فکر و خیالات

مہاتما گاندھی کو یاد کرنا تبھی بامعنی ہوگا جب ہم مغالطے توڑیں، سازش کو پہچانیں اور سچ کا ساتھ دیں... پرکشالی دیسائی

یہ مضمون قتل کی منظم سازش، پولیس و سیاسی نظام کی ناکامی اور کپور کمیشن کے نتائج کا تنقیدی تجزیہ پیش کرتا ہے۔ یہ قتل ہندوستانی جمہوریت، اخلاقی سیاست و عوامی یادداشت کی سمت طے کرنے والا فیصلہ کن موڑ تھا

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>

تصویر سوشل میڈیا

 

30 جنوری یعنی مہاتما گاندھی کے یومِ شہادت کے موقع پر ایک کتاب پر گفتگو کرنا ضروری ہے۔ یہ ضرورت اس لیے ہے کیونکہ مہاتما گاندھی کے قتل کو آج قتل کے طور پر قبول ہی نہیں کیا جا رہا۔ پورے قتل واقعہ کو نہایت نرم الفاظ میں یہ کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے کہ جس نے یہ گھناؤنا جرم کیا، وہ شخص وقتی جذبات میں آ کر ایسا کر بیٹھا۔

Published: undefined

تاریخ کے حقائق کو توڑ مروڑ کر نئی نسل کے سامنے اس طرح پیش کیا جا رہا ہے کہ آخرکار قتل کا شکار ہی قصوروار ٹھہرا دیا جائے۔ کوشش ہو رہی ہے کہ قابل قدر بابائے قوم کے تئیں نفرت پھیلائی جائے، ان کے افکار کی وراثت کو آہستہ آہستہ ختم کر دیا جائے اور موہن داس کرم چند گاندھی کو ملک کی تقسیم کا ذمہ دار اور کسی خاص طبقہ کو خوش کرنے والا شخص ثابت کیا جائے۔ اس عمل کے ذریعہ عوامی ذہن سازی (برین واش) ہو اور نفرت کی سیاست مسلسل چلتی رہے۔ مذہب کے نام پر سیاست کرتے ہوئے ایک سڑی گلی برہمن وادی ذہنیت کو پروان چڑھایا جائے اور آخرکار سماج ایک آمر کی جی حضوری کرنے لگے۔ بابائے قوم کے وارث تُشار گاندھی کی لکھی ہوئی کتاب ’لیٹس کِل گاندھی‘ (Let’s Kill Gandhi) اس پس منظر میں نہایت اہم ہے۔ یہ کتاب اب تک انگریزی اور مراٹھی میں دستیاب تھی۔ کچھ عرصہ قبل اس کا گجراتی ترجمہ ’گاندھینو ہتیارو گوڈسے‘ کے عنوان سے شائع ہوا ہے، جسے گجرات کے ’شری کیور کوٹک‘ نے شائع کیا۔

Published: undefined

اشاعت کے موقع پر تُشار گاندھی نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب سب سے پہلے گجراتی زبان میں آنی چاہیے تھی، مگر گجرات کے کسی بھی ناشر نے اسے شائع کرنے کی ہمت نہیں دکھائی۔ ابتدا میں مثبت جواب دیے گئے، لیکن بعد میں اشاعت ٹال دی گئی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جب وہ گاندھی کے قتل اور ناتھورام گوڈسے پر چلے مقدمات سے متعلق دستاویزات تلاش کرنے کے لیے سرکاری آرکائیوز پہنچے، تو انہیں کس طرح کی دشواریوں اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔

Published: undefined

یہ کتاب گاندھی جی کے قتل کی سازش، اس سے جڑے مغالطوں اور برسوں تک دبائے گئے حقائق پر مبنی اور تجزیاتی مطالعہ پیش کرتی ہے۔ قتل کو ایک فرد کے نظریاتی اختلاف اور وقتی کارروائی کے طور پر پیش کرنا ایک ہولناک جھوٹ ہے۔ ایسا جھوٹ سماج کو کس سمت لے جائے گا، یہ سوال سنگین ہے۔ سچ کے حق میں کھڑے ہونے اور سوال اٹھانے کی جرأت ہی سماج کو مضبوط بنا سکتی ہے۔ یہی اس مضمون کا مقصد ہے۔

Published: undefined

گاندھی جی کا قتل سچ، عدم تشدد اور اخلاقی سیاست پر کیا گیا ایک منظم حملہ تھا۔ یہ کتاب اس بے چین کرنے والے سچ کو سامنے لانے کی ہمت کرتی ہے، جسے دہائیوں تک یا تو جان بوجھ کر چھپایا گیا یا جھوٹے بیانیے کے طور پر پیش کیا گیا۔ یہ کتاب برسوں سے قائم کہانیوں کو چیلنج کرتی ہے۔

Published: undefined

یہ مضمون قتل کی منظم سازش، پولیس اور سیاسی نظام کی ناکامی اور کپور کمیشن کے نتائج کا تنقیدی تجزیہ پیش کرتا ہے۔ یہ قتل ہندوستانی جمہوریت، اخلاقی سیاست اور عوامی یادداشت کی سمت طے کرنے والا ایک فیصلہ کن موڑ تھا۔ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ باپو کا انتقال ہوا، بلکہ یہ تھا کہ قتل کے ’سچ‘ کو قابو میں رکھا گیا۔

Published: undefined

پھیلائے گئے بڑے مغالطے

سب سے بڑا مغالطہ یہ ہے کہ یہ قتل ایک فرد کی دیوانگی تھی۔ کپور کمیشن (69-1966) واضح کرتا ہے کہ یہ قتل پہلے سے منصوبہ بند تھا اور کئی لوگوں کو اس کی جانکاری تھی۔ کمیشن کے مطابق ساورکر سمیت کئی افراد کا کردار مشتبہ تھا۔ کمیشن نے کہا کہ ’’تمام حقائق مل کر ایک وسیع سازش کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔‘‘ یہ کمیشن گاندھی جی کے قتل کے تقریباً 20 برس بعد قائم کیا گیا تھا۔ کمیشن کے اہم نتائج کے مطابق ناتھورام گوڈسے اکیلا نہیں تھا۔ ساورکر، آپٹے اور کرکرے کے ساتھ مل کر ایک منظم سازش رچی گئی تھی۔ قتل سے پہلے کئی میٹنگیں ہوئیں، اسلحہ کا انتخاب کیا گیا اور فرار کا منصوبہ بنایا گیا۔ یہ بھی پہلے سے طے تھا کہ قتل کرنے والا کس نوعیت کا بیان دے گا۔

Published: undefined

پہلے مقدمے میں شواہد کی کمی کے باعث پورا سچ سامنے نہیں آ سکا۔ ’لیٹس کِل گاندھی‘ کتاب اس تاخیر کو بھی سازش کا حصہ مانتی ہے۔ کپور کمیشن نے یہ اشارہ بھی دیا کہ گاندھی جی کو قصداً ایک غیر مؤثر، جذباتی اور محض علامتی شخصیت کے طور پر پیش کیا گیا۔

Published: undefined

آج کی سیاست میں گاندھی جی کا نام سہولت کے مطابق لیا جاتا ہے۔ ان کے اخلاقی حوصلے، آمریت مخالف موقف اور سماجی انصاف کے خیالات کو نظر انداز کر کے عدم تشدد کو بزدلی، برداشت کو خوش کرنے کی کوشش اور اخلاقیات کو غیر عملی قرار دیا گیا۔ یہی وہ ذہنیت ہے جس نے کبھی گاندھی جی کو ’قوم کے لیے خطرہ‘ بتایا تھا۔ یہ کتاب ایک سنجیدہ سوال اٹھاتی ہے کہ ’کیا ملک گاندھی جی کے قتل کا پورا سچ جاننے کے لیے تیار تھا؟ یا پھر اقتدار اور سماج دونوں کو ایک آسان کہانی چاہیے تھی؟‘

Published: undefined

ابتدائی تفتیش میں کئی سراغوں کو آگے نہیں بڑھایا گیا۔ کچھ گواہوں کے بیانات بدل دیے گئے، کئی دستاویزات کو ’گم‘ قرار دے دیا گیا۔ کپور کمیشن نے اشارہ دیا کہ اگر وقت پر غیر جانب دارانہ جانچ ہوتی تو کئی چہرے بے نقاب ہو سکتے تھے۔ سب سے ہولناک حقیقت یہ ہے کہ مقدمے سے متعلق دستاویزات سرکاری آرکائیوز میں جلا کر تباہ کر دی گئیں۔ یہ تاریخ کو قابو میں رکھنے کی کوشش تھی، جس نے مستقبل کی تحقیق اور آنے والی نسلوں سے جواب جاننے کا حق چھین لیا۔ کتاب کا مرکزی خیال یہ بھی ہے کہ 30 جنوری 1948 کو بابائے قوم کے جسم کو تو مار دیا گیا، مگر دہائیوں تک قاتلوں کو جواز ملتا رہا اور گاندھی جی کو محض رسمی خراجِ عقیدت تک محدود کر دیا گیا۔ یہ وہی صورت حال ہے جہاں قاتل نظریہ بن جاتے ہیں اور مقتول صرف مجسمہ رہ جاتا ہے۔

Published: undefined

کیا گاندھی جی تقسیم کے ذمہ دار تھے؟ کتاب اس اساطیر کی تردید کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ گاندھی جی آخر تک تقسیم کے مخالف رہے۔ انہوں نے عہدوں اور سیاسی سمجھوتوں تک کو ٹھکرا دیا۔ تقسیم اُس وقت کی سیاسی قیادت کی ناکامی تھی۔ کتاب بتاتی ہے کہ 48-1947 کے دوران گاندھی جی پر قتل کے 5 حملے ہوئے۔ 20 جنوری 1948 کو دھماکہ کی کوشش ناکام رہی، پھر بھی سیکورٹی نہیں بڑھائی گئی۔ یہ محض لاپروائی نہیں بلکہ گہری بے حسی تھی۔ پاکستان کو 55 کروڑ روپے دینے کے سوال پر بھی گاندھی جی کے اخلاقی اور قانونی اصرار کو ’غداری‘ کے طور پر پیش کیا گیا۔

Published: undefined

گاندھی اور گوڈسے کے درمیان نظریاتی ٹکراؤ واضح تھا۔ گاندھی ایک ہمہ گیر ہندوستان چاہتے تھے، جبکہ گوڈسے مذہبی ملک کی نظریہ بندی سے متاثر تھا۔ گاندھی اخلاقی سیاست اور اقلیتوں کے تحفظ کی بات کرتے تھے، جبکہ گوڈسے اکثریتی غلبہ کی سیاست کا حامی تھا۔ یہی نظریاتی تصادم قتل کی جڑ میں تھا۔

Published: undefined

کتاب یہ سوال بھی اٹھاتی ہے کہ کیا گوڈسے کو عدالت میں نظریاتی پلیٹ فارم دینا درست تھا یا نہیں۔ اس نے جرم قبول کیا، پھر بھی بغیر کسی پشیمانی کے طویل بیانات دیے گئے، جس سے اس کی عظمت سازی کی راہ ہموار ہوئی۔ پولیس اور ایڈمنسٹریشن کی ناکامی بھی واضح تھی۔ ساورکر کے خلاف حالات پر مبنی شواہد تھے، پھر بھی وہ بچ نکلے۔ عدالتی اور تاریخی سچ الگ الگ ہو گئے۔ سردار پٹیل نے بھی ایک ذاتی خط میں، وزیر داخلہ رہتے ہوئے، گاندھی جی کو نہ بچا پانے پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔ دستاویزات کا تباہ کیا جانا جمہوریت، سچ اور تحقیق... تینوں کے خلاف جرم تھا۔

Published: undefined

آخرکار ’لیٹس کِل گاندھی‘ اور اس کا گجراتی ترجمہ محض ایک کتاب نہیں بلکہ تاریخی اصلاح کی کوشش ہے۔ 30 جنوری کو مہاتما گاندھی کو یاد کرنا تبھی بامعنی ہوگا جب ہم مغالطے توڑیں، سازش کو پہچانیں اور سچ کا ساتھ دیں۔ گاندھی کو مارنے والے صرف 1948 میں نہیں تھے... سچ کو دبانے والے ہر دور میں ہوتے ہیں۔ اگر ہم تاریخ کے ساتھ ایماندار نہیں ہوں گے تو گاندھی صرف تقاریر اور خراج عقیدت کی تصویروں تک محدود رہ جائیں گے، اور تب گاندھی ہر دور میں بار بار مارے جاتے رہیں گے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined