی ایک دوسری فلم سے اہم موازنہ کیا جا سکتا ہے۔ 1996 میں گلزار کی ’ماچس‘ نے دکھایا تھا کہ پولیس کے مظالم اور ناانصافی کے بعد کس طرح عام پنجابی نوجوان شورش پسندی کی طرف مائل ہوئے۔ اس وقت دہشت گردی کے زخم آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ تازہ تھے۔ سینکڑوں پولیس اہلکار، سیاسی لیڈران اور بے گناہ شہری اپنی جانیں گنوا چکے تھے۔ اس کے باوجود نہ حکومت نے اور نہ ہی سنسر بورڈ نے فلم کو دبانے کی کوشش کی۔ اس کے برعکس ناظرین نے اسے دیکھا، اس پر بحث کی اور آخرکار اسے ہندوستانی سنیما کی بہترین سیاسی فلموں میں سے ایک کے طور پر قبول کیا۔ تقریباً 3 دہائیوں بعد کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ماچس نے پنجاب میں علیحدگی پسند جذبات کو ہوا دی۔ اگر کچھ ثابت ہوا تو یہ کہ فلم تشدد کی حمایت کیے بغیر بھی سانحے کو انسانی انداز میں پیش کر سکتا ہے۔

1980 کی دہائی کے آخری برسوں اور 1990 کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں پنجاب کی کسی بھی سنجیدہ تشریح میں ان پولیس افسران کی بہادری اور قربانی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا جنہوں نے انتہائی مشکل حالات میں دہشت گردی کا مقابلہ کیا۔ متعدد سینئر افسران اور ہزاروں پولیس اہلکار بھاری اسلحوں سے لیس شورش پسندوں سے لڑتے ہوئے اپنی جانیں قربان کر گئے۔ لیکن تاریخ ایک دوسری حقیقت بھی درج کرتی ہے۔ ان برسوں میں غیر معمولی اختیارات کے باعث بعض اوقات غیر معمولی بدسلوکیاں بھی ہوئیں۔ فرضی پولیس مقابلے، غیر قانونی حراست اور حراست کے دوران تشدد عوامی بحث کا حصہ بنے، جس کے نتیجے میں عدالتی مداخلت اور تحقیقات ہوئیں۔ ان بے گناہ متاثرین کو یاد کرنا سیکورٹی فورسز کی قربانیوں کو کم نہیں کرتا بلکہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ جمہوریت میں اپنی غلطیوں کی جانچ کرنے کی صلاحیت برقرار رہنی چاہیے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں جسونت سنگھ خالصہ کا کردار اہم ہو جاتا ہے۔ ان کے ذاتی سیاسی نظریات جیسے بھی رہے ہوں، انہوں نے دستاویزات اور زمینی تحقیقات پر اعتماد کیا۔ ان کے کام کی صرف نظریاتی سہولت کی بنیاد پر تعریف کرنا ایک الگ بات ہے، لیکن عوامی بحث میں غیر آرام دہ سوالات کو دوبارہ سامنے لانے کے لیے ان کی تحقیق اور ان کی جرأت کا احترام کرنا بالکل مختلف بات ہے۔ فلم میں پنجاب کے اُس وقت کے وزیر اعلیٰ بینت سنگھ کے قتل کا منظر جب دکھایا گیا تو پس منظر میں گربانی کی یہ سطر سنائی دیتی ہے ’سورا سو پہچانیے جو لڑے دین کے ہیت‘۔ اسے قابل اعتراض قرار دیا جا سکتا ہے، کیونکہ اس سے دہشت گردانہ کارروائی کو غیر ارادی طور پر اخلاقی جواز ملتا ہوا محسوس ہو سکتا ہے۔ اگر حکام کو یہ منظر قابل اعتراض لگا تو صرف اس آڈیو کو ہٹانے یا تبدیل کرنے کی بات کی جا سکتی تھی۔ اس کے بجائے پوری فلم ہی ہٹا دی گئی۔ یہ فیصلہ الٹا اثر ڈالنے والا ثابت ہو سکتا ہے۔

فلم ساز انوراگ کشیپ نے تنازعہ کے بعد تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’جتنا آپ کسی چیز پر پابندی لگائیں گے، اتنا ہی لوگ اسے دیکھنا چاہیں گے۔‘‘ 9 جولائی کو کئی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ پنجاب، دہلی، راجستھان، ہریانہ اور جموں کے گردواروں میں فلم دکھائی جانے لگی ہے۔ ڈیجیٹل دور نے سنسرشپ کی دھار کو بھی کند کر دیا ہے۔ قانونی اسٹریمنگ پلیٹ فارم سے ہٹائے جانے کے بعد ’ستلج‘ ایکس پر ’لیک‘ ہو گئی اور اسے ڈاؤنلوڈ اور شیئر کیا جانے لگا۔ ٹیلیگرام گروپوں، ریڈٹ پر ہونے والی بحثوں اور سوشل میڈیا کے ذریعہ فلم کی دوسری زندگی شروع ہو گئی۔ اس نے فلم کو اس نسخے سے کہیں زیادہ مؤثر بنا دیا جسے حکومت نے ہٹایا تھا۔ اب یہ سنسرشپ کے خلاف مزاحمت کی علامت بن چکی ہے۔

سیاسی وقت نے بھی اس بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔ پنجاب میں اسمبلی انتخاب کے قریب آتے ماحول میں ہر سیاسی پارٹی یہ اندازہ لگانے میں مصروف ہے کہ اس تنازعہ سے کس کو فائدہ ہوگا اور کس کو نقصان۔ تاہم پنجاب کی انتخابی تاریخ بتاتی ہے کہ ووٹر شاید ہی 3 دہائی پرانی شورش کی یادوں کی بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں۔ عام تاثر یہ ہے کہ فلم کے غائب ہونے کے پیچھے مرکزی حکومت کا بنیادی کردار تھا، لیکن آخرکار یہ معاملہ اس سے کہیں بڑا ہے۔ تاریخ کو کسی اسٹریمنگ پلیٹ فارم سے فلم ہٹا کر درست نہیں کیا جا سکتا۔ اسے بہتر انداز میں اسی وقت سمجھا جا سکتا ہے جب شہریوں کو دیکھنے، سوال کرنے، بحث کرنے اور یاد رکھنے کا موقع دیا جائے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔