فکر و خیالات

وہ صبح، جب نوجوان ہونا جنت کا احساس تھا...سنجے ہیگڑے

جو حکومتیں سوالوں کا جواب لاٹھی اور طاقت سے دیتی ہیں، وہ سوالوں کو ختم نہیں کرتیں بلکہ اپنی ہی اخلاقی ساکھ اور جوازِ حکمرانی کو کمزور کر دیتی ہیں۔ نوجوانوں سے مکالمہ ہی جمہوریت کا راستہ ہے

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>

آئی اے این ایس

 
IANS

دہلی کے جنتر منتر پر نوجوان ہندوستان نے ڈیرہ ڈال رکھا ہے۔ صبح ہوتے ہی طلبہ اپنے بستر سمیٹ لیتے تھے۔ وہ گاتے ہیں، بحث کرتے ہیں اور اپنے زخموں پر مرہم رکھتے ہیں۔ ایک عدالتی ریمارک میں احتجاج کرنے والے نوجوانوں کا موازنہ کاکروچ سے کیا گیا تھا، مگر ان نوجوانوں نے اسی توہین کو اپنا اعزاز بنا لیا، اور یہی طنز ایک ایسی تحریک میں بدل گیا ہے جس نے اب ملک کے دارالحکومت کو بے چین کر دیا۔

اس تحریک کی فوری وجہ نیٹ کا امتحان ہے، جو یہ طے کرتا ہے کہ کون ڈاکٹر بنے گا۔ سوالیہ پرچے لیک ہو گئے اور لاکھوں طلبہ کو دوبارہ امتحان دینے پر مجبور ہونا پڑا۔ برسوں کی محنت، خاندانوں کی عمر بھر کی جمع پونجی اور نوجوانوں کی امیدیں حکومتی ناکامی کی نذر ہو گئیں۔ طلبہ صرف ایک سیدھا سا سوال پوچھ رہے ہیں، اگر ان پر قواعد و ضوابط کی پابندی لازم ہے تو کیا حکومت کے لیے کوئی قانون نہیں؟ وہ امتحانات منعقد کرنے والوں سے جواب دہی چاہتے ہیں، مگر جواب میں انہیں دفعہ 144، آنسو گیس اور لاٹھیاں ملیں۔

حکمرانوں کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ ہندوستان کی تاریخ کا مطالعہ کریں۔ ہماری سیاست ہمیشہ تحریکوں کی سیاست رہی ہے۔ آزادی کی جدوجہد صرف کمیٹی کمروں میں نہیں جیتی گئی تھی، بلکہ سڑکوں، دیہات اور ڈانڈی کے نمک کے میدانوں میں کامیاب ہوئی تھی۔ اس کے بعد ہر نسل نے اپنی ایک تحریک پیدا کی، اور ہر تحریک نے سیاسی طاقت کے توازن کو ایک نئی شکل دی۔

ساٹھ اور ستر کی دہائی کی جے پی تحریک نے کانگریس کی سیاسی اجارہ داری کو توڑا۔ منڈل تحریک نے سماجی طاقت کے نقشے کو نئے سرے سے ترتیب دیا۔ 2011 کی انسدادِ بدعنوانی تحریک نے ایک نئی سیاسی جماعت کو جنم دیا اور پرانی حکومت کی بنیادیں ہلا دیں۔ تحریکیں ہی وہ ذریعہ ہیں جن کے ذریعے ہندوستان حکمران اور عوام کے درمیان تعلقات کی نئی شرائط طے کرتا ہے۔

صرف ایک دہائی کے اندر تحریک کا مطالبہ ’بتدریج اصلاحات‘ سے بدل کر ’پورن سوراج‘ یعنی مکمل آزادی تک پہنچ گیا۔ جو کل تک رعایا تھے، وہ اپنے حقوق کے دعوے دار بن گئے۔ برطانوی حکومت اس جھٹکے سے کبھی سنبھل نہ سکی۔ تحریکیں یہی کرتی ہیں، وہ صرف مطالبات پیش نہیں کرتیں بلکہ لوگوں کے ذہنوں میں یہ احساس بھی پیدا کرتی ہیں کہ وہ کس چیز کے حقیقی حق دار ہیں۔

جنتر منتر پر بیٹھے یہ نوجوان بھی اسی روایت کے وارث ہیں، چاہے انہیں اس کا احساس ہو یا نہ ہو۔ اور وہ کسی انقلاب کا مطالبہ بھی نہیں کر رہے۔ ایک دہائی قبل نوجوان طالب علم رہنما کنہیا کمار پر ایسے نعروں کے لیے غداری کا مقدمہ قائم کیا گیا تھا، جو اس نے لگائے ہی نہیں تھے۔ اس نے جواب میں ایک ایسا جملہ کہا جو تاریخ میں محفوظ رہنے کے لائق ہے، ’’ہمیں ہندوستان سے نہیں، بلکہ ہندوستان میں آزادی چاہیے۔‘‘

یعنی بھوک سے آزادی، بدعنوانی سے آزادی، امتحانات میں دھاندلی سے آزادی اور چھینے گئے مستقبل سے آزادی۔ آج کی نسل بھی یہی مطالبہ کر رہی ہے۔ وہ ترنگا لہراتی ہے، آئین کا حوالہ دیتی ہے اور اسی جمہوریہ سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اپنے وعدوں پر قائم رہے۔ کسی بھی حکومت کو ایسے محب وطن نوجوانوں سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔ ان سے صرف وہی حکومت ڈرتی ہے جو عوام کی آواز سننا چھوڑ چکی ہو۔

اس کے باوجود حکومت کا رویہ افسوسناک حد تک نوآبادیاتی رہا ہے۔ اپنی ہی پارلیمنٹ کی طرف مارچ کرنے والے نہتے طلبہ پر لاٹھیاں برسائی گئیں۔ درجنوں کو اسپتال پہنچنا پڑا۔ انٹرنیٹ بند کر دیا گیا، گویا اندھیرا اس حقیقت کو چھپا سکتا ہو جسے دن کی روشنی نے سب کے سامنے آشکار کر دیا تھا۔ سوئے ہوئے مظاہرین کے کیمپ اجاڑ دیے گئے۔ ایک معمر گاندھی وادی بھوک ہڑتال پر بیٹھا رہا اور وزراء نے اس کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کیا۔

یہ کسی جمہوریہ کا نہیں بلکہ برطانوی راج کا رویہ محسوس ہوتا ہے۔ اس میں جنرل ڈائر کی ذہنیت کی جھلک دکھائی دیتی ہے، جس نے جلیانوالہ باغ میں سمجھا تھا کہ طاقت کے استعمال سے ہندوستانیوں کو ان کی حیثیت یاد دلائی جا سکتی ہے۔ ڈائر کی گولیوں نے سینکڑوں جانیں لے لیں، مگر اس سے بھی بڑھ کر اس نے برطانوی حکومت کے انصاف کے دعوے کو قتل کر دیا۔ امرتسر کے اس سانحے کے بعد شاید ہی کوئی ہندوستانی یہ یقین رکھ سکا کہ برطانوی سلطنت انصاف پسند ہے۔

رابندر ناتھ ٹیگور نے اپنی ’نائٹ ہڈ‘ کی اعزازی سند واپس کر دی، گاندھی نے اپنے تمغے لوٹا دیے۔ اگرچہ اس کے بعد بھی ترنگا لہرانے میں تقریباً ستائیس، اٹھائیس برس لگے، لیکن جلیانوالہ باغ کی سرزمین پر برطانوی حکومت کا اخلاقی جواز اسی دن خون میں بہہ گیا تھا۔ جو حکومتیں سوالوں کا جواب طاقت سے دیتی ہیں، وہ سوال ختم نہیں کرتیں بلکہ اپنی ہی اخلاقی حیثیت کو ختم کر دیتی ہیں۔

دانش مندی کا راستہ آج بھی وہی آئینی راستہ ہے۔ نوجوانوں سے بات کیجیے، امتحانی نظام کو درست کیجیے، پیپر لیک کرنے والوں کو سزا دیجیے، نہ کہ ان طلبہ کو جن کے مستقبل سے کھلواڑ ہوا ہے۔ یاد رکھیے، مکالمے اور افہام و تفہیم سے متوازن ہونے والی طاقت قائم رہتی ہے، لیکن لاٹھی کے زور پر قائم رکھی جانے والی طاقت ایک دن ضرور ڈھہ جاتی ہے۔

میں نے گزشتہ رات جنتر منتر کی وہ ویڈیوز دوبارہ دیکھیں؛ پٹیوں میں بندھے سر، ادھار مانگ کر لائے گئے میگا فون، اور بے سُرے ہونے کے باوجود پورے جذبے کے ساتھ قومی ترانہ گاتے ہوئے نوجوان۔ مجھے انگریز شاعر ولیم ورڈزورتھ یاد آ گئے، جنہوں نے ایک نئی نسل کو پرانے نظام کو بدلتے دیکھ کر لکھا تھا، ’’اس صبح کا گواہ ہونا ہی سب سے بڑی مسرت تھی، مگر اس صبح میں نوجوان ہونا تو گویا جنت کا احساس تھا۔‘‘

یہ صبح انہی نوجوانوں کی ہے۔ ہم باقی لوگوں میں کم از کم اتنی شائستگی ضرور ہونی چاہیے کہ ہم ان کی روشنی کے راستے میں رکاوٹ نہ بنیں۔

(مضمون نگار سنجے ہیگڑے سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ہیں۔ یہ مضمون احتجاج کے دوران تحریر کیا گیا تھا۔ بعد ازاں حکومت کی یقین دہانیوں اور وزیر تعلیم کے استعفے کے بعد طلبہ نے احتجاج ختم کر دیا)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔