فکر و خیالات

ہندوستان سامنے حسینہ بحران: ڈھاکہ سے رشتے اور پرانی حلیف کے درمیان توازن کا امتحان

شیخ حسینہ کے ہندوستان میں سیاسی اظہار نے نئی دہلی اور ڈھاکہ کے درمیان تعلقات کی بحالی کو پیچیدہ کر دیا ہے۔ ہندوستان کے لیے چیلنج حسینہ سے تعلقات اور بنگلہ دیش سے اسٹریٹجک مفادات میں توازن ہے

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>

تصویر اے آئی

 

مہینوں سے ہندوستان اور بنگلہ دیش اپنے تعلقات کو دوبارہ معمول پر لانے کی کوشش کر رہے تھے۔ 5 اگست 2024 کو شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے اور ان کے ہندوستان فرار کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات بری طرح متاثر ہوئے۔ ہندوستان کے لیے ایک ایسی سابق حلیف کی موجودگی ایک غیر متوقع سفارتی بوجھ بن گئی جو بنگلہ دیش کی نئی سیاسی صورت حال میں تقریباً ناقابل قبول ہو چکی تھی۔

اس کے باوجود نئی دہلی اور ڈھاکہ نے یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگائی کہ جغرافیہ، تجارت، سلامتی اور علاقائی مفادات دونوں ملکوں کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھتے ہیں۔ اسی لیے تعلقات کو دوبارہ پٹری پر لانے کی کوشش جاری رہی۔ لیکن 5 اگست 2026 کو نئی دہلی میں شیخ حسینہ کے پہلے بڑے عوامی خطاب نے اس عمل کو ایک بار پھر مشکل بنا دیا۔ یہ خطاب ایسے وقت ہوا جب ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان وزیر اعظم طارق رحمان کے ممکنہ دورۂ ہندوستان کے لیے سفارتی ماحول تیار کیا جا رہا تھا۔

23 اگست تک رحمان کے ہندوستانی دورے کی کوئی حتمی تاریخ طے نہیں ہوئی ہے۔ ہندوستانی اور بنگلہ دیشی ذرائع کے مطابق دونوں حکومتیں دورے کے امکانات پر بات کر رہی ہیں، لیکن ڈھاکہ نے واضح کیا ہے کہ اس کا فیصلہ باہمی مذاکرات میں پیش رفت اور مناسب سفارتی ماحول سے جڑا ہوا ہے۔

ہندوستان نے رحمان کو ستمبر میں نئی دہلی میں ہونے والے برکس سربراہ اجلاس کے آؤٹ ریچ اجلاس میں بھی مدعو کیا ہے، کیونکہ بنگلہ دیش اس وقت بیمسٹیک کا سربراہ ہے۔ تاہم یہ دعوت ایک الگ نوعیت کی ہے اور ہندوستان نے رحمان کو وزیر اعظم بننے کے بعد پہلے ہی ایک علیحدہ دو طرفہ دورے کی دعوت دے رکھی ہے۔

یہی فرق اس معاملے کو اہم بناتا ہے۔ بنگلہ دیش کے لیے صرف کسی کثیر ملکی اجلاس میں شرکت کافی نہیں۔ وہ ہندوستان کے ساتھ ایک مکمل دو طرفہ تعلق چاہتا ہے، جس میں ایک خودمختار ملک کے منتخب وزیر اعظم کے منصب کے مطابق سیاسی احترام، برابری اور واضح دو طرفہ ایجنڈا شامل ہو۔ لیکن اب یہ عمل حسینہ کے مسئلے سے الگ نہیں رہ گیا ہے۔

اس تنازع کی اصل اہمیت دورے کے مؤخر ہونے میں نہیں، بلکہ اس سوال میں ہے کہ ہندوستان اپنی سرزمین پر موجود سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم کو کتنی سیاسی گنجائش دے سکتا ہے۔ ڈھاکہ پہلے ہی خبردار کر چکا تھا کہ اگر حسینہ کو ہندوستان سے سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دی گئی تو دونوں ملکوں کے تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش متاثر ہو سکتی ہے۔

5 اگست کے خطاب کے بعد یہی خدشہ حقیقت بنتا دکھائی دیا۔ حسینہ نے نئی دہلی سے اپنے حامیوں سے خطاب کیا، اپنے خلاف مقدمات اور موجودہ بنگلہ دیشی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اپنی سیاسی واپسی کے ارادے کا اظہار کیا۔ اس خطاب کو ہندوستان میں ایک نجی میڈیا ادارے نے منعقد کیا تھا اور ہندوستانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ حکومت کا اس پروگرام سے کوئی تعلق نہیں تھا اور نہ ہی وہ اس میں ظاہر کیے گئے خیالات کی حمایت کرتی ہے۔

لیکن سفارت کاری میں صرف یہ کہنا کافی نہیں ہوتا کہ کسی پروگرام کا سرکاری انتظام نہیں کیا گیا تھا۔ بنگلہ دیش کے لیے اصل سوال انتظام کا نہیں، نتیجے کا ہے۔ ڈھاکہ یہ دیکھ رہا ہے کہ ہندوستانی سرزمین سے ایک ایسی سابق وزیر اعظم کو سیاسی اظہار کا موقع مل رہا ہے جسے بنگلہ دیش کی عدالت نے 2024 کی تحریک کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں سزائے موت سنائی ہے۔ حسینہ نے اس عدالتی کارروائی کو سیاسی قرار دے کر مسترد کیا ہے۔

ڈھاکہ کا ردعمل بھی خاصا نپا تلا ہے۔ اس نے ہندوستان کے ساتھ تجارت، توانائی، سلامتی یا دوسرے عملی تعاون کو معطل نہیں کیا۔ اس نے سفارتی رابطے بھی ختم نہیں کیے۔ اس کے بجائے اس نے اس سیاسی علامت کو روکنے کا راستہ اختیار کیا جسے ہندوستان خاص اہمیت دے رہا تھا: نریندر مودی اور طارق رحمان کے درمیان ایک باضابطہ، اعلیٰ سطحی ملاقات۔

رحمان کے لیے اس حکمت عملی کا ایک واضح داخلی سیاسی فائدہ بھی ہے۔ بنگلہ دیش میں ہندوستان کے ساتھ تعلقات ایک انتہائی حساس سیاسی مسئلہ ہیں۔ نئی دہلی کے سامنے ضرورت سے زیادہ نرم دکھائی دینا کسی بھی حکومت کے لیے سیاسی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ ایسے میں حسینہ کو ہندوستان میں عوامی سیاسی پلیٹ فارم ملنے کے فوراً بعد ہندوستان کا دورہ کرنا رحمان حکومت کو اپنے ہی ملک میں دفاعی پوزیشن پر لا سکتا تھا۔

اس کے برعکس، دورے کو مناسب ماحول سے جوڑ کر رحمان یہ پیغام دے سکتے ہیں کہ ہندوستان کے ساتھ تعلقات ضروری ضرور ہیں، لیکن قومی خودمختاری اور سیاسی وقار کی قیمت پر نہیں۔ اس سے انہیں ہندوستان کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنے کے ساتھ ساتھ اندرون ملک اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کرنے کا موقع بھی ملتا ہے۔

یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ رحمان حکومت نے ہندوستان مخالف خارجہ پالیسی اختیار نہیں کی ہے۔ اس کی پالیسی کو حکام ’بنگلہ دیش فرسٹ‘ کے اصول سے تعبیر کرتے ہیں، جس میں خودمختاری، باہمی احترام، برابری اور عدم مداخلت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ دوسری جانب توانائی، تجارت، سرحدی سلامتی، بجلی، رابطہ کاری اور پانی کے معاملات میں ہندوستانی تعاون بنگلہ دیش کے لیے اب بھی اہم ہے۔

گنگا پانی معاہدہ بھی اسی تناظر میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ 30 سال پرانا یہ معاہدہ دسمبر 2026 میں ختم ہونے والا ہے اور اس کی تجدید دونوں حکومتوں کے لیے ایک اہم سفارتی مسئلہ ہے۔ ایسے میں دونوں ملکوں کے درمیان مسلسل اور عملی مذاکرات پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہیں۔

فوری صورت حال میں ایک اہم فائدہ ہندوستان کے پاس ہے، کیونکہ حسینہ ہندوستان میں موجود ہیں اور ان کی سیاسی سرگرمیوں کی حدود طے کرنے کی صلاحیت بھی بنیادی طور پر نئی دہلی کے پاس ہے۔ لیکن یہی طاقت ہندوستان کے لیے ایک مسئلہ بھی بن سکتی ہے۔ حسینہ کا ہر نیا خطاب، انٹرویو یا سیاسی بیان ڈھاکہ کو یہ فیصلہ کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ اسے نظر انداز کیا جائے، جواب دیا جائے یا ہندوستان کے سامنے احتجاج کیا جائے۔

اس طرح حسینہ کا معاملہ رفتہ رفتہ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے پورے دو طرفہ تعلقات کی رفتار طے کرنے لگتا ہے۔ یہ صورت حال نہ ہندوستان کے لیے دیرپا طور پر مفید ہے اور نہ بنگلہ دیش کے لیے۔

ہندوستان کے پاس حسینہ کے معاملے میں ایک ’اسٹریٹجک ابہام‘ برقرار رکھنے کا راستہ موجود ہے: نہ انہیں فوری طور پر بنگلہ دیش کے حوالے کرنا، نہ ہی انہیں کھلے طور پر سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بننے دینا۔ ان کے حوالے سے قانونی اور سفارتی معاملات کو اپنی جگہ رکھتے ہوئے ان کی سیاسی سرگرمیوں کو خاموشی سے محدود کرنا شاید نئی دہلی کے لیے زیادہ عملی راستہ ہو سکتا ہے۔

اس کی وجہ بھی واضح ہے۔ ہندوستان کے لیے حسینہ کی اصل اہمیت ان کی شخصیت سے زیادہ اس سیاسی استحکام میں تھی جو ان کی حکومت نے فراہم کیا۔ اپنے تقریباً 15 سالہ دور حکومت میں حسینہ نے ہندوستان کی کئی بنیادی سلامتی تشویشات کو دور کیا، شمال مشرقی ہندوستان میں سرگرم بعض شورش پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کی اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارت، ٹرانزٹ، توانائی اور رابطہ کاری کے تعلقات کو وسعت دی۔

لیکن کسی حلیف کی اسٹریٹجک افادیت اس وقت تبدیل ہو جاتی ہے جب وہ اقتدار سے باہر ہو جائے۔ حسینہ کو سیاسی پناہ دینا ایک الگ معاملہ ہے؛ ان کی موجودگی کو بنگلہ دیش کی موجودہ منتخب حکومت کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات میں مستقل رکاوٹ بننے دینا بالکل الگ بات ہے۔

5 اگست کا واقعہ اسی ’حسینہ بحران‘ کو نمایاں کرتا ہے۔ اس نے یہ ثابت کیا کہ اقتدار سے باہر ہونے اور ہندوستان میں رہنے کے باوجود حسینہ اب بھی بنگلہ دیش کی سیاست پر اثر ڈال سکتی ہیں۔ ان کی سیاسی موجودگی ہندوستان اور ڈھاکہ کے درمیان تعلقات کو بار بار ماضی کی طرف دھکیل سکتی ہے، جب کہ دونوں حکومتوں کی ضرورت مستقبل کی طرف دیکھنے کی ہے۔

ہندوستان اور بنگلہ دیش تقریباً 4,100 کلومیٹر طویل سرحد مشترک رکھتے ہیں۔ ہندوستان کے شمال مشرقی خطے کے لیے بنگلہ دیش جغرافیائی اور معاشی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ خلیج بنگال میں رابطہ کاری، تجارت اور علاقائی اقتصادی انضمام کے ہندوستانی منصوبوں میں بھی ڈھاکہ کا مرکزی کردار ہے۔ سرحدی سلامتی، دہشت گردی کے خلاف تعاون، بجلی کی تجارت، ٹرانزٹ اور دریائی پانی کے انتظام جیسے معاملات کسی بھی حکومت کے ساتھ مسلسل اور عملی تعاون کے متقاضی ہیں۔

یہاں تک کہ اگر مستقبل میں حسینہ کی سیاسی واپسی کا امکان مکمل طور پر مسترد نہ کیا جائے، تب بھی ہندوستان کے لیے ایسی کسی واپسی کی کھلی حمایت ایک انتہائی خطرناک علاقائی اور سیاسی جوا ہوگی۔ اس سے بنگلہ دیش میں نئی بے چینی پیدا ہو سکتی ہے اور ہندوستان کے لیے بھی شدید سفارتی نقصان کا خطرہ ہوگا۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ نئی دہلی حسینہ سے اپنے کئی دہائیوں پرانے تعلقات سے یکسر دستبردار ہو جائے۔ ان کے حوالے سے قانونی، انسانی اور سیاسی سوال اپنی جگہ موجود ہیں اور بنگلہ دیش کی حوالگی کی درخواست بھی ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔ لیکن ہندوستان کے وسیع تر قومی مفاد میں یہ ضروری ہے کہ حسینہ کا معاملہ ہندوستان-بنگلہ دیش تعلقات کا واحد مرکزی موضوع نہ بن جائے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں ملکوں کو اس خطرے کا اندازہ ہے۔ ہندوستانی ہائی کمشنر دینیش ترویدی نے اگست میں بار بار اس بات پر زور دیا کہ دونوں ملکوں کو ماضی کے اختلافات سے آگے بڑھنا چاہیے۔ 18 اگست کو انہوں نے کہا کہ اختلافات کو حل کرنا ہوگا اور تعلقات کو جمود کا شکار نہیں ہونے دینا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی چاہتے ہیں کہ طارق رحمان سے ملاقات ہو اور انہیں ہندوستان میں وہ ’باعزت استقبال‘ ملے جس کے وہ مستحق ہیں۔

ترویدی کے یہ بیانات اس لیے اہم ہیں کہ ان میں مسئلے کے ممکنہ حل کے بنیادی عناصر موجود ہیں: برابری، احترام، سیاسی شناخت اور براہ راست اعلیٰ سطحی مذاکرات۔ ہندوستانی سفارت کار نے دراصل یہ تسلیم کیا کہ محض رسمی سفارتی پروٹوکول کافی نہیں؛ دونوں ملکوں کے درمیان موجود مشکل سوالات پر سیاسی سطح پر بات چیت ضروری ہے۔

آخرکار ہندوستان کے سامنے اصل انتخاب حسینہ یا بنگلہ دیش میں سے کسی ایک کو چننے کا نہیں ہے۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنی سابق حلیف کے ساتھ تعلقات اور بنگلہ دیش کی موجودہ حکومت کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک مفادات کے درمیان ایک قابل عمل توازن کیسے قائم کرتا ہے۔

اگر نئی دہلی حسینہ کو اپنی سیاسی سرگرمیوں کے ذریعے ہندوستان-بنگلہ دیش تعلقات پر اثرانداز ہونے کی کھلی گنجائش دیتا ہے تو اس کے نتیجے میں ہر نئے بیان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات ایک نئے بحران میں داخل ہو سکتے ہیں۔ اگر وہ ان کی موجودگی کو مکمل طور پر ایک قانونی اور انسانی معاملے تک محدود رکھتے ہوئے ڈھاکہ کے ساتھ براہ راست سیاسی رابطہ مضبوط کرتا ہے تو شاید دونوں ملک ماضی کے بوجھ سے نکلنے کا راستہ تلاش کر سکیں۔

(مضمون نگار فیصل محمود ڈھاکہ میں مقیم صحافی ہیں)؎

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔