
جنوری 2024 میں عقیدت مندوں کے لیے کھولے جانے کے بمشکل ڈھائی سال بعد ہی، ایودھیا کا رام مندر ایک بڑے مالی گھوٹالے کے مرکز میں آ گیا۔ جون 2026 میں مندر کو ملنے والے نذرانوں میں خرد برد کے الزامات سامنے آئے۔ 2 بانی ٹرسٹیوں نے استعفیٰ دے دیا، اتر پردیش حکومت نے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی اور 8 ملازمین کو گرفتار کیا گیا۔ مندر کے انتظام و انصرام کے لیے ایک ’پروفیشنل‘ سی ای او کی تلاش کے لیے ایک سرچ کمیٹی بنا دی گئی۔
ایس آئی ٹی کی عبوری رپورٹ اب منظر عام پر آ چکی ہے۔ اس کی اہم باتوں میں نذرانوں و عطیات کے انتظام پر کمزور نگرانی، ناکافی سیکورٹی انتظامات، تلاشی کے طریقے اور بغیر جیب والی وردی سے متعلق موجودہ انتظامات میں تبدیلی، رقم گننے کے ایسے نظام کا مسئلہ جس میں ٹریکنگ کی سہولت موجود نہیں، اور ناکافی نگرانی شامل ہیں۔
ریاستی حکومت نے مدت میں توسیع کرتے ہوئے ایس آئی ٹی کے لیے اپنی حتمی رپورٹ پیش کرنے کی تاریخ 15 جولائی مقرر کی ہے، اگرچہ اس سے بہت زیادہ توقعات نہیں ہیں۔ لیکن بدعنوانی میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی ہوتی ہوئی دکھانے والی اس پوری گہماگہمی کے درمیان کئی ایسے سوالات ہیں جن پر اب بھی سختی سے جانچ ہوتی نظر نہیں آتی۔ کچھ اہم سوالات ذیل میں پیش ہیں۔
کیا ’شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر‘ کا ’ذاتی ٹرسٹ‘ ہونا اسے عوامی جانچ کے دائرے سے بچا لیتا ہے؟
2019 میں ایودھیا معاملے پر آئے متنازعہ فیصلے میں سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو رام مندر کی تعمیر اور اس کے انتظام کے لیے ایک ٹرسٹ بنانے کی ہدایت دی تھی۔ ہدایت میں یہ نہیں کہا گیا تھا کہ ٹرسٹ ’ذاتی‘ ہونا چاہیے، لیکن وزارت داخلہ نے 2020 میں جو ٹرسٹ تشکیل دیا، وہ ایک ذاتی ٹرسٹ تھا اور اس میں وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی)، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور ان سے وابستہ تنظیموں کے افراد کو بانی ٹرسٹی کے طور پر شامل کیا گیا۔
وزارت داخلہ کا کہنا ہے اور مرکزی اطلاعاتی کمیشن نے بھی یہ فیصلہ دیا ہے کہ ’شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ‘ ایک آزاد اور خود مختار ادارے کے طور پر کام کرتا ہے، جسے حکومت سے نہ کوئی مالی امداد ملتی ہے اور نہ ہی انتظامی مدد۔ اسی ’خود مختاری‘ کی بنیاد پر دہلی ہائی کورٹ اور مرکزی اطلاعاتی کمیشن نے یہ دلیل دی ہے کہ یہ ادارہ ’حق اطلاعات‘ (آر ٹی آئی) قانون کے دائرے سے باہر ہے۔
’ایس آئی ٹی کے ساتھ مکمل تعاون‘ کا دکھاوا کرتے ہوئے، ٹرسٹ کے عہدیداروں نے معلومات کو محفوظ رکھنے کے لیے ایس آئی ٹی کی خود مختار اور آزاد حیثیت کا بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ وہ اپنی انتظامی ذمہ داری سے بچ نکلنے کی تدبیریں کر رہے ہیں اور جاری ایس آئی ٹی تحقیقات کو ڈھال بنا کر میڈیا کو بھی اس سے دور رکھنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔
ایس آئی ٹی کو دیے گئے اپنے بیانات میں، ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری چمپت رائے (جنہوں نے بعد میں استعفیٰ دے دیا) نے مبینہ طور پر اسٹیٹ بینک آف انڈیا پر الزام عائد کرتے ہوئے ٹرسٹ کے عہدیداروں کو چوری کے واقعے سے الگ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ گرفتار کیے گئے کاؤنٹنگ ایجنٹ بینک کی آپریشنل چین آف کمان کے تحت کام کر رہے تھے اور چوری کا واقعہ ٹرسٹ کی نگرانی کے بجائے ’پرائیویٹ ایجنسی کی نگرانی‘ میں پیش آیا تھا۔
مرکزی اطلاعاتی کمیشن کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرسٹ مسلسل یہ دلیل دیتا رہا ہے کہ چونکہ یہ ایک آزاد ادارہ ہے، جس پر نہ حکومت کی ملکیت ہے اور نہ ہی حکومت اسے فنڈ فراہم کرتی ہے، اس لیے یہ ’حق اطلاعات‘ (آر ٹی آئی) قانون کے تحت ’عوامی اتھارٹی‘ نہیں ہے۔ اسی قانونی تحفظ کا استعمال کرتے ہوئے وہ شہریوں اور صحافیوں کو مندر کی روزانہ کی اندرونی بیلنس شیٹ، رجسٹر اندراجات اور خریداری کے معاہدوں کی جانچ کے لیے آر ٹی آئی کے تحت سوال پوچھنے سے بھی روکنے میں کامیاب رہے ہیں۔
دوسری طرف قانونی ماہرین کا استدلال ہے کہ جب کوئی مذہبی ادارہ، جو براہ راست عوام سے وابستہ ہو، ایک پرائیویٹ ٹرسٹ کے طور پر کام کرتا ہو اور قانونی نگرانی کے عمومی دائرے سے باہر ہو، تو اسے قابل اعتماد آڈٹ نظام کے ذریعے جانچ کے لیے کھلا رہنا چاہیے، کیونکہ عقیدہ خواہ ’ذاتی‘ ہو، لیکن اس کے نام پر جمع ہونے والا پیسہ عوام ہی سے آتا ہے۔
عوامی مندروں میں دیے گئے عطیات کے انتظام کو اگر خود مختار یا موروثی ٹرسٹی درست طریقے سے نہ چلا رہے ہوں تو عدالتیں پہلے بھی مداخلت کرتی رہی ہیں:
چدمبرم نٹراج مندر معاملہ (2014) میں تمل ناڈو کے مشہور نٹراج مندر کے موروثی ٹرسٹیوں (پوڈو دیکشتار) نے مکمل خود مختار انتظام کا دعویٰ کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ اگرچہ ریاست کسی مندر کا مستقل طور پر کنٹرول نہیں سنبھال سکتی، لیکن اگر عوامی نذرانوں میں بڑے پیمانے پر مالی خرد برد یا بدانتظامی کے شواہد ملیں تو اسے مداخلت کرنے، کھاتوں کا آڈٹ کرانے اور ٹرسٹیوں کے خلاف فوجداری مقدمہ چلانے کا اختیار حاصل ہے۔
شری پدمنابھ سوامی مندر معاملہ (2020) میں تراونکور کے شاہی خاندان نے مندر اور اس کے وسیع تہہ خانوں پر پرائیویٹ انتظام کا دعویٰ کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے ان کے روایتی حقوق تو برقرار رکھے، لیکن واضح طور پر کہا کہ کسی عوامی مذہبی ادارے کو ذاتی جاگیر کی طرح نہیں چلایا جا سکتا۔ عدالت نے خزانے کی نگرانی مزید سخت، شفاف آڈٹنگ معیارات نافذ کرنے کے لیے ایک آزاد انتظامی کمیٹی تشکیل دی۔
ہندوستان کے عمومی ٹیکس اور جائیداد کے قوانین کے تحت، جب کوئی جائیداد ایسے مذہبی عقیدت مندوں کے گروہ کے لیے وقف کر دی جاتی ہے جس کی شناخت متعین نہ ہو، تو اسے خود بخود ’عوامی مذہبی ٹرسٹ‘ (پبلک ریلیجیس ٹرسٹ) کی قانونی تعریف حاصل ہو جاتی ہے۔
تیرتھ کشیتر کے 2 ٹرسٹیوں (جنرل سکریٹری چمپت رائے اور رکن ٹرسٹی انل مشرا) نے ’اخلاقی ذمہ داری‘ کا حوالہ دیتے ہوئے استعفیٰ دے دیا، جبکہ خزانچی گووند دیو گری نے خود کو بے قصور قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ پونے میں رہتے ہیں، اس لیے ٹرسٹ میں برقرار رہے۔ قانونی طور پر یہ کہاں تک درست ہے؟
خزانچی گووند دیو گری نے اپنے دفاع میں کہا ہے کہ وہ پونے میں رہتے ہیں اور ہر ماہ کے آخر میں صرف آڈٹ شدہ کھاتوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈین ٹرسٹس ایکٹ، 1882 کے تحت مقرر کردہ خزانچی ٹرسٹ کی جائیداد کے تحفظ کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ خزانچی جغرافیائی فاصلے یا ذاتی طور پر شامل نہ ہونے کا حوالہ دے کر قانونی طور پر اپنی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتا۔
اگر نقدی کے انتظام کے معیاری عملی طریقہ کار (ایس او پی) میں بنیادی خامیاں تھیں، جن کی وجہ سے نقدی گننے والے ملازمین بار بار نوٹوں کی گڈیاں اپنی جیبوں اور جوتوں میں چھپا لیتے تھے، تو اس کے لیے خزانچی کو مجرمانہ غفلت کا ذمہ دار قرار دیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ وہ خود چوری میں مجرمانہ طور پر ملوث نہ بھی رہے ہوں، لیکن محفوظ داخلی کنٹرول یا آڈٹنگ نظام نافذ نہ کر پانا اعتماد سے وابستہ ذمہ داریوں (سول فڈیوشری ڈیوٹیز) کی خلاف ورزی ہے۔
چمپت رائے اور انل مشرا کے ’اخلاقی بنیاد‘ پر دیے گئے استعفوں کو مذہبی یا اخلاقی اقدام کے بجائے ایک سوچی سمجھی قانونی چال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اخلاقی ذمہ داری کا حوالہ دے کر عہدہ چھوڑنے سے رائے اور مشرا نے خود کو زبردستی ہٹائے جانے سے بچا لیا ہے۔ ٹرسٹ کے آئین کے مطابق جب کوئی ٹرسٹی استعفیٰ دیتا ہے تو اس پر کارروائی کر کے اسے منظور کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس سے انہیں انتظامیہ سے آسانی سے الگ ہونے کا موقع مل جاتا ہے، اور ٹرسٹ کو تکنیکی طور پر انہیں کسی انتظامی ناکامی کا ’قصوروار‘ قرار نہیں دینا پڑتا۔
ٹرسٹ ان دونوں کے دفاع میں فوری طور پر عوامی سطح پر سامنے آیا۔ بعض ارکان نے تو انہیں ’بے داغ‘ تک قرار دیا اور کہا کہ ان سے محض ’غفلت پر مبنی غلطیاں‘ ہوئی تھیں، لیکن اس اقدام کی سخت قانونی مخالفت ہوئی ہے۔
اس پورے معاملے میں وزیر اعظم نریندر مودی کی اس گہری خاموشی کا راز کیا ہے، جبکہ انہوں نے تو مندر کے افتتاح میں بطور ’یجمان‘ مرکزی کردار ادا کیا تھا؟
اب حقیقت ہو یا من گھڑت، رام مندر سے وابستہ ہر چیز کا سہرا وزیر اعظم مودی کے سر باندھا جاتا رہا ہے۔ یہاں تک کہ سپریم کورٹ کے ایودھیا فیصلے کی بنیاد اور دلائل تیار کرنے کا سہرا بھی انہیں ہی دیا گیا۔ سب جانتے ہیں کہ مندر اور اس کے ٹرسٹی بورڈ میں کون ہوگا، اس کا اصل کنٹرول وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) کے پاس ہے، اگرچہ وہ روزمرہ کے انتظام سے دور رہتا ہے اور سرکاری طور پر خود کو اس سے الگ ظاہر کرتا ہے۔ مودی کے معتمد ساتھی نرپیندر مشرا، جو ان کی پہلی مدت وزارت عظمیٰ (2019-2014) میں پرنسپل سکریٹری بھی تھے، ٹرسٹ کے عہدہ بہ عہدہ رکن اور رام مندر تعمیراتی کمیٹی کے چیئرمین ہیں، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ وہاں ہونے والی ہر سرگرمی پر ان کی گہری نظر رہتی ہے۔
ٹرسٹ کے قیام کا اعلان پارلیمنٹ میں خود مودی نے کیا تھا، انہوں نے ہی آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کی موجودگی میں ’بھومی پوجن‘ کیا تھا اور جنوری 2024 میں مندر کی ’پران پرتشتھا‘ کے وقت ’یجمان‘ کا کردار بھی ادا کیا تھا۔ وہ اس مذہبی مقام کی سیاسی اہمیت کو بخوبی سمجھتے ہیں، اس کے باوجود اس گھوٹالے پر ان کی خاموشی پراسرار ہے۔ آخر معاملہ کیا ہے؟
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔