فکر و خیالات

عطیات تنازعہ: رام کی سرزمین پر بڑا گھوٹالہ...پورنیما ایس ترپاٹھی

رام مندر کے نذرانوں میں مبینہ خردبرد کے معاملے نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایس آئی ٹی کی تحقیقات، ٹرسٹ کے عہدیداروں کے استعفے، نگرانی کے نظام اور سیاسی ذمہ داری پر بحث تیز ہو گئی ہے

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>

علامتی تصویر / اے آئی

 

19 جون کو نریندر مشرا نے ایک چونکا دینے والا انکشاف کیا۔ مختلف ٹی وی چینلوں کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کے رکن، مندر تعمیراتی کمیٹی کے چیئرمین اور وزیر اعظم نریندر مودی کے سابق پرنسپل سیکریٹری نرپیندر مشرا نے ایودھیا کے رام مندر کے لیے موصول ہونے والے نذرانوں کی چوری کو ’کھلا ڈاکہ‘ (دن دہاڑے ڈکیتی) قرار دیا۔ ظاہر ہے کہ اس بیان کے بعد سنگھ پریوار میں بے چینی پیدا ہونا فطری تھا۔

تاہم ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ’پریوار‘ کے تمام حلقے اس نقصان پر قابو پانے کی کوشش میں یکساں دلچسپی نہیں رکھتے، جو بڑے پیمانے پر ہونے والی مالی بے ضابطگیوں (بعض رپورٹوں کے مطابق کئی سو کروڑ روپے) اور اس کے بعد نرپیندر مشرا کے انٹرویو کے نتیجے میں شروع ہوئی ہے۔

Published: undefined

اگرچہ ’شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ‘ کا قیام 2019 میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد حکومت کی جانب سے عمل میں آیا، لیکن اس کے متعدد ارکان سنگھ پریوار سے وابستہ ہیں اور ان کی وفاداری پر کوئی شبہ نہیں کیا جاتا۔ ملک اور بیرونِ ملک سے عقیدت مندوں کے عطیات سے تقریباً دو ہزار کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے اس مندر نے پورے نظریاتی اور سیاسی حلقے میں غیر معمولی جوش و خروش پیدا کیا۔ خواہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی ہو، رام جنم بھومی تحریک کی قیادت کرنے والی وشو ہندو پریشد، ’پران پرتشٹھا‘ کی تقریب (22 جنوری 2024) میں مرکزی کردار ادا کرنے والی راشٹریہ سویم سیوک سنگھ ہو، یا پھر کروڑوں ہندو عقیدت مند۔ مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ نے بھی اس موقع کو غیر معمولی اہمیت دیتے ہوئے اسے تہذیبی اور ثقافتی فتح کے ایک تاریخی لمحے کے طور پر پیش کیا۔

میڈیا میں زبردست تشہیر اور حکومت کی بھرپور مہم کے باعث یہ حیرت کی بات نہیں کہ مندر کو غیر معمولی توجہ اور بھاری مقدار میں نذرانے حاصل ہوئے۔ تاہم اسی کے ساتھ اس نے مندر کے انتظام و انصرام کی ذمہ داری سنبھالنے والے بعض افراد کی دیانت داری کو بھی کسوٹی پر لا کھڑا کیا۔ یہ سمجھنا درست نہیں ہوگا کہ معاملہ صرف اُن آٹھ افراد تک محدود ہے جنہیں اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) نے گرفتار کیا ہے۔ گرفتار شدگان میں رام شنکر یادو عرف ٹنّو یادو بھی شامل ہیں، جو ٹرسٹ کے جنرل سیکریٹری چمپت رائے کے ڈرائیور اور قریبی ساتھی رہے ہیں اور جن کے پاس مندر کے نقد رقم گننے والے کمرے کی چابیاں موجود تھیں۔ ان کے علاوہ ٹنّو یادو کے بھتیجے منیش یادو، جو نقدی گننے والے شعبے میں تعینات تھے، اور سابق ٹرسٹی انل مشرا کے رشتہ دار انوکلپ مشرا اور لوکیش مشرا بھی شامل ہیں، جو روزانہ نقدی گننے کے عمل میں شریک رہتے تھے۔

Published: undefined

اطلاعات کے مطابق جنوری 2025 میں مہا کمبھ کے دوران نذرانوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ بعد ازاں 13 دسمبر 2025 کو منعقدہ ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں ٹرسٹ نے بتایا کہ 30 نومبر 2025 تک نذرانوں اور دیگر ذرائع سے مجموعی طور پر 4,575 کروڑ روپے وصول ہو چکے ہیں۔

جون 2026 کے پہلے ہفتے میں بعض اندرونی مخبروں (وسل بلوورز) نے نذرانوں میں ملنے والی قیمتی اشیا کی منظم اور مسلسل لوٹ مار کا انکشاف کیا۔ ایک سابق اکاؤنٹنٹ، جسے 2021 میں حسابات میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرنے پر ٹرسٹ سے نکال دیا گیا تھا، نے بتایا کہ ٹرسٹ میں نذرانے کے طور پر ملنے والے سونے، چاندی اور زیورات کا باقاعدہ حساب ہی نہیں رکھا جاتا تھا۔ اس کے بعد سندھی برادری کے ایک گروپ نے دعویٰ کیا کہ ان کی جانب سے نذرانے میں دی گئی چاندی کی 200 اینٹوں کی رسید بارہا مطالبہ کرنے کے باوجود آج تک انہیں فراہم نہیں کی گئی۔ ان انکشافات کے بعد حوصلہ پا کر نیپال کے شہر جنک پور میں واقع جانکی مندر کے مہنت نے بھی کہا کہ انہیں آج تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ مندر کی جانب سے ٹرسٹ کو عطیہ کی گئی قیمتی دھاتوں کا آخر کیا بنا۔

Published: undefined

یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ اتنی سخت حفاظتی نگرانی، جس میں تقریباً 1600 سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے نگرانی اور اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی جانب سے نقد نذرانوں کی گنتی کا انتظام بھی شامل تھا، کے باوجود اتنے طویل عرصے تک خردبرد کا یہ سلسلہ آخر کیسے جاری رہا۔ ٹرسٹ کے جنرل سیکریٹری چمپت رائے نے ابتدا میں اس "چوری" کو معمولی قرار دینے کی کوشش کی، لیکن جب معاملہ ان کے قابو سے باہر ہونے لگا تو انہوں نے استعفیٰ دے دیا، اگرچہ ان کے استعفے پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ ٹرسٹ کو بالآخر یہ تسلیم کرنا پڑا کہ پولیس کی مدد سے بعض ملازمین کے گھروں سے 80 لاکھ روپے برآمد کیے گئے۔ اس کے باوجود کوئی ایف آئی آر درج نہیں کرائی گئی، تاہم ٹرسٹ کی درخواست پر اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی تشکیل کردہ اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) اپنی عبوری رپورٹ پیش کر چکی ہے۔

لکھنؤ کے ذرائع کے مطابق، ایس آئی ٹی کی ابتدائی رپورٹ میں خردبرد کی رقم 200 کروڑ روپے سے زیادہ بتائی گئی ہے۔ اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والی اس مالی بے ضابطگی سے ٹرسٹ کے سینئر ارکان، بلکہ وزیر اعظم کے دفتر کی لاعلمی کا امکان بہت کم دکھائی دیتا ہے، کیونکہ مندر کی تعمیر اور ٹرسٹ کے انتظامی معاملات میں وزیر اعظم کا دفتر مسلسل سرگرم رہا ہے۔ ان حقائق اور وزیر اعظم کے ساتھ نریندر مشرا کی قربت کو دیکھتے ہوئے یہ ماننا بھی مشکل ہے کہ انہیں اس گڑبڑ کی کوئی اطلاع یا معمولی سی بھی بھنک نہ لگی ہو۔ اگرچہ سرکاری طور پر نریندر مشرا تعمیراتی کمیٹی کے چیئرمین ہیں، لیکن سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ان کے عہدے کا عنوان ان کے حقیقی اثر و رسوخ کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔ ٹرسٹ کے خزانچی گووند گری اور سابق ٹرسٹی انل مشرا کے کردار کے بارے میں بھی مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ اگرچہ چمپت رائے اور انل مشرا اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے چکے ہیں، تاہم ان کے مستقبل کے بارے میں حتمی فیصلہ اتوار، 5 جولائی کو ہونے والی ٹرسٹ کی میٹنگ میں متوقع ہے۔

Published: undefined

گھوٹالہ جس وقت منظرِ عام پر آیا، وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے کسی بھی اعتبار سے موزوں وقت نہیں تھا۔ اتر پردیش میں اگلے سال کے آغاز میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں، ایسے میں اپوزیشن کو اسے ایک بڑا انتخابی مسئلہ بنانے کا موقع مل گیا ہے۔ بی جے پی کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو اس سیاسی بحران پر جلد از جلد قابو پانا ضروری ہے، اور موجودہ حالات میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس مشکل سے نمٹنے کی ذمہ داری اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے کندھوں پر آ گئی ہے۔

اگرچہ دہلی میں موجود بی جے پی کی اعلیٰ قیادت انہیں زیادہ پسند نہیں کرتی، لیکن یہ اب بھی ایک معمہ ہے کہ ٹرسٹ نے تحقیقات کی قیادت کے لیے انہی سے رجوع کیوں کیا۔ رام مندر کی تعمیر میں یوگی آدتیہ ناتھ کا کوئی نمایاں کردار نہیں تھا، اور "پران پرتشتھا" کی شاندار تقریب میں بھی ان کا کردار محض رسمی نوعیت کا دکھائی دیا۔ ایودھیا میں رام مندر تحریک پر نظر رکھنے والے متعدد افراد کا خیال ہے کہ یوگی اس موقع کو پرانے حساب چکانے یا دہلی کی قیادت کے ساتھ جاری کشمکش میں اس گھوٹالے سے سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

Published: undefined

لکھنؤ کے سینئر صحافی اور بی بی سی کے سابق نامہ نگار رام دت ترپاٹھی کہتے ہیں، "چونکہ مندر براہِ راست وزیر اعظم کے دفتر اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی نگرانی میں تھا، اس لیے اگر یوگی آدتیہ ناتھ کو بے ضابطگیوں کا علم بھی ہوتا تو بھی وہ پہلے زیادہ کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ لیکن اب جبکہ یہ گھوٹالہ سب کے سامنے آ چکا ہے، وزیر اعظم کا دفتر اور سنگھ چاہتے ہیں کہ یوگی اس معاملے کو سنبھالیں۔"

رام دت ترپاٹھی کے مطابق، ’’گورکھپور مٹھ، جس کے سربراہ یوگی آدتیہ ناتھ ہیں، 1949 سے ہی رام مندر تحریک میں پیش پیش رہا ہے، لیکن جب رام مندر ٹرسٹ تشکیل دیا گیا تو انہیں مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔ 'پران پرتشتھا' کے موقع پر بھی یوگی کی موجودگی محض رسمی تھی۔ اب وہ اس کا حساب برابر کریں گے۔‘‘

Published: undefined

ایودھیا سے شائع ہونے والے اخبار جن مورچہ کی مدیر سمن گپتا کا ماننا ہے کہ اب اس معاملے کو دبانا ممکن نہیں رہا۔ ان کے بقول، "ٹرسٹ پر باہر سے آنے والے افراد کے غلبے کو لے کر مقامی لوگوں میں پہلے ہی خاصی ناراضی پائی جاتی تھی۔ جیسے جیسے بنیادی ڈھانچے کی ترقی ہوئی اور زمینوں کی قیمتیں بڑھیں، مقامی باشندوں کو محسوس ہونے لگا کہ وہ باہر سے آنے والوں کے مقابلے میں پیچھے رہ گئے ہیں۔"

سوال اٹھانے والوں کو شبہ ہے کہ آیا اس گھوٹالے کی پوری حقیقت کبھی سامنے بھی آ سکے گی؟ کیا واقعی مالی لین دین کی مکمل چھان بین ہو پائے گی، اور کیا بااثر افراد کو سزا مل سکے گی؟ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس گھوٹالے نے وزیر اعظم کے دفتر کو مندر کے انتظامی معاملات پر اپنی گرفت مزید مضبوط کرنے کا ایک بہانہ فراہم کر دیا ہے۔ وہ یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ آخر نرپیندر مشرا نے ٹرسٹ کے روزمرہ انتظامی امور سنبھالنے کے لیے ایک ’پروفیشنل سی ای او‘ کی تقرری کی تجویز کیوں پیش کی؟ کیا وہ محض اپنے اعلیٰ حکام کی خواہشات کا اظہار کر رہے ہیں؟

سنگھ کے بعض عہدیدار نجی گفتگو میں یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس گھوٹالے نے لاکھوں عقیدت مندوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے اور سنگھ کی شبیہ کو نقصان پہنچایا ہے۔ تاہم جب ان سے یہ پوچھا جاتا ہے کہ کیا بھارتیہ جنتا پارٹی کو اس کی سیاسی قیمت چکانی پڑے گی، تو وہ اس سوال کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ مجموعی تاثر یہی ہے کہ ’’لوگ آخرکار معاف کر دیں گے اور وقت کے ساتھ سب کچھ بھول جائیں گے۔‘‘

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined