
علامتی تصویر / اے آئی
اکیسویں صدی کو طویل عرصے تک سائنسی ترقی، ڈیجیٹل انقلاب اور تیزی سے بڑھتے ہوئے سیکولر رجحانات کا زمانہ قرار دیا جاتا رہا۔ یہ دعویٰ بھی بڑے اعتماد کے ساتھ کیا گیا کہ جدیدیت کے ساتھ مذہب انسانی زندگی سے غیر متعلق ہو جائے گا۔ مگر عالمی حقائق اور مستند اعداد و شمار اس مفروضے کو درست ثابت نہیں کرتے۔ آج بھی مذہب انسانی معاشروں میں ایک طاقتور فکری، اخلاقی اور سماجی قوت کے طور پر موجود ہے اور بعض حوالوں سے اس کی اہمیت پہلے سے زیادہ نمایاں ہو چکی ہے۔
پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق 2020 میں عالمی آبادی تقریباً 7.8 ارب تھی، جو 2026 تک بڑھ کر 8.1 تا 8.3 ارب کے قریب پہنچ چکی ہے۔ اس آبادی کا بڑا حصہ آج بھی کسی نہ کسی مذہبی شناخت سے وابستہ ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق دنیا کی تقریباً 84 تا 85 فیصد آبادی مذہب سے جڑی ہوئی ہے، جب کہ 15 تا 16 فیصد افراد خود کو غیر مذہبی یا غیر وابستہ قرار دیتے ہیں۔
Published: undefined
اعداد و شمار کے مطابق عیسائیت دنیا کا سب سے بڑا مذہب ہے، جس کے پیروکاروں کی تعداد 2020 میں تقریباً 2.3 ارب تھی، جو عالمی آبادی کا 28.8 فیصد بنتی ہے۔ یورپ، امریکا، افریقہ اور لاطینی امریکا میں عیسائیت کی موجودگی صدیوں پر محیط تاریخی، ثقافتی اور تبلیغی عوامل کا نتیجہ ہے۔ اگرچہ عددی اعتبار سے اس کے پیروکاروں میں اضافہ ہوا ہے، مگر عالمی تناسب کے لحاظ سے اس کا فیصد قدرے کم ہوا ہے، جسے بعض ماہرین مغربی دنیا میں سیکولرائزیشن سے جوڑتے ہیں۔
اسلام تقریباً 2.1 ارب پیروکاروں کے ساتھ دنیا کا دوسرا بڑا مذہب ہے اور عالمی آبادی کا تقریباً 25.6 فیصد حصہ اس سے وابستہ ہے۔ حالیہ برسوں میں اسلام کو دنیا کا سب سے تیزی سے پھیلنے والا بڑا مذہب قرار دیا گیا ہے۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ اسلام کی طرف بڑھتا ہوا رجحان صرف روایتی مسلم معاشروں تک محدود نہیں بلکہ یورپ، امریکا، آسٹریلیا اور دیگر مغربی خطوں میں بھی نمایاں ہے، جہاں ہزاروں افراد ذاتی مطالعے اور فکری جستجو کے بعد اسلام قبول کر رہے ہیں۔
Published: undefined
اسلام قبول کرنے والوں کے بیانات کے مطابق اس رجحان کی بنیادی وجہ اسلام کا واضح اور سادہ تصورِ توحید ہے—ایک خدا، بلا شریک، بلا واسطہ۔ جدید انسان، جو پیچیدہ مذہبی تصورات اور فکری الجھنوں سے بیزار نظر آتا ہے، اس سادگی میں ذہنی اور روحانی سکون محسوس کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلام کا مکمل ضابطۂ حیات ہونا، قرآن مجید کا فکری اسلوب، اخلاقی وضاحت، انسانی مساوات اور عالمی اخوت کا تصور بھی ان افراد کو متاثر کرتا ہے جو اپنی زندگی میں مقصد اور استحکام کی تلاش میں ہوتے ہیں۔
ہندو مت دنیا کا تیسرا بڑا مذہب ہے، جس کے پیروکاروں کی تعداد تقریباً 1.2 ارب یا عالمی آبادی کا 14.9 فیصد ہے۔ یہ مذہب بنیادی طور پر بھارت، نیپال اور جنوب مشرقی ایشیا میں مرکوز ہے۔ ہندو مت کسی ایک عقیدے تک محدود نہیں بلکہ فلسفوں، رسومات اور روحانی تصورات کا ایک وسیع مجموعہ ہے۔
Published: undefined
بدھ مت کے پیروکاروں کی تعداد تقریباً 324 ملین بتائی جاتی ہے، جو عالمی آبادی کا لگ بھگ 4.1 فیصد ہے۔ مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیا میں اس مذہب کی گہری جڑیں ہیں تاہم بعض خطوں میں اس کی عددی حیثیت مستحکم یا قدرے کم ہوئی ہے۔
دنیا میں ایک بڑا طبقہ ایسا بھی ہے جو خود کو کسی مذہب سے وابستہ نہیں سمجھتا۔ غیر مذہبی یا ’رلیجیسلی ان-ایفیلیٹڈ‘ افراد کی تعداد تقریباً 1.3 ارب ہے، جن میں ملحد، لاادری اور وہ افراد شامل ہیں جو کسی مذہبی ادارے سے وابستہ نہیں مگر ذاتی روحانیت پر یقین رکھتے ہیں۔ یورپ، شمالی امریکا اور مشرقی ایشیا میں یہ رجحان زیادہ نمایاں ہے، جسے ماہرین سماجی تبدیلی اور ادارہ جاتی مذہب سے فاصلے کے تناظر میں دیکھتے ہیں، نہ کہ مکمل طور پر ایمان کے خاتمے کے طور پر۔
Published: undefined
ان بڑے مذاہب کے علاوہ دنیا میں دیگر مذاہب اور فرقے بھی کروڑوں انسانوں کی زندگی کا حصہ ہیں۔ سکھ مت، یہودیت، جین مت، بہائی مذہب، تاؤ مت، کنفیوشس مت، شنٹو اور زرتشتیت جیسے مذاہب کے مجموعی پیروکاروں کی تعداد تقریباً 170 ملین کے قریب ہے۔
اگر مذہب کی تاریخ اور موجودہ عالمی رجحانات کو یکجا کر کے دیکھا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ مذہب، خصوصاً توحید پر مبنی مذاہب، انسانی زندگی کے بنیادی سوالات کا جواب فراہم کرتے رہے ہیں۔ اسلام میں توحید محض ایک عقیدہ نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری، انسانی مساوات اور جواب دہی کا سرچشمہ ہے۔ یہی تصور انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ وہ صرف معاشرے کے سامنے نہیں بلکہ ایک اعلیٰ اور عادل خدا کے سامنے بھی جواب دہ ہے۔
Published: undefined
حقیقت یہ ہے کہ جدید دنیا میں مذہب کا کردار ختم نہیں ہوا بلکہ اس کی نوعیت تبدیل ہوئی ہے۔ آج کا انسان وراثت میں ملے ہوئے عقائد کے بجائے شعوری انتخاب کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اسلام، عیسائیت، بدھ مت یا غیر مذہبی شناخت—ہر سمت میں یہ تلاش دراصل معنی، مقصد اور سکون کی تلاش ہے۔
عالمی مذہبی منظرنامہ یہی بتاتا ہے کہ انسان جدید ترین سائنسی اور مادی ترقی کے باوجود روحانی سوالات سے دستبردار نہیں ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ مذہب، اور خصوصاً توحید پر مبنی فکر، آج بھی عالمی مباحث کے مرکز میں ہے اور مستقبل میں بھی انسانی معاشروں کی فکری سمت پر اثر انداز ہوتی رہے گی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined