
علامتی تصویر / اے آئی
دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک میں اگر ایسا ہوا ہوتا تو وہاں کے حکمران شرم سے پانی پانی ہو گئے ہوتے۔ دریائے کین کی معاون ندی برانا کے کناروں پر بے حال دیہاتیوں کو اپنی ہی موت کا ڈرامائی منظر پیش کرتے دیکھنا رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے۔ لڑکیاں اور خواتین لکڑی کی چتاؤں پر لیٹی ہوئی ہیں، مردوں اور عورتوں کے چہروں پر راکھ ملی ہوئی ہے، ان کے ہاتھ لکڑی کی صلیبوں سے بندھے ہوئے ہیں، جبکہ نوجوان گلے میں پھانسی کا پھندا ڈالے دریا کے پانی میں کھڑے ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں تختیاں ہیں جن پر لکھا ہے، ’انصاف دو یا موت۔‘
یہ سب اس اذیت کی داستان بیان کرنے کے لیے ہے جو 45 ہزار کروڑ روپے کی کین-بیتوا لنک پروجیکٹ کے تحت تعمیر ہونے والے دوڑھن ڈیم کے باعث اپنے گھر بار سے محروم ہونے والے لوگوں پر گزری ہے۔ یہ منصوبہ بہار، کرناٹک، کیرالہ اور سکم سمیت ملک بھر میں مجوزہ 37 دریاؤں کو جوڑنے کے منصوبوں کی پہلی کڑی ہے۔
احتجاج میں شریک 23 سالہ راج کمار نے اس پورے کرب کو ایک جملے میں سمیٹ دیا، "ہم نے صرف اپنی زمین، اپنی روزی روٹی اور اپنے جنگلات ہی نہیں کھوئے بلکہ اپنی ثقافتی شناخت بھی گنوا دی ہے۔ ہم اپنے ہی ملک میں اجنبی اور بے سہارا ہو کر رہ گئے ہیں۔
بندیل کھنڈ کے ’سونم وانگ چک‘ کہلانے والے سماجی کارکن امت بھٹناگر گزشتہ چار برس سے اس تحریک کی قیادت کر رہے ہیں۔ وہ 5 جولائی 2026 سے کوپی گاؤں کے قریب غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے۔ 19 جولائی کی صبح تقریباً پانچ بجے پولیس نے احتجاج ختم کرانے کے لیے کارروائی کی اور انہیں حراست میں لے کر مدھیہ پردیش کے ضلع چھترپور کے اسپتال منتقل کر دیا۔
بلڈ پریشر مسلسل کم ہونے کے باوجود انہوں نے اپنی بھوک ہڑتال جاری رکھی اور اس وقت وہ انتہائی نگہداشت (آئی سی یو) میں زیر علاج ہیں۔ انہیں 23 جولائی کو اسپتال سے ڈسچارج کیا جانا تھا تاکہ قریبی قصبے بجاور میں دوسرے کارکنوں اور متاثرہ دیہاتیوں کے ساتھ آئندہ کی حکمت عملی طے کر سکیں، مگر ان کی بگڑتی ہوئی صحت کے پیش نظر اسپتال انتظامیہ نے اس کی اجازت نہیں دی۔
جب پولیس انہیں زبردستی وہاں سے اٹھا کر لے جا رہی تھی تو اس سے قبل بھٹناگر نے مقامی میڈیا سے کہا تھا، ’’میں اپنی بھوک ہڑتال ختم نہیں کروں گا، چاہے اس کے لیے میری جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔ اگر ڈاکٹروں نے مجھے زبردستی کھانا کھلانے کی کوشش کی تو میں پانی پینا اور سانس لینا بھی چھوڑ دوں گا۔‘‘
اگرچہ 300 سے زائد سماجی کارکنوں اور باشعور شہریوں نے ایک مشترکہ خط لکھ کر امت بھٹناگر سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی ہے، لیکن مقامی انتظامیہ پر اس کا کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا۔ گزشتہ تین ماہ کے دوران ان کے خلاف 42 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں اور اس تحریک کے دوران انہیں کئی مرتبہ جیل بھی بھیجا جا چکا ہے۔
ان کی ساتھی اور قانون کی طالبہ دیویا اہروار نے حکومت کے رویے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا، ’’اگر اپنے حقوق، جمہوریت اور آئین کی بات کرنا جرم ہے تو صرف امت بھٹناگر ہی نہیں بلکہ ہر نوجوان اور ہر متاثرہ شخص یہ جرم بار بار کرے گا۔‘‘
بھوک ہڑتال شروع کرنے سے کچھ ہی پہلے ایک انٹرویو میں امت بھٹناگر نے حکومت کے طریقۂ کار پر سنگین سوالات اٹھائے تھے۔ ان کے مطابق حکومت نے متاثرہ آبادی کی رضامندی حاصل کرنے کے لیے ایک مرتبہ بھی گرام سبھا کا اجلاس بلانے کی زحمت نہیں کی۔
بھٹناگر نے کہا، ’’آدیواسی علاقے آئین کی چھٹی شیڈول کے تحت آتے ہیں، جہاں قبائلی زمین کی منتقلی کے لیے گرام سبھا کی منظوری لازمی ہوتی ہے۔ یہاں کسی سے کوئی رضامندی نہیں لی گئی بلکہ کاغذات پر جعلی دستخط کر دیے گئے۔ اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ماحولیاتی اثرات کے جائزے (ای آئی اے) کی رپورٹ یا 45 لاکھ درختوں کی کٹائی سے ہونے والی تباہی کے نتائج عوام کے سامنے پیش ہی نہیں کیے گئے۔ بندیل کھنڈ کے دو شہر، باندا اور کھجوراہو، پہلے ہی ملک کے گرم ترین شہروں میں شمار ہوتے ہیں۔ پنّا ٹائیگر ریزرو بندیل کھنڈ کے پھیپھڑوں کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب یہ پورا جنگل زیر آب آ جائے گا یا کاٹ دیا جائے گا تو پھر کیا ہوگا؟‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ دوڑھن ڈیم نہ صرف پنّا ٹائیگر ریزرو کو دو حصوں میں تقسیم کر دے گا بلکہ ملک کے قدیم ترین جنگلات میں شامل 5,578 ہیکٹیئر رقبہ بھی پانی میں ڈوب جائے گا۔ اس کے نتیجے میں درجۂ حرارت مزید بڑھے گا، جبکہ سائنس دان پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ ایسا ہونے پر اس خطے میں بارش میں 20 فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔
انہوں نے کین اور بیتوا دریاؤں کے آبی بہاؤ سے متعلق تازہ اعداد و شمار پیش نہ کیے جانے پر بھی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’اس منصوبے سے وابستہ انجینئر خود تسلیم کرتے ہیں کہ آخری آبی مطالعہ 2001 میں کیا گیا تھا۔ اس کے بعد زمینی حقائق میں ڈرامائی تبدیلی آ چکی ہے۔ دریائے کین، دریائے بیتوا کے مقابلے میں نچلی سطح پر واقع ہے، جبکہ بیتوا حجم کے اعتبار سے اس سے تقریباً دو گنا بڑا دریا ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے گرمیوں میں کین دریا مکمل طور پر خشک ہو جاتا ہے۔ ایسے میں اتنے بڑے منصوبے کے لیے پانی آخر کہاں سے لایا جائے گا؟‘‘
یہی وہ سوال ہے جو اپنے گھر بار سے محروم ہونے والے دیہاتیوں کے ذہنوں میں مسلسل گردش کر رہا ہے۔ برانا دریا کے پانی میں مسلسل پانچ دن تک کھڑے رہنے والے 45 سالہ پروشوتم نے سوال کیا، ’’ہمیں زبردستی بے دخل کرنے سے پہلے کوئی عوامی سماعت کیوں نہیں کی گئی؟ جنگل سے ہمارا ایک جذباتی اور اٹوٹ رشتہ ہے۔ جب ہمیں یہاں سے نکال دیا جائے گا تو ہمارا کیا بنے گا؟ ہم اپنے ہی ملک میں بے گھر ہو کر دیہاڑی مزدوری کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔‘‘
بندیل کھنڈ کے قبائلی، خصوصاً گونڈ اور کول برادریوں نے اپریل 2026 کے پہلے پندرہ دنوں میں اسی نوعیت کی ایک تحریک اس امید پر ملتوی کر دی تھی کہ ضلعی انتظامیہ ان کے ناکافی بازآبادکاری پیکیج میں بہتری لانے کا وعدہ کر رہی تھی۔ تاہم 450 کروڑ روپے کے نئے پیکیج میں یہ واضح نہیں کہ یہ رقم کن لوگوں کو ملے گی۔ سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ تقریباً 40 فیصد دیہاتیوں کو اب تک معاوضے کے نام پر ایک پیسہ بھی نہیں ملا۔ ان کا الزام ہے کہ اس پورے عمل میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی ہو رہی ہے۔
ادھیڑ عمر منّا بائی روتے ہوئے کہتی ہیں، ’’میں بیوہ ہوں۔ انہوں نے میرا گھر چھین لیا، لیکن مجھے کوئی معاوضہ نہیں ملا۔ میرا حق آخر کہاں چلا گیا؟‘‘
بھوڑا دیوی کا درد کچھ اور ہے، ’’خواتین سربراہ والے خاندانوں کو معاوضہ کیوں نہیں دیا جا رہا؟ میرے شوہر اکثر گھر سے غائب رہتے ہیں۔ انہیں پچاس ہزار روپے سے زیادہ کا معاوضہ ملا، مگر انہوں نے زیادہ تر رقم شراب پر اڑا دی۔ اب میں اور میرے تین بچے کیا کریں؟ کیا سڑک پر بھیک مانگیں؟‘‘
اتر پردیش اور مدھیہ پردیش، دونوں ریاستی حکومتوں کی بے حسی دیہاتیوں کو اندر ہی اندر کچوکے لگا رہی ہے۔ ایک نوجوان دیہاتی نے تلخ لہجے میں کہا:
"اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ 8 جولائی کو بندیل کھنڈ آئے تھے۔ انہوں نے گھاٹوں کی خوبصورتی، سیاحتی سہولتوں اور صنعتوں پر 70 کروڑ روپے خرچ کرنے کا وعدہ کیا، لیکن شدید گرمی، پانی کی قلت، نقل مکانی، بے روزگاری یا یہاں پھیلنے والی بیماریوں پر ایک لفظ بھی نہیں کہا۔"
سماجی کارکن پریا اہیر بھی شدید غصے میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے، ’’دوڑھن ڈیم ضلع چھترپور کے 6,000 اور ضلع پنّا کے تقریباً 1,500 خاندانوں کو بے گھر کرنے جا رہا ہے۔ جس دریا میں سال کے تین ماہ پانی ہی نہیں رہتا، اس پر ڈیم بنانے کے لیے ہماری زرخیز زمین، ہمارے جنگلات اور ہمارے گھر قربان کیے جا رہے ہیں۔ دریائے کین میں غیر قانونی ریت کی کان کنی نے دریا کے فرش کو تباہ کر دیا ہے، زیرِ زمین پانی کی سطح گرا دی ہے اور شدید کٹاؤ پیدا کر دیا ہے۔ مگر اسے روکنے کے بجائے کان کنی کا ملبہ ہماری زرعی زمینوں پر ڈالا جا رہا ہے۔ ریاستی حکومت نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں، اسے صرف تباہی سے غرض ہے۔‘‘
جب مقامی لوگوں کو پینے کے صاف پانی اور بجلی جیسی بنیادی سہولتیں بھی میسر نہیں، تو پھر اپنے ہی لوگوں کو نظر انداز کر کے دوسرے 13 اضلاع کو پانی اور آبپاشی فراہم کرنے کے دعوؤں کا کیا جواز ہے؟ سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ مرکزی بااختیار کمیٹی نے 2019 ہی میں اس منصوبے کی عملیت پر سوال اٹھاتے ہوئے حکومت کو مشورہ دیا تھا کہ بندیل کھنڈ میں آبی بحران سے نمٹنے کے لیے کم لاگت والے متبادل طریقے تلاش کیے جائیں۔ کین-بیتوا لنک پروجیکٹ کا معاملہ پہلے ہی سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ اس منصوبے کو اتنی عجلت میں آگے بڑھانے کی آخر کیا ضرورت ہے؟
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔